چھتری، ملتانی مخدوم اور روسی وزیر خارجہ

چھتری، ملتانی مخدوم اور روسی وزیر خارجہ
چھتری، ملتانی مخدوم اور روسی وزیر خارجہ

  

روسی وزیر خارجہ کی آمد پر اسلام آباد میں بارش ہو رہی تھی بہت رومان پرور موسم تھا، مگر ملتانی مخدوم کو بھلا کہاں معلوم تھا کہ یہی موسم ان کے گلے پڑ جائے گا اور سوشل میڈیا پر ان کی وہ درگت بنائی جائے گی جو شاید آج تک کسی وزیر کی نہیں بنی۔ مخدوم صاحبِ استقبال کے لئے وزارت خارجہ کے افسروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ موجود تھے۔ جن میں وہ بھی شامل تھے جنہوں نے اعلیٰ افسروں اور خود وزیر خارجہ کے لئے چھتریاں پکڑی ہوئی تھیں برا ہو روسی وزیر خارجہ کا جو جہاز سے نکلے تو انہوں نے اپنی چھتری خود پکڑی ہوئی تھی۔ اتنی دور سے انہیں چھتری پکڑے دیکھ کر بھی ہمارے ملتانی مخدوم کی عقل نہیں جاگی کہ اپنے خادم کے ہاتھ سے چھتری خود پکڑ لیتے۔ بہترین سفارت کاری تو یہ ہوتی کہ روسی وزیر خارجہ کی چھتری خود پکڑ کے انہیں گاڑی تک لاتے مگر ایسی کرشماتی ذہانت عام تام دستیاب نہیں ہوتی، تاہم یہ تو آداب میزبانی کا تقاضا تھا کہ اپنی چھتری بھی مصاحب سے لے کر خود پکڑتے تاکہ مہمان کو یہ احساس نہ ہوتا کہ میزبان ان پر اپنی امارت ظاہر کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کو وزارتِ خارجہ کا خاصا تجربہ ہے ویسے بھی وہ خود کو موجودہ حکومت کا شہ دماغ سمجھتے ہیں۔ سفارت کاری میں یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ مہمان کی عادات، مزاج، پسند و ناپسند اور عزت و احترام کا پورا خیال رکھا جائے۔ روسی وزیر خارجہ کو تو شاید جہاز میں بیٹھے یہ علم ہوا ہوگا کہ اسلام آباد میں بارش ہو رہی ہے۔ اپنے ملتانی مخدوم تو اسلام آباد میں بنفسِ نفیس موجود تھے اور موسم کا مزا لے رہے تھے کیا انہیں یہ منصوبہ نہیں بنانا چاہئے تھا کہ اس موسم میں مہمان شخصیت کو متاثر کیسے کرنا ہے، پہلی بات ہی یہ ذہن میں آنی چاہئے تھی کہ بارش ہو رہی ہے، انہیں اس سے کیسے بچانا ہے چلیں جی مان لیتے ہیں ہمارے مخدوم صاحب اتنے دور اندیش نہیں، تاہم جب جہاز کا دروازہ کھلا اور وزیر خارجہ اپنی چھتری پکڑے سیڑھیاں اترتے نظر آئے تو کیا اس وقت بھی شاہ محمود قریشی یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ چونکہ مہمان اپنی چھتری خود پکڑ کر آ رہے ہیں تو مجھے بھی اپنی چھتری خود پکڑ لینی چاہئے تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ ہم شاہانہ مزاج رکھتے ہیں، مگر کہاں صاحب، ہمارے ملتانی مخدوم روسی وزیر خارجہ کو بھی اپنا کوئی مرید سمجھ بیٹھے۔ انہیں تو یہ عادت ہے کہ سندھی زائرین ننگے پاؤں ان کے آستانے پر حاضر ہوتے ہیں، آندھی ہو یا بارش مجال ہے سر اٹھائیں، وہ مخدوم صاحب کا ہاتھ چومنے، اسے اپنی آنکھوں سے لگانے اور بنا پیٹھ کئے واپس جانے کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں اب ایسی عادات میں رہنے والے ہمارے ملتانی مخدوم اگر یہ بھول گئے کہ انہیں اپنی چھتری آپ پکڑنی چاہئے تھی تو اس میں زیادہ حیرانی والی کوئی بات نہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کم از کم کپتان ہی سے کچھ سیکھ لینا چاہئے تھا۔ انہوں نے اقتدار سنبھالا تو آنے والے سربراہ مملکت کا استقبال اس طرح کرتے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھ جاتے اور مہمان کو ساتھ بٹھا کے یہ احساس دلاتے کہ میرے دل میں آپ کا کتنا احترام ہے۔ مگر کہاں ایک کرکٹ کا کھلاڑی اور کہاں ایک سجادہ نشین، دونوں کی سوچ ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے؟ اب سوشل میڈیا پر اس چھتری والے معاملے کو لے کر نجانے کیسے کیسے تبصرے کئے جا رہے ہیں کوئی کہہ رہا ہے دیکھو ہم دنیا بھر سے کورونا ویکسین کی بھیک مانگ رہے ہیں، روس کورونا ویکسین بنانے والا بڑا ملک ہے اس کا وزیر خارجہ عاجزی و انکساری کی ایک مثال قائم کرتا ہے اور ہمارے وزیر خارجہ غرورونخوت کی گنگا بہا دیتے ہیں کسی کا خیال ہے وزیر خارجہ نے ایٹمی ملک کے شایانِ شان رویہ اختیار کیا ہے اور دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمارے ہاں امراء و وزراء کا ایک رکھ رکھاؤ ہے، پروٹوکول ہے، وہ عام لوگوں کی طرح بارش میں اپنی چھتریاں آپ نہیں اٹھاتے۔ کسی نے دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کی ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں وہ ایک نان شاپ کے سامنے قطار میں چھتری پکڑے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ وہ اگر چاہتے تو اپنے کسی ملازم کے ذریعے نان منگوا لیتے یا پھر اسے چھتری پکڑنے کے لئے ساتھ رکھتے۔ مگر بھائیو! ایسی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہم غریب اور مقروض ملک ضرور ہیں مگر ہمارے حکمران کبھی غریب نہیں رہے۔ ایک عام ایم این اے کے اثاثے بھی اربوں روپے کے نکلتے ہیں، وزراء اور مشیروں کی تو بات ہی کیا ہے وزیر مشیر بن کر تو وہ قوم پر احسان کرتے ہیں اب کیا اس احسان کے ساتھ وہ اپنا کروفر اور جاہ و جلال بھی بھول جائیں، نوکر چاکر بھی چھوڑ دیں اور اپنی جوتیاں آپ سیدھی کریں۔

وزیر خارجہ روس کی آمد پر چھتری والا یہ معاملہ جس طرح سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے یقیناً بیرون ملک بھی اسے بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا ہوگا۔ ہمارے ملتانی مخدوم کی خوب مشہوری ہوئی ہے بلکہ ان کے شاہانہ مزاج کی دھاک بیٹھ گئی ہے جہاں تک ہمارے قومی تشخص اور اجتماعی اخلاقیات کا تعلق ہے تو اس پر یقیناً زد پڑی ہے، تاہم اتنے اہم موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اک ذرا سی بھول نے روس کے وزیر خارجہ کی برسوں بعد پاکستان آمد کو کس طرح دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے، اسے بھی تو دیکھا جائے ملتانی مخدوموں کا ہر قدم چار چاند لگا دینے والا ہوتا ہے۔ ابھی سید یوسف رضا گیلانی کے لگائے ہوئے چار چاند بھولے نہیں تھے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر چاند چڑھا دیا اب اس بات سے اگر کوئی غلط تاثر لیتا ہے کہ شاہ محمود قریشی سفارت کاری کی نزاکتوں کا علم نہیں تو وہ غلط سوچ رہا ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے وزیر خارجہ کی سمت بڑھے، کورونا کی وجہ سے ہاتھ ملانے کی بجائے کہنی سے کہنی ملائی اور ان کی چھتری کے سائے تلے آگے بڑھے۔

اب اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے کہ اپنی چھتری سے نکل کر ان کی چھتری تلے آ گئے۔ کچھ آگے جا کر جب انہیں خیال آیا کہ گڑبڑ ہو گئی ہے تو انہوں نے روسی وزیر خارجہ کی چھتری بند کرا دی اور اپنے خادم سے کہا وہ دونوں پر اپنی چھتری تان دے۔ جہاں تک مخدوم صاحب کے کروفر کا تعلق ہے تو اسے انہوں نے نظریہئ ضرورت کے تابع رکھا ہوا ہے مثلاً ملتان میں جب انہیں اپنے ووٹروں کی یاد ستاتی ہے تو موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر وہ ملتان کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتے ہیں اور اس کی ویڈیو بنوانا نہیں بھولتے ایسے درویش منش ملتانی مخدوم کے بارے میں ایک چھتری والے معاملے کو لے کر اتنی تنقید کرنا ہماری کوتاہ نظری کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -