لاہورپولیس ان ایکشن

 لاہورپولیس ان ایکشن
 لاہورپولیس ان ایکشن

  

اگر آپ کوئی بھی کام نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کریں تو کائنات کی تمام قوتیں آپ کی مددگار ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمیشہ کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ناانصافی کے بے شمارواقعات سننے کو ملتے ہیں وہاں امید اور روشنی پھیلاتی ایسی حقیقی داستانیں سننے کو بھی ضرور ملتی ہیں،جس میں کسی نہ کسی نے مسیحا کا کردار ضرور ہو تا ہے۔پولیس کا محکمہ بھی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر ہر وقت طرح طرح الزامات لگتے رہتے ہیں۔ عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنی پذیرائی نہیں ملتی جتنا ان کے برے کام یا غلطی پر شور مچایا جاتا ہے۔پولیس میں جہاں بہت ہی برے اور بدعنوان افسر و ملازمان بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، وہیں بہادر اور فرض شناس لوگ بھی کم نہیں ہیں کسی بھی ملک اورمعاشرے سے 100فیصد تک جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں، مگران کی روک تھام کے لئے قائم کردہ ادارے اور ان میں تعینات افسران و عملہ اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کرے تو جرائم کی شرح میں واضح کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔ جس معاشرے میں پولیس اپنے فرائض بہتر طورسے انجام دیتی ہے وہاں پر جرائم کی شرح میں کمی ضرور ہوتی ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کرکے امن و امان کی فضابہتر بنانے کے لئے کمپیوٹر و موبائل ایپس کا استعمال کیا جارہا ہے جس سے لاہور پولیس نے کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایک جانب پولیس کی جانب سے حکومت پنجاب کے حکم پر کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ماسک اور لاک ڈاؤن جیسے  SOP پر سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے تو دوسری جانب ڈاکوؤں، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بھی بھرپور انداز سے کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ہم روز پولیس کو بڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ہر وقت کنجوسی سے کام لینے کی بجائے فراخدلی سے انھیں خراج تحسین بھی پیش کرنا چاہیے، رواں سال کے دوران ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال کی ٹیم انوسٹی گیشن پولیس نے  سنگین وارداتوں میں ملوث 2785 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا ہے، قتل،  اقدام قتل،  ڈکیتی و راہزنی سمیت اے کیٹیگری کے 318 جبکہ بی کیٹیگری کے 2467 ملزمان کو پکڑا گیا،  885 عدالتی مفروروں، 591 عادی مجرمان، 383 گینگز کے 1042 ملزمان جن کے قبضے سے 503 موٹرسائیکلیں، 17 کاریں، 36 دیگر وہیکلز شامل ہیں،  ملزمان کے قبضے 1013 موبائل فونز اور 08 لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے ہیں، ملزمان سے 16 کروڑ 22 لاکھ سے زائد کی ریکوری کی گئی ہے،  اسی طرح سی آئی اے لاہور نے ایس ایس پی سی آئی اے  شعیب خرم جانباز کی نگرانی میں صرف مارچ  میں چھ کروڑ اسی لاکھ روپے مالیت کی ریکوری کی  ہے،ڈی آئی جی آپریشن ساجد کیانی  کی ٹیم نے  منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا منشیات فروشوں کیخلاف 2396 مقدمات درج کیے،منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث 2424 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،

ان  کے قبضہ سے 927 کلوگرام چرس برآمد، 35 کلو 256 گرام ہیروئن برآمد کی گئی، 13 کلو افیون، 01 کلو 97 گرام آئس اور شراب کی 28 ہزار 618 بوتلیں برآ کیں ، قماربازی پر 234  مقدمات درج کئے، قمار بازی کے جرم میں 1166 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،  پنجاب حکومت کی ہدایت پر بغیر ماسک چالانوں کا سلسلہ جاری کیا گیا، لاہور میں بغیر ماسک موٹرسائیکل گاڑیوں کی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے 04 روز میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 38 ہزار 676 گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے، 228 گاڑیاں بند  اور SOPکی خلاف ورزی پر روزانہ گاڑیاں بند کی جارہی ہیں۔ درحقیقت کورونا وباء  کی تیسری لہر کے دوران لاہور پولیس شہریوں کے تحفظ کیلئے پْرعزم دکھائی دیتی ہے، کورونا وباء کے دوران فرض کی راہ پر لاہور پولیس کے 04 سپوت پہلے جبکہ ایک گزشتہ روز شہید ہوا ہے،، 114 اہلکار ابھی بھی گھروں میں قرنطینہ پر ہیں، کورونا وباسے 02 ڈی آئی جیز، 03 ایس ایس پیز،07 ایس پی، 19 ڈی ایس پیز بھی متاثر ہوئے ہیں،لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ لاہور میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے بد معاشوں، ڈاکوؤں، جرائم پیشہ، سماج دشمن عناصر، روپوش و اشتہاری ملزمان کی 100فیصد گرفتاری یقینی بنانے کے لئے آپریشن تیز کردیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جو حکمت عملی مرتب کی گئی ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے لاہور پولیس پہلی دفعہ مقدمات کے چالان کی بہترکارکردگی پر ریڈ کیٹیگری سے نکل کر گرین میں داخل ہوئی ہے۔جس کے لیے ان کی پوری ٹیم شاباش اور خراج تحسین کی مستحق ہے۔

مزید :

رائے -کالم -