تعلیم کی اہمیت اورپاکستان

تعلیم کی اہمیت اورپاکستان
تعلیم کی اہمیت اورپاکستان

  

اس کرہ ارض پر زندگی کے ابتدائی دور کا اگر جائزہ لیا جائے توہمیں انسانوں اور جانوروں کے انداز زیست میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہو گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانوں میں ہمہ جہت ارتقاء نظر آتا ہے،جبکہ دیگر مخلوقات ایک ہی ڈگرپرکم وبیش یکساں زندگی گزارتی نظر آتی ہیں۔انسان جنگلوں سے نکلا،اس نے بستیاں بسائیں،شہر آباد کئے۔لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں بنی نوع انسان نے آج کی دنیا کا سماجی،معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ تشکیل دیا،جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔آج ہمارے آسمان تلے انسانوں اور جانوروں کی زندگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ہمیں کسی طرح کا کوئی مقابلہ ہی نظر نہیں آتا۔انسان اشرف المخلوقات تو اپنی تخلیق کے وقت بھی تھا،مگر عہد ِ حاضر میں واضح طور پر اس نے دیگر زمینی مخلوقات پر عملی طور پر سبقت ثابت بھی کر دی ہے۔اس انسانی ترقی کی سب سے اہم وجہ تعلیم ہے۔انسان اور جانور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جانوروں میں ہر نفس اپنی زندگی سے خود سیکھتا ہی اور اپنی زندگی کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ اپنے تما م تجربات اور علم بھی اپنے ساتھ اس جہانِ فانی سے لے جاتا ہے،جبکہ انسان اپنا علم اور تجربات ہزاروں،لاکھوں سال سے اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرتے آئے ہیں۔آج جو انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے وہ پوری انسانی تاریخ کا علم لے کر پیدا ہوتا ہے،بالفاظ دیگر بنی نوع انسان نے آج کی تاریخ تک جو علم حاصل کیا ہے وہ آج جنم لینے والے بچے کی دسترس میں ہے۔

قیام پاکستان کے وقت اس سر زمین پر تعلیمی حالت دِگرگوں تھی۔اس ناگفتہ بہ حالت کی ذمہ داری بہت حد تک اور جائز طور پر تاج برطانیہ پر عائد ہوتی ہے،جو کہ کم از کم سوسال کا عرصہ ہندوستان اور موجودہ پاکستان پر ناجائز طور پر قابض رہا۔جب برطانوی راج سے ہمیں آزادی ملی تو برصغیر پاک و ہند میں شرح خواندگی (12%) بارہ فیصد تھی۔اس مجرمانہ غفلت پر نوآبادیاتی نظام قائم کرنے والے برطانیہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان بننے کے بعدایک اچھی بات یہ ہوئی کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے پر خصوصی توجہ دی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہم 60فیصد شرح خواندگی تک پہنچ گئے ہیں۔ذاتی طور پر مجھے یہ دیکھ بہت خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج چاہے کوئی امیر ہو یا غریب،شہری ہو یا دیہاتی، اپنے بچوں کو سبھی زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔اس تعلیمی ذوق و شوق کو دیکھ کریہ امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی شرح خواندگی سوفیصد ہو گی۔

کچھ ذمہ داری اس بابت موجودہ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیم کا شعبہ شاید ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس دور گرانی میں جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے آپ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ کم کر دیں۔تعلیمی وظائف کی منسوخی اور ذہین طلباء کے مخصوص داخلہ کوٹے کا خاتمہ کسی طور پر بھی پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کا سبب نہیں بن سکتا۔

یہ بات درست ہے کہ کرونا وبا کے عالمی پھیلاؤ سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثرہوئی ہیں،مگر مہذب ممالک نے ان معاشی مشکلات کا حل زیادہ تخلیقی انداز میں نکالنے کی کوشش کی ہے۔جاپان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ٹوکیو یونیورسٹی ہے۔جاپانی حکومت نے جب کورونا وبا کے باعث معیشت میں گراوٹ کا رجحان دیکھتے ہوئے ٹوکیو یونیورسٹی اور دیگر درس گاہوں کی کچھ مراعات ختم کرنے اور رعاتیں واپس لینے کا فیصلہ کیا تو اس کے ساتھ ہی اقتصادی قوانین میں کچھ نرمی پیدا کر دی۔اب یونیورسٹیاں اپنے ”بانڈز“ مارکیٹ میں فروخت کر سکتی ہیں۔اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوکیو یونیورسٹی نے30ارب روپے مالیت کے یونیورسٹی بانڈز جاری کئے ہیں۔اس کا مقصد جامعہ کے تحقیقی اور تعلیمی منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔دِل تھام کے سنئے کہ یونیورسٹی اگلے دس برس میں ڈیڑھ سو ارب روپے کے یونیورسٹی بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن پر وہ تقریباً ایک فیصد کے قریب اپنے صارفین کو سود بھی ادا کرے گی۔حاصل شدہ رقم سے تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔ذہین طلباء کو زیادہ تعداد میں وظائف دیئے جائیں گے۔ جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آن لائن تعلیمی پروگرام جاری کئے جائیں گے۔

اس تذکرے کا مقصد ٹوکیو اور اوساکا یونیورسٹی کا پنجاب یونیورسٹی یا جامعہ کراچی سے تقابل نہیں ہے،بلکہ امکانات کا جائزہ لینا ہے۔جو قومیں تعلیم کو اہم سمجھتی ہیں، اگر ان کو تدریس کے شعبے میں مختص بجٹ سے کٹوتی کی ضرورت پیش آئے تو وہ کوئی متبادل بھی تلاش کرتی ہیں۔ہماری موجودہ حکومت کی طرح طلباء کے وظائف منسوخ کر کے انہیں دربدر بھٹکتا نہیں چھوڑ دیتی ہیں۔سمجھدار والدین اپنے بچوں کو پیٹ کاٹ کر بھی زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔خود روکھی سوکھی کھا کر بھی اپنی اولاد کو علم کی دولت سے سرفراز کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتے نہ رہ جائیں۔ ریاست کا اپنے شہریوں کے ساتھ بھی وہی رشتہ ہوتا ہے،جو والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہاں مجھے لاطینی امریکہ کی پہلی نوبل انعام یافتہ ماہر تعلیم، سفارت کار اور شاعرہ گبریلا مسترال یاد آ رہی ہیں۔ بلاشبہ ہسپانوی شاعری کو مسترال نے ایک نیانسوانی لہجہ عطا کیا،مگر ان کا اصل عالمی تعارف ماہر تعلیم کے طور پر ہی ہے۔اسی حیثیت سے انہوں نے متعدد بار لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کو خطاب بھی کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ان کی شاعری کو ہسپانوی زبان سے براہِ راست اردومیں ترجمہ کرنے کاشرف حاصل کیا ہے جسے لاہور سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ ایک پرائمری سکول میں پڑھانے سے زندگی کا آغاز اور تادم مرگ دنیا بھر میں تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول رہنے والی اس نیک دل خاتون نے کیا خوبصورت بات کہی،کہ انسانی تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ آزادی اورتہذیب کا حصول صرف اور صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔دوسرا راستہ ہمیں حیوانیت اورجنگل کی طرف واپس لے جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -