مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے تجارت ناممکن

مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے تجارت ناممکن
مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے تجارت ناممکن

  

حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے وطن ِ  عزیز میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ہمسایہ ملک بھارت سے چینی درآمد کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کپاس بھی بھارت سے درآمد کرنے اعلان کیا،مگر اگلے ہی روزوفاقی کابینہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے تک بھارت سے تجارت سمیت دیگر امور میں تعلقات بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا……اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر بھارت کے ساتھ تجارت نہیں ہوگی۔ اس سے غلط تاثر جائے گا کہ ہم کشمیر کو نظر انداز کرکے بھارت سے تجارت شروع کریں۔ کشمیر کو حق خود ارادیت دئیے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات نارمل نہیں ہو سکتے۔جب تک مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی حیثیت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پر بحال نہیں ہوتی، اس وقت تک کوئی تجارت نہیں ہوسکتی۔

بھارت نے قیام پاکستان کے بعد اس کے ساتھ ہمسایہ دوست ملک کی حیثیت سے رہنے، اس کی آزادی و خود مختاری تسلیم کرنے اور اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے بجائے دانستہ طور پر کشمیر  کا مسئلہ پیدا کر کے بگاڑ کی بنیاد رکھی۔اس بگاڑ کی بنیادی وجہ ایک سوچ ہے۔بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان نے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو کاری ضرب لگائی ہے، اسی لئے بھارت کی انتہا پسند ہندو قیادت نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی بنیاد رکھی اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر انگوٹھا رکھ کر پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے اور اسے لق و دق صحرا میں تبدیل کرنے کی سازش کی۔ یہ سازش وہ کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر ہی بروئے کار لا سکتا تھا،چنانچہ اس نے مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق قبول کرنے کے بجائے اسے متنازعہ بنا دیا اور تصفیہ کے لئے یواین سلامتی کونسل میں جا پہنچا، تاہم سلامتی کونسل نے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کیا اور بھارت کو مقبوضہ وادی میں رائے شماری کے اہتمام کی ہدایت کی۔ بھارت نے اس کے برعکس مقبوضہ وادی پر اپنا تسلط مستقل کرلیا اور بھارتی اٹوٹ انگ ہونے کی گردان شروع کر دی، جس کے بعد کشمیری عوام نے مزاحمت اور بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 

پاکستان نے شروع ہی سے اصولی موقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دے کر حل کیا جائے، جبکہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کشمیر پر نہ صرف اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، بلکہ پانچ اگست 2019ء کو اس نے مقبوضہ وادی کی دفعات 370، اور 35 اے والی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے جموں اور لداخ میں تقسیم کیا،پھر انہیں باقاعدہ بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنالیا۔اس مرحلے پر وزیراعظم عمران خان کا مؤقف بالکل واضح رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا ہرگز حصہ نہیں اور مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل ہونا ہے،چنانچہ بھارت کے پانچ اگست کے اقدام کے خلاف خود وزیراعظم نے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اور علاقائی فورموں سے رابطے کئے اور کشمیری عوام کی آواز کے ساتھ آواز ملاتے ہوئے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق پُرامن حل کے لئے کردار ادا کرنے کا تقاضا کیا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی پاکستان بھارت سازگار تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ منسلک کیا اور عالمی برادری سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ مسئلہ حل کرانے کا تقاضا کیا۔ انہی کی کال پر دنیا متحرک ہوئی۔ 

بھارت نے آج بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کرکے کشمیری عوام کو محصور کر رکھا ہے،جو ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ا س کے باوجود بھارتی فوجوں کی مزاحمت کرکے اور اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر جدوجہد آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے جذبہ سے سرشار ہیں۔ اس بھارتی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ وادی میں پیدا کی گئی اس کی خوف و دہشت کی فضا میں ہماری جانب سے بھارت کے ساتھ تجارت اور چینی و کپاس کی درآمد کا فیصلہ کرنا کشمیری عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے، ان کا جدوجہد آزادی کا سفر کھوٹا کرنے اور کشمیر پر پاکستان کا دیرینہ اصولی اور ٹھوس موقف غارت کرنے کے مترادف ہوتا۔یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم نے بھی معاملے کی نزاکت کا فوری احساس کرتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سمری مسترد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے کسی قسم کی تجارت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید :

رائے -کالم -