مقبوضہ کشمیر کا مسلسل محاصرہ، شہری آزادیاں سلب کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت پر تنقید 

  مقبوضہ کشمیر کا مسلسل محاصرہ، شہری آزادیاں سلب کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل ...

  

لندن (این این آئی)لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیاں سلب کرنے اورکورونا وبا کی آڑ میں سخت لاک ڈاؤن پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 149 ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے ایک برس بعد بھی بھارتی حکومت احتساب کا مطالبہ کرنے والوں کو خاموش کرا رہی ہے اور اس نے علاقے میں میڈیا پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی پولیس نے کم از کم اٹھارہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا یا انہیں پوچھ گچھ کیلئے تھانوں میں طلب کیا  رپورٹ میں کہاگیا کہ حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد سے اختلاف رائے کو دبانے کی مزید کوششیں کی گئیں  بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فوجیوں نے سرینگر، پلوامہ اور شوپیاں کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں  فوجیوں نے اندر، مڈورہ، ملہوروچی، چھترا گام اور گلاب باغ کے علاقوں کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی طرف سے حق خودارادیت کے حصول کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی کوششوں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام نبی سمجھی نے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں پاکستان، بھارت اور حریت قیادت کے درمیان سہہ فریقی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا  محمد یوسف نقاش، ایڈوکیٹ دیویندر سنگھ بہل، جموں و کشمیرسالویشن مومنٹ اور تحریک وحدت اسلامی نے اپنے بیانات میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورت حال کا ادراک کرے اورتنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے راہیں تلاش کرے انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات نے علاقے کی سالمیت اور لوگوں کی منفرد شناخت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ادھرانسانی حقوق کے کارکن محمد احسن انتونے ایک خط میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکرپرزوردیا ہے کہ وہ پاکستان کی یونیورسٹوں اور کالجوں میں زیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباء کے مستقبل کو بچانے کے لئے مداخلت کریں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکام کشمیری طلباء کو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سکیورٹی حکام نے مارچ میں 30 کے قریب کشمیری طلباء کوتمام سفری دستاویزات کے باوجود پاکستان جانے سے روک دیا تھا اور اب حال ہی میں جب طلباء نے دبئی کے راستے پاکستان جانے کی کوشش کی تو انہیں پھر دستاویزات کی تصدیق کے بہانے دہلی کے ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل 

مزید :

صفحہ آخر -