”کمپیوٹراورانٹر نیٹ کا طلسماتی کردار“

”کمپیوٹراورانٹر نیٹ کا طلسماتی کردار“

  

قرطبہ یونیورسٹی میں سیمینارسے طلبا و طالبات کا پرمغز خطاب اُ

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے جہاں عالمی سطح پر مختلف زبانوں، انسانی معاشرے اور تعلیم وتدریس کے حوالے سے برق رفتاری سے تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ وہیں اردو زبان وادب کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں گزشتہ دہائیوں میں بڑی تیزی سے وقوع پذیر ہوئی ہیں۔پہلے جو باتیں اور کام جنوں،پریوں اور مافوق الفطرت مخلوق سے داستانوں اور قصے کہانیوں میں کرائے جاتے تھے ان مین سے اکثر وبیشتر کام کمالِ برق رفتاری سے سائنسی ایجادات، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ سے لیا جارہا ہے۔

جہاں پہلے خوش نویس اورکاتب حضرات مہینوں بیٹھے کتابوں اور تحقیقی مقالوں کی کتابت کرتے رہتے تھے وہاں اب یہ کام کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت دنوں اور لمحوں میں ہونے لگا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح ٹیلی ویژن، کیسٹ اور کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے کتاب کی ثقافت کو تغیر آشنا کیا اس سے صرف، نظر ممکن نہیں۔اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے سرِ ورق والی کتابوں سے سجا کتب خانہ اب متروک ہوتا نظر آرہا ہے۔ مستقبل قریب میں کتاب کی جگہ سی ڈی اور لائبریری کی جگہ انٹر نیٹ نظر آئے گا بالکل اسی طرح جیسے نامہ الفت کی جگہ ای میل لے رہی ہے۔

پہیے کے موجد کو مستعد کارکن نے کہا

”وقت بچاکر میں کیا کروں؟“ (سلیم‘ڈاکٹر،2000ء کا استقبال، مشمولہ افکار کراچی، مئی 1999ء،ص10،11)

کمپیوٹر نے ہماری زندگی اور رہن سہن کو یکسر نئے زاویوں سے روشناس کرایا ہے۔ انٹرنیٹ نے معلومات کے حصول اور ادب کی ترسیل کو ایک سیکنڈ کی کسروں تک مختصر کردیا ہے۔ اس وجہ سے دنیا کا کوئی بھی ادیب اور اس کی تخلیقات کرہ ارض کے دیگر لوگوں کے لیے اجنبی اور ناقابل رسائی نہیں رہیں۔ (ادب اور ذرائع ابلاغ از ثناء ہارون، مشمولہ ماہنامہ نمود حرف، لاہور، اپریل 2014ء،ص34)

اب خبر، معلومات اور حقائق پر لگا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ 

الیکٹرانک میڈیا یا ذرائع ابلاغ کا جدید ترین اور تیز ترین جزو ہے۔ ٹی وی چینیلز، موبائل فونز اور انٹرنیٹ ایسی ایجادات ہیں جن کی بدولت کوئی بھی چیز انسان سے ڈرف ایک بٹن دبانے کی دوری پر ہے۔۔۔

ادب اور میڈیا ایک انتہائی زندہ اور فعال موضوع ہے۔میڈیا نہ صرف معلومات کی فراہمی اور معاشرتی تربیت کا کام کرتا ہے بلکہ یہ عوامی امور کا نگرن اور عوام کے حقوق کا امین بھی ہے۔

کاتبوں کا کلچر بھی موجودہ دور میں تبدیلی سے ہمکنار ہوا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں کتاب کی اہمیت کم ہوئی ہے۔ یہاں پہلے ہی کتاب دوستی اتنی زیادہ قابل رشک نہیں تھی رہی سہی کسر انٹر نیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے پوری کردی ہے۔کتاب ہارڈ کاپی یکی صورت ہیں میں اپنی خوشبو سے قاری اور علمی وادبی ماحول کومعطر کرتی ہے۔جیسا کہ بڑی بڑی علمی شخصیات کے پاس بیٹھ کر ان کی صحبت سے فیض اٹھاتے ہوئے علوم وفنون سیکھے جاسکتے ہیں وہ ثمرات ہزاروں میل دور بیٹھے آن لائن مکالمے یا لیکچر سے حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

تخلیق کی اپنی تہذیب ہوتی ہے اور کتاب کی جداگانہ ثقافت۔جو ملک کی تہذیب کے تناظر میں معاصر ثقافتی رویوں کے متوازی ہوتے ہوئے بھی جداگانہ تشخص برقرار رکھتی ہے۔ایسا نہ ہو تو پھر وہ عصری شعور میں تبدیلی نہ لا سکے۔ماضی کے زندہ ورثے کی بات کرتے ہیں تو اس مین کتاب شامل ہوتی ہے۔زندہ تخلیقات کی حامل زندگی کتابیں!جو ماورائے زبان ہوکر ہم سے مکالمہ کرتی ہیں۔ حیات انگیز مکالمہ جو حیات آموز بھی ہوتا ہے۔“ (سلیم‘ڈاکٹر،2000ء کا استقبال، مشمولہ افکار کراچی، مئی 1999ء،ص11)

کمپیوٹر کے انقلاب اور اب انٹرنیت کے جادو نے ادب کی تفہیم کے لیے ایک اور دفتر کھول دیا ہے۔ اس وقت تمام تر شائع شدہ مواد بھی تخلیق کار یا اس کا پبلشر، انٹرنیٹ پر مہیا کرنے میں سرگرداں ہے۔نئی کتاب، نئی ناول، نیا مضمون،نئی نظم، شائع ہونے سے قبل انٹرنیٹ پر دستیاب کرنا اب ایک لازمی امر نظر آرہا ہے۔

انٹرنیٹ اورکمپیوٹر لٹریسی کے حوالے سے گزشتہ دنوں قرطبہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایم فل اسکالرز نے ایک تحقیقی اورعلمی سیمینار کا انعقاد کیا۔ جس میں انٹر نیٹ کے استعمال اور مقالہ لکھنے کے مختلف مراحل میں اس کے ثمرات پر بات کی گئی۔ 

قمر عباس نے ”آن لائن ذریعہ تعلیم“ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، وبا کے دور میں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے حوالے سے گزارشات پیش کیں۔

محمد گلزار نے ”موبائل فون کا آن لائن اسٹڈی میں کردار“ کے عنوان سے موبائل کے فوائد گنواتے ہوئے فیس بک، وٹز ایپ، میسنجر، کیمرہ،نیٹ، ڈاٹا سکیننگ اور ڈاٹا کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے بات کی۔

بلقیس ستار نے آن لائن کلاسز کے فوائد کے ساتھ ساتھ ای بک کے فوائد اور تحقیق میں اس کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔

صابر حسین نے کمپیوٹر نیٹ ورک اور کتاب کلچر سے کمپیوٹر کلچر کی طرف انسانی اور علمی وتدریسی سفر کے حوالے سے گفتگو کی۔

دعا قمر نے کورل ڈرا کے استعمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تحقیقی مقالہ جات میں ڈیزائننگ اور مختلف تصاویر کے استعمال کو کس طرح محفوظ طریقے سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

شبنم بی بی نے اپنی گفتگو میں انٹر نیٹ کے فوائد گنواتے ہوئے اس کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ہارون رشید نے کتاب دوستی کے تناظر میں کتاب کی قدیم شکل اور موجودہ پی ڈی ایف کتاب کا تعارف پیش کیا۔ 

نائلہ عزیز نے اپنے موضوع ”پلیجر ازم۔ ادبی سرقہ“ پر بات کرتے ہوئے تحقیقی اور ادبی حوالے سے مختلف سرقوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ تحقیق میں سرقہ کی روایت کو ہر ممکن طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے اور اس حوالے سے موجود سافٹ وئیر ز کو مزید بہتر بنایا جائے۔عائشہ نے ویب سائٹ کی ضرورت واہمیت اور مختلف ویب سائٹوں پر بات کرتے ہوئے ریختہ ویب سائٹ کا تعارف پیش کیا اور اس ویب سائٹ کی اہمیت کے بارے میں بتایا کہ اس ویب سائٹ پر کس قسم کی کتنی کتابیں اور کن کن موضوعات پر موجود ہیں۔

محمد عدنان شوکت نے ”نیوز پیپر کا ارتقا اور ٹیکنالوجی۔ آن لائن اخبار“ کے موضوع پر تفصیلی بات کی، محمد بلال نے انٹرنیٹ کے انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کمپیوٹر کے حوالے سے موجودہ دور کی ترقی یافتہ شکل کو سراہتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پرویز اقبال نے ”ورڈ اپلیکیشن اورپاک اردو انسٹالر“ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسے اردو زبان وادب کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ نظیر احمد نے کمپیوٹر کے زائد استعمالات کے مضر اثرات کو اپنا موضوع بنایا کہ کمپیوٹر پہ کام کرنے کی زیادتی کس طرح انسانی صحت کو خراب کر رہی ہے۔اور اس سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مدثر حسین نے اردو میں تلفظ کا مسئلہ اور ای بک کے بارے میں مختصر بات کی۔ عائشہ فرید نے ”ای میل اور ڈیجیٹل کیمرہ“ کو اپنا موضوع بنایا اور تحقیقی مقالات میں ان کے استعمال اور فوائد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ای میل نے ہمارے خط وکتابت کے مسائل کو حل کردیا ہے۔ پہلے مختلف قسم کے تحریری مواد کو بھجنے یا منگوانے کے لیے جو کام کئی ہفتوں میں کیا جاتا تھا وہ کام اب لمحوں اور سیکنڈوں میں انجام کو پہنچ جاتا ہے۔

یہ سیمینار انسانی زندگی اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بارے میں آگاہی اور بنیادی معلومات کے تناظر میں ایک ثمر آور سرگرمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

٭٭٭

سی ڈی اور لائبریری کی جگہ جلد انٹر نیٹ نظر آئے گا 

جیسے نامہ ئ اُلفت کی جگہ ای میل لے رہی ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -