”کوروناوباء ہے،احتیاط جس کی شفاء ہے“

 ”کوروناوباء ہے،احتیاط جس کی شفاء ہے“

  

پاکستان میں کوروناوائرس کے وار تو ابھی تک جاری ہیں مگر الحمداللہ صورتحال اس نہج تک نہیں پہنچی جس کا دیگر ایشیائی ممالک کو سامنا ہے۔پہلی لہر کے بعد حکومت پاکستان،خصوصا وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ دانشمندانہ گردانا جا تارہا ہے۔مگر موجودہ لہر میں اچانک صورتحال خراب ہوتی نظر آئی ہے۔جس کی بنیادی وجہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا ہے۔گزشتہ سال کی نسبت رواں سال سے ہی ملک بھر میں عوام نے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کیا جس کے باعث متاثرہ افراد کی شرح میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ترجمان محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں اب تک (تادمِ تحریر) کورونا وائرس کے کیسزکی مجموعی تعداد1لاکھ93ہزار54 ہو گئی ہے۔ اموات کی کل تعداد5ہزار917جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک  3,598,893ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 174,566تک ہو چکی ہے۔ 

موجودہ صورتحال کے پیش نظرپنجاب کے بڑے شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کا فیصلہ خوش آئند ہے مگر کاروباری افراد کیلئے پھر سے ڈراؤنا خواب ہے۔6بجے تک اوقات کار کو مختص کرنے کے فیصلے پر بہت سے خدشات اور مخالفت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے دوست ملک چین سے اب تک 3کھیپ میں تقریبا15لاکھ ویکسین کی خوراکیں حاصل کر لی ہیں جبکہ چوتھی کھیپ بھی جلد پہنچنے والی ہے۔ابتدائی طور پر ملک بھر کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکر ز کو ویکسین لگانے کاعمل شروع کیا گیاتھاجو ابھی تک جاری ہے۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک لاکھوں لوگوں کو کورونا وائرس ویکسینز لگائی جا چکی ہیں۔ کورونا وائرس ویکسین مہم کے دوران اب تک1لاکھ24ہزار سے زائد ہیلتھ کئیر ورکرز کوکووروناوائرس ویکسین کی پہلی جبکہ65ہزار سے زائد دوسری ڈوز دی جا چکی ہے۔اب تک صوبہ بھر میں 60 سال سے زائد عمر کے تقریبا2 لاکھ50ہزار سے زائدافراد کو ویکسینیٹ کیا جا چکا ہے۔ کورونا وائرس ویکسینیشن کے لئے اب تک 6لاکھ سے زائد افراد کورجسٹر کیا گیا ہے۔ 3لاکھ سے زائد افراد کو ویکسینشن کا تصدیقی میسج ارسال کیا جاچکا ہے۔ڈبلیو ایچ اوکی جانب سے ویکسین لگوانے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا گیاہے مگر وباء سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط کو ہی جانا جا رہا ہے۔

بلاشبہ اس آفت سے نبٹنے کیلئے ویکسین لگوانے میں عوام کی رضامندی اور انتظامات پر تسلی کا اظہار بڑی کامیابی ہے۔خصوصا حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین صرف ایکسپو سنٹر میں لگ رہی ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں اور دیگر مراکز میں صرف فرنٹ لائن ہیلتھ کئیر ورکرز کو ویکسین لگ رہی ہے۔60 سال سے زائد عمر کے افراد کو انفیکشن سے بچانے کے لیے ویکسینیشن کا الگ انتظام کیا گیا ہے کیونکہ معمر افراد کو ہسپتالوں میں بلانے سے انفیکشن لاحق ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ حکومتی انتظامات اپنی جگہ مگر عوام الناس کو بھی کورونا وائرس سے بچا ؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے۔

قابل ستائش بات یہ ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے ایکسپو سنٹر میں باسہولت ویکسی نیشن کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے بڑی سہولت رکھی گئی ہے کہ پن کوڈ کے بغیر صرف شناختی کارڈ دکھا کر ہی 70سال سے زائد عمر افراد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔سینٹرز پر آنے والے 65 سال سے زائد عمر افراد کے لئے رجسٹریشن اور پن کوڈ کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ 70 سال سے کم مگر 60 سال سے زائد عمر والے صرف رجسٹرڈ افراد کو ایس ایم ایس پر پن کوڈ موصول ہونے کے بعد ہی ویکسین لگائی جارہی ہے۔شنید یہ ہے کہ حکومت جلد ہی 60سال سے کم شہریوں کو بھی ویکسی نیشن لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہری کورونا ویکسین رجسٹریشن کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر ارسال کریں کیونکہ باقاعدہ رجسٹریشن کے ذریعے پن کوڈ نمبر پر ویکسین لگانے سے آپکے وقت اورحکومتی وسائل دونوں کی بچت ہوگی۔خصوصا لاہور کے دونوں ویکسی نیشن سینٹرز پر صبح 8 سے رات 8 بجے تک ویکسینیشن لگانے کا عمل جاری ہے جہاں معمر افراد کی آسانی کے لیے بہترین انتظامات موجود ہیں۔کچھ روزقبل وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایکسپو سینٹر بعدازاں گریٹر اقبال پارک میں ویکسی نیشن لگوانے بارے سہولیات کا جائزہ لیا تو اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس وقت کے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر،موجودہ کمشنرکیپٹن (ر)محمد عثمان کی جانب سے کی جانیوالی مسلسل کاوششوں کی تعریف کی۔ وریز اعظم عمران خان لاہور کے ایک روزہ دورے پر جب لاہور آئے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے کورونا ویکسی نیشن سینٹر بالخصوص ایکسپو سینٹر کے انتظامات بارے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے حالیہ اقدامات کی تعریف کی اور ویکسین کی نئی کھیپ بارے بھی آگاہ کیا۔یاد رہے کہ اس دورے کے بعد ہی کیپٹن (ر)محمد عثمان کو سیکرٹری صحت سے کمشنر لاہور کے عہدے پر تعینات کردیاگیاتھا۔

میری ذاتی خواہش ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کوبر وقت ویکسین لگوا کر وباء کے کنٹرول میں اپنا کردار ادا کریں۔ ویکسین سے متعلق اڑنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں یہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم پاکستان عمران خان،وزراء اور مشیران نے بذات خود چین سے برآمد شدہ ہی ویکسین لگوائی ہے۔بلاشبہ حکومت پنجاب بالخصوص وزیرصحت یاسمین راشد اور کمشنر لاہور کیپٹن (ر)ڈاکٹر محمد عثمان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ رب کریم سے دعا ہے کہ وباء کی صورتحال سے جلد ازجلد نجات دلائے مگرپھر بھی کورونا وباء ہے،احتیاط جس کی شفاء ہے“۔

٭٭٭

ڈبلیو ایچ اوکی جانب سے ویکسین لگوانے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا گیاہے

 مگر وباء سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط کو ہی جانا جا رہا ہے

حکومتی انتظامات اپنی جگہ مگر عوام کا بھی کورونا سے بچا ؤ کے لئے ایس او پیز پر عمل ضروری ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -