اے این پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی

اے این پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی

  

عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے اور اُن تمام عہدوں سے دستبردار ہو گئی ہے جن پر اس کے ارکان تعینات تھے، اے این پی کے سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا ہے کہ کچھ جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے اتحاد کو استعمال کرنا چاہتی ہیں۔پارٹی اجلاس میں شوکاز نوٹس کا جائزہ لیاگیا،جس کے ذریعے اے این پی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شوکاز نوٹس سیاسی جماعتوں کے اندر دیئے جاتے ہیں پی ڈی ایم سیاسی جماعت نہیں، سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں شوکاز نوٹس بھیج کر ہمیں دیوار سے لگایا گیا۔پنجاب میں سینیٹ کے انتخابات بلا مقابلہ ہونے پر بھی وضاحت ہونی چاہئے تھی۔ لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں اتحاد ہو گیا تو اس کی وضاحت بھی آنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کے لئے دو امیدوار تھے، مسلم لیگ(ن) کے امیدوار پر پیپلزپارٹی کو تحفظات تھے ان پر پی ڈی ایم کے اندر بات چیت ہونی چاہئے تھی، جب ایسا نہیں ہوا تو ہم نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا، اس بارے میں پی ڈی ایم کے اجلاس میں پوچھا جاتا تو ہم جواب دیتے، تمام پارٹیوں کو موقع دیا جاتا بجائے اس کے ہمیں شوکاز نوٹس بھیج دیا گیا۔جن اغراض و مقاصد کے لئے پی ڈی ایم قائم کی گئی تھی اب اسے ان سے دور لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیاسی اتحاد وقتی سیاسی ضرورتوں کے پیش ِ  نظر محدود مدت کے لئے بنتے ہیں، ماضی میں جتنے بھی اتحاد بنے وہ سب کے سب اپنے مقاصد حاصل کر کے یا ان کے بغیر ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے۔ جو جماعتیں اتحاد بناتی ہیں وہی ایک ایک کر کے اس سے علیحدہ بھی ہو جاتی ہیں، اِس لئے آج اگر اے این پی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے تو کسی کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہئے، کل کلاں کوئی دوسری جماعت بھی اتحاد کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے، لیکن چند مہینوں کے لئے ہی سہی اے این پی بہرحال اس اتحاد کا حصہ رہی تو اس نے ان مقاصد سے اتفاق کیا تھا،جس کے لئے یہ قائم ہوا تھا۔ اب اگر وہ سمجھتی ہے کہ دوسری جماعتیں ان مقاصد سے دور ہٹ رہی ہیں تو اس نے علیحدگی ہی مناسب سمجھی  اس کا بھی اسے حق ہے، جہاں تک شوکاز کا تعلق ہے اس کے بارے میں تو شاید خاقان عباسی واضح کر چکے ہیں کہ مقصد صرف وضاحت حاصل کرنا تھا اگر اتنی سی بات پر تعلقات ختم کئے جا سکتے ہیں تو اسے صرف زود رنجی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے پی ڈی ایم کی قیادت سے بعض دوسرے سوالات بھی اٹھا دیئے ہیں اگر مناسب سمجھا جائے تو ان کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے تاکہ عوام الناس کے ذہنوں میں بھی اگر کوئی شکوک پیدا ہوئے ہیں تو رفع ہو جائیں۔اے این پی کو اعتراض ہے کہ پنجاب میں سینیٹ کے بلا مقابلہ انتخابات کے لئے پی ٹی آئی کے ساتھ معاملہ کیا گیا، اس کا جواب تو مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو دینا چاہئے لیکن جو بات واضح ہے اور سب کو نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس انتخاب میں تین جماعتوں کے سینیٹر منتخب ہوئے۔تحریک انصاف کے پانچ، مسلم لیگ(ن) کے پانچ اور مسلم لیگ(ق) کا ایک۔ موخر الذکر جماعت کو ایک نشست اِس لئے ملی کہ تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو مسلم لیگ(ق) کی پنجاب اسمبلی میں عددی اکثریت ایسی نہیں تھی کہ  وہ اپنا ایک بھی امیدوار منتخب کرا سکتی۔ مسلم لیگ(ن) کو بلا مقابلہ بھی اتنی ہی انتخابی نشستیں ملیں جتنی انتخابی مقابلے کی صورت میں بھی اسے مل جاتیں۔تحریک انصاف نے اپنے حصے کی ایک نشست مسلم لیگ(ق) کو دے کر ایثار کا مظاہرہ کیا اور ایک اتحادی کا تعاون حاصل کرنے اور اسے پختہ تر کرنے کے لئے یہ کوئی بڑا ایثار  بھی نہیں تھا۔اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ ہر کسی کو اس کے حصے کے مطابق ملا،اگر مسلم لیگ(ن) کو عددی اکثریت سے زیادہ ملا ہوتا تو اسے سودے بازی سے تعبیر کیا جا سکتا تھا،لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا،اِس لئے پنجاب کے بلامقابلہ انتخابات کا سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف کے الیکشن سے موازنہ کرنا ”تیلی رے تیلی تیرے سر پر کوہلو“ والی بات ہے۔ دونوں کا موازنہ بنتا نہیں ہے، پھر بھی مسلم لیگ(ن) اگر وضاحت کر دے تو جہاں کہیں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں وہ بھی دور ہو جائیں گے۔ لاڑکانہ میں جے یو آئی اور تحریک انصاف کا اتحاد تھا، تو اس کا جواب بھی جے یو آئی دے سکتی ہے،لیکن اے این پی نے علیحدگی کا اعلان پہلے کر دیا ہے اور جواب بعد میں مانگ رہی ہے، بہتر ہوتا کہ وہ اتحاد میں رہتی اور پھر جواب طلب کرتی۔ اب جب راستے جدا ہی ہو گئے تو پھر کیسا شوکاز اور کیسی وضاحتیں؟اب سیاسی جماعتیں آزاد ہیں وہ جو بہتر سمجھتی ہیں وہ کریں۔

شوکاز تو پیپلزپارٹی سے بھی طلب کیا گیا ہے اور اس کے مختلف رہنما بھی اپنے اپنے انداز میں اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔کوئی کہہ رہا ہے کہ شوکاز تو سرکاری ملازمین سے طلب کیا جاتا ہے، کسی کا فرمان ہے کہ اس کی حیثیت ردّی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ بعض رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہم خاموش ہیں اگر ہم نے زبان کھولی تو بہت سے راز فاش ہو جائیں گے۔ ایسی بیان بازیوں سے لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی اڑان کے لئے تیار ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس پر بھی کسی کو حیرت نہیں ہو گی اتحاد ہمیشہ ایسے ہی بحرانوں سے دوچار رہتے ہیں اور یہ اتحاد کوئی انوکھا اور نرالا اتحاد نہیں تھا اور نہ  اس کے اندر کوئی ایسی مقناطیسی کشش تھی کہ جماعتیں غیر معینہ مدت تک آپس میں جُڑی رہتیں۔ ایک جماعت الگ ہو گئی باقی بھی علیحدگی کا حق استعمال کر سکتی ہیں۔ اے این پی کی علیحدگی سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ سیاسی جماعتوں کا کلچر ابھی اتنا مضبوط نہیں ہوا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کیا جائے۔ پی ڈی ایم کے نام سے جو جماعتیں اتحاد باقی رکھیں گی اگر وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جدوجہد کرتی رہیں اور عوام کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہیں کہ وہ اعلیٰ ترین سیاسی مقاصد کی خاطر اکٹھی ہوئی ہیں  تو عوام پھر بھی ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا اور یہ سیاسی اتحاد وقت سے پہلے ہی بکھر جاتا ہے تو بھی اس میں پی ڈی ایم کے مخالفین خصوصاً  حکومت کے لئے شادمانی و مسرت کا کوئی موقع نہیں، کیونکہ پی ڈی ایم کی ناکامی اور انتشار کا مطلب حکومت کی کامیابی نہیں ہے،حکومت کو بہرحال اپنے اعمال کا دفتر عوام کے سامنے کھول کر رکھنا ہو گا اگر حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نظر آنے والے اقدامات نہیں کرتی تو پی ڈی ایم بھلے سے ختم ہو جائے، عوام کی نظروں میں حکومت کی پذیرائی میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -