چیئرمین نیب، 3محکموں کے سیکرٹریز، ڈائریکٹر کی عدم حاضری پر پی اے سی برہم 

  چیئرمین نیب، 3محکموں کے سیکرٹریز، ڈائریکٹر کی عدم حاضری پر پی اے سی برہم 

  

اسلام آباد(آ ن لائن) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے کمیٹی میں نہ آنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے نمائند ے ڈائریکٹر فنانس کو کمیٹی سے نکال دیا اور کہاچیئرمین نیب خود کو مقدس گائے اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں سیاستدا نوں کے ایک ایک انچ کا حساب رکھتے ہیں خود جو قومی خزانے سے خرچ کررہے ہیں اسکا حساب دینے کوتیار نہیں۔ کمیٹی نے سیکرٹری اسٹیبشلمنٹ، سیکرٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نہ آنے پر بھی ان کے نمائندوں کو اجلاس سے نکال دیا، جبکہ پی ایس ڈی نے وزارت پٹرولیم کے مالیاتی نظام کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس کی تنظیم نو کی ہدایت کردی۔ پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہو ا جس میں مختلف وزارتوں کی طرف سے ہر ماہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد نہ کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کے اجلاس میں نہ آنے پر اراکین پھٹ پڑے، ایاز صادق نے کہا اگر چیئرمین نیب اور سیکرٹری نہیں آتے تو پھر ہمیں مستعفی ہونا چاہیے، چیئرمین کمیٹی رانا تنویرنے کہا چیئرمین نیب آنکھیں کھولیں،انہیں حساب دینا پڑے گا،اگر نہیں دینا تو کسی اور کو پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر بنا دیں۔اس موقع پر بار بار ٹوکنے پر چیئرمین پی اے سی رانا تنویر سابق سپیکر ایاز صاد ق پر بھی برس پڑے جس پر ایاز صادق نے کہا جو معاملہ ذیلی کمیٹی نے طے کردیا اسے منظور کرنے کا اعلان کریں، رانا تنویر حسین نے کہا ایک تو جو سپیکر بن جاتا ہے آدھا پاگل ہوجاتا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا نادہندہ اداروں کی گیس کیوں نہیں کاٹی جاتی،سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہوں کی تقرری کون کرتا ہے ان کی تنخواہ کتنی ہے جو تقرری کرتا ہے اس کی تنخواہ کم اور جس کی تقرری ہوتی ہے اس کی زیادہ ہوتی ہے،گیس کمپنیوں کے لائن لاسز کتنے ہیں ڈیٹا دیا جائے،جس پر پی اے سی نے گیس کمپنیوں کے سربراہوں کی تنخواہ کی تفصیلات مانگ لیں۔ وزارت پیٹرولیم کی تنظیم نو کی ضرورت ہے مالیاتی ڈسپلن نہ ہونے کے برابر ہے ہر شعبہ اور ہر ادارہ خراب ہے ریگولیٹرز آنے سے بھی صورتحال بہتری نہیں ہوئی، اوگرا،نیپرا جیسے ادارے من مانیاں کرتے ہیں، وزارت کی سنتے ہی نہیں۔ایسے ریگولیٹرز اداروں کا احتساب ہی نہیں ہو رہا۔

پی اے سی برہم

مزید :

صفحہ آخر -