بھٹو تاریخ میں زندہ تو ہے!

بھٹو تاریخ میں زندہ تو ہے!
بھٹو تاریخ میں زندہ تو ہے!

  

زمانہ جیسی مرضی کروٹیں بدل لے، کچھ بھی ہو، لیکن ماضی ضرور یاد رہتا ہے اور ہم جیسے صحافتی مزدوروں کوتوواقعات ہی چین نہیں لینے دیتے۔ ایسے ہی جب مارچ اختتام کی طرف مائل بہ پرواز ہوتا ہے تو اپریل سے متعلق یادیں بھی تازہ ہو جاتی ہیں۔اپریل 1977اور پھر 4اپریل 1979ء ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کے بہت ہی اہم مہینے اور ایام ہیں۔ ہر دو مہینوں نے ملک کی تاریخ کے رخ ہی تبدیل کر دیئے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے بھی یہی دن اہم اور تاریخی ہیں۔ اپریل 1977ء میں ہونے والے واقعات نے نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کے اختتام کی راہ ہموار ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے 4اپریل 1979ء کا سانحہ بھی پیش آیا، جب پو پھٹنے سے پہلے ان کو پھانسی دے دی گئی اور پھر دن نکلنے سے قبل ہی ان کی تدفین بھی ہو گئی، ہمیں یہ دن اور ان سے جڑے واقعات بہت اچھی طرح یاد ہیں، بلکہ ذہن و دل پر نقش ہیں۔ +

1977ء کے انتخابات، پی این اے(پاکستان قومی اتحاد) کا قیام اور بھٹو مخالف تحریک کے بھی سلسلہ وار گواہ ہیں، ہم نے اپریل کا ذکر کیا تو اس سے قبل ایک بات پھر سے دہرا دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے وقت ہم روزنامہ ”مساوات“ میں تھے، اس اخبار میں مساوات ورکرز یونین کا قیام عمل میں آیا تو ہم اس کے پہلے منتخب صدر ہوئے۔ حنیف رامے وزیر بن گئے اور ان کی جگہ میاں محمد اسلم کے سپرد اخبار کا انتظام ہو گیا، کارکنوں کی شکایات اور جائز حقوق کے حوالے سے میاں اسلم سے بات ہوتی رہتی تھی اور بعض مالی معاملات کے حوالے سے وہ بے بسی کا اظہار کرتے کہ مساوات کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو تھیں، بہرحال ہمارے پُرزور مطالبے کی روشنی میں میاں اسلم نے ذوالفقار علی بھٹو سے وقت لے لیا، ہمارے لئے دس سے پندرہ منٹ مختص ہوئے تھے۔ یہ ملاقات گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی، میرے ساتھ مسعود سلمان، خواجہ غلام حیدر، وجاہت ڈار اور برادرم الطاف احمد قریشی بھی تھے۔ ملاقات شروع ہوتے ہی بھٹو صاحب نے کہا مطالبات چھوڑو جو مانگتے ہو مل جائے گا، انہوں نے میاں اسلم سے کہا سب مطالبات منظور کر لو، ہمیں خیال آیا، شائد بھٹو صاحب کے پاس وقت نہیں، لیکن حیرت ہوئی، جب انہوں نے یہاں بات کو ختم کیا تو ساتھ ہی مخاطب ہوئے۔

سنو، میں نے یہ اخبار روزگار دینے کے لئے نہیں نکالا، اگر ایسا ہی ہوتا تو میں دنیا کے تین چار ملکوں سے بیک وقت اجرا کر سکتا تھا یا پھر کوئی فیکٹری لگاتا جس سے بہت لوگوں کو روزگار مل جاتا، میں نے یہ اخبار اپنی پالیسیوں کی تشہیر کے لئے نکالا ہے، آپ لوگوں کا فرض ہے کہ ان پالیسیوں کی بات کریں، اجاگر کریں، ہم نے عرض کیا کہ آپ درست فرماتے ہیں، اور ہم ایسا کر بھی رہے ہیں، لیکن پارٹی ترجمان ہونے کی وجہ سے کچھ مشکلات بھی ہیں۔ انہوں نے ہماری بات سنی اور کہا آپ کو پورا حق ہے کہ حکومتی غلطیوں کی نشان دہی کریں اور اپنی سمجھ کے مطابق تجاویز بھی دیں، مسعود سلمان ہمارے فلسفی دوست نے تفصیل سے عرض کیا کہ اس راہ میں بھی پارٹی ہی رکاوٹ بنتی ہے تو انہوں نے کہا میں آپ حضرات کو کھلی اجازت دیتا ہوں کہ آپ تنقیدکریں تاہم ذاتیات سے گریز کیا جائے۔ پھر انہوں نے کہا "Look Young man I want to live in the History" اور آج جب میں غور کرتا ہوں تو یقین آ جاتا ہے کہ قد آور شخصیت جو کہے اس پر عمل بھی ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب بھرپور اقتدار میں تھے، جب احمد رضا خان قصوری کے والد کو گولی ماری گئی اور وہ جاں بحق ہو گئے، احمد رضا خان نے جو پارٹی کے ان بنیادی طالب علم رہنماؤں میں ایک تھے، جنہوں نے ابتدا ہی سے بھٹو کا نعرہ بلند کیا، یہ بھی راشد بٹ، امان اللہ خان، فاروق بیدار، آفتاب گل اور دوسرے طالب علم رہنماؤں کے ساتھ تھے جنہوں نے بھٹوکو لاہور کے لارڈز ریسٹورنٹ میں مدعو کیا تھا(بعض نام رہ گئے، معذرت) تاہم یہی احمد رضا پارٹی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعض وجوہ کی بناء پر باغی ہو گئے تھے (شاید وہ وزیرخارجہ بننا چاہتے تھے) بات طویل ہو جائے گی مختصر یہ کہ جب وہ ایف آئی آر لکھو انے گئے اور خود بھٹو کا نام بھی لیا تو پولیس کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

ایس، ایس پی، وکیل خان خود آ گئے اور کوشش کی کہ ایسا نہ ہو سکے لیکن احمد رضا قصوری مصر رہے اور پھر بھٹو ہی کی اجازت سے یہ ایف آئی آر سول لائنز تھانہ میں درج ہوئی، جو اس وقت”سیل“ کر دی گئی، مجھے خود وکیل خان (مرحوم) نے بتایا تھا کہ انہوں نے بھٹو صاحب سے مل کر درخواست کی تھی کہ ایف آئی آر کھول کر مقدمہ کی باقاعدہ تفتیش کرا لی جائے، تاکہ یہ معاملہ ختم ہو، بھٹو صاحب نے زور دے کر کہا ”کیا ضرورت ہے، میں نے کیا کیا ہے، جو مجھے خوف ہو“، تاہم سردار وکیل خان کی بات درست ہوئی اور یہی ایف آئی آر اور مقدمہ ان کی موت کا ذریعہ بن گیا تھا، طوالت سے گریز کرتے ہوئے عرض کروں کہ بھٹو صاحب نے تاریخ میں زندہ رہنے کی جو بات ہم سے کی تھی اس پر ثابت قدم بھی رہے، انہوں نے ہر قسم کی تجویز مسترد کر دی، مقدمہ کا مقابلہ کیا اور سزا سننے کے بعد سے پھانسی گھاٹ تک ثابت قدم رہے، سر نہ جھکایا، حالانکہ اس دوران کئی ایسی پیشکشیں بھی تھیں کہ وہ مستقل طور پر جلاوطنی اختیار کر لیں، لیکن وہ نہ مانے اور تختہ دار پر جھول گئے۔ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے بہت کہانیاں ہیں، سزا پر عمل کرانے والوں، جیل حکام اور کئی اور ملازموں نے اپنی یادداشت کے بل پر آخری ایام کا ذکر کیا اور طرح طرح کی کہانیاں بیان کیں، بعض حضرات نے تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بھٹو موت سے خوفزدہ تھے، میں وکالت تو نہیں کرتا لیکن ان کے یہ الفاظ بھی تو تاریخی ہیں، "Finish It"

یہ گزارشات یادوں کے سہارے یوں لکھنا پڑیں کہ آج ان کی جماعت پر دغا بازی اور مُک مُکا کے الزام ہیں۔ اس کا فیصلہ وقت کر دے گا تاہم بھٹو کی کتاب میں ایسا مُک مُکا نہیں تھا اور وہ اپنے قول کے مطابق تاریخ میں زندہ ہیں، لیکن ان کے ورثا (جماعتی بھی) نے تو کورونا کے خوف سے جلسے بھی منسوخ کر دیئے، حالانکہ یہی حضرات گلگت، بلتستان کے انتخابی عمل میں کورونا کی فکر کئے بغیر مہم چلاتے رہے، اللہ بھٹو کی روح کو سکون دے۔

مزید :

رائے -کالم -