تعلیمی ادارے بند، طلباء کی تعلیم کا نقصان!

تعلیمی ادارے بند، طلباء کی تعلیم کا نقصان!

  

حکومت نے تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کر دی ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے مطابق یہ فیصلہ کورونا کی تیسری لہر سے متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے اور اس کے لئے صوبوں سے بھی مشاورت کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک تعلیمی اداروں میں 19اپریل سے پڑھائی شروع ہو جائے گی، سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے اعلان کیا کہ سندھ میں تعلیمی عمل22اپریل سے بحال ہو گا، تاہم نویں سے بارہویں جماعت تک کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ ادھر بلوچستان حکومت نے تعلیمی ادارے بند نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جہاں شاید کیسز میں کمی ہوئی ہے۔این سی او سی کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی تیسری لہر زیادہ تیزی سے پھیلی اور خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ دوسرے یہ بھی اچھی خبر نہیں کہ اس لہر کے دوران بچے بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی فیڈریشن نے پھر اس مخالفت کی اور ان کے مطابق پورے تحفظات کے ساتھ تعلیمی اداروں کو کھلنا چاہئے، کہ نہ صرف بچوں کی تعلیم کا حرج ہو گیا اور ہو رہا ہے، بلکہ بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب سے کورونا کی وبا شروع ہوئی تب سے تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہوا، بندش کے دوران آن لائن تعلیم سے بھی مسئلہ حل نہ ہوا کہ اس سے کم ہی طلباء و طالبات مستفید ہو سکے۔ طلباء و طالبات خصوصاً چھوٹی کلاسوں والے بچوں پر نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں کہ گھر میں بند رہ کر پڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس سلسلے میں جو تضاد پایا جاتا ہے وہ تحفظ اور تعلیم کے حوالے سے ہے،جان ہے تو جہان ہے۔اگر بچے تعلیمی اداروں سے انفیکشن لے کر گھر پہنچے اور مریضوں کی تعداد قابو سے باہر ہوتی جائے تو پھر بندش کو برداشت تو کرنا پڑے گا۔ احتجاج کرنے والوں کو اپنے اردگرد سے آنکھیں بند نہیں کر لینی چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -