سکولوں کو کھلنے دو   تعلیم تمام سماجی و معاشی امراض کی دوا ہے!

سکولوں کو کھلنے دو   تعلیم تمام سماجی و معاشی امراض کی دوا ہے!

  

کرونا کی وجہ سے دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ بچوں کے سکول بند کرنے پڑے جس سے ان کے نفسیاتی اور ذہنی مسائل میں اضافہ ہوا۔ بچوں کے سیکھنے کا عمل تقریبا رک گیا اور والدین کی پریشانی بڑھنے لگی کیونکہ غریب ممالک میں لوگ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر یہ چیزیں میسر بھی ہوں تو ملک کے بیشتر حصوں میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس وقت پاکستان میں 8 کڑور سے زیادہ تعداد 16 سال سے کم عمر لوگوں کی ہے اور سکولوں کی بندش سے نہ صرف ان کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ ان کے ذہنوں پر منفی اثرات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جب بچے سکول جاتے ہیں تو وہ کلاس روم میں استاد کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں سے سیکھنے کے علاوہ سکول کے سبز ماحول سے ذہنی تقویت حاصل کرتے ہیں جو ان کی شخصیت میں زندگی بھر نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں 2 کڑور سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے اور سکولوں کی بندش سے اس میں کافی حد تک اضافے کا امکان ہے جو ملکی ترقی اور استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ کرونا کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی محدود ہونے اور انٹرنیٹ کلاسز سے اخراجات میں اضافے سے والدین بچوں کو سکول چھوڑنے کے ساتھ کام پر لگا سکتے ہیں۔ اس طرح بچوں کو دوبارہ سکول میں لانا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے جس سے صنفی سطح پر توازن میں منفی تبدیلی، معاشرے کو غیر متزلزل کر سکتا ہے۔ سکولوں کی بندش سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے علاوہ ان کے سیکھنے کی عادت کا خاتمہ شامل ہیں جس سے ان کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، پہلے ہی ہمارے بہت سارے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور کرونا کی بندش سے اس میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جو ہمارے پسماندہ معاشرے میں کسی عذاب سے کم نہ ہو گا۔

عالمی جریدے "دی اکانومسٹ" نے لکھا ہے کہ دنیا میں 45 کڑور سے زیادہ بچے آن لائن کلاسز میں شامل ہونے کے ساتھ بھی مستفید نہیں ہو رہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ کی کم رفتار ہے۔ غریب ممالک میں یہ شرح بہت زیادہ ہے کیونکہ زیادہ آبادی دیہاتوں میں ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی سہولیات سے محروم ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی روشنی میں والدین بچوں کو سکول چھوڑنے اور کام یا شادی کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ عالمی اداروں نے کہا ہے کہ اس تھوڑے عرصے میں 1 کڑور سے زیادہ بچے سکول چھوڑ سکتے ہیں۔ متاثرین میں زیادہ تعداد غریب ممالک کی ہو گی کیونکہ دنیا میں تقریبا 4۔2 بلین بچے ہیں جن میں صرف 4۔0 بلین امیر ممالک جبکہ باقی 2 بلین غریب ممالک میں رہتے ہیں۔

اگر کرونا سے متعلق تمام معلومات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ دنیا میں سب سے کم متاثرین کی تعداد بچوں کی ہے اور ان کو کرونا سے نہایت معمولی خطرہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ بچے کرونا کو آگے منتقل کرنے میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے اور اگر معاشی معاملات روکنے پڑیں تو تعلیم کو سب سے آخر میں بند کیا جاتا ہے اور حالات کی بہتری کے فوری بعد سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو کھولا جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم تمام سماجی، معاشی، نفسیاتی اور سیاسی مسائل کا واحد حل ہے۔ اسی طرح پاکستان میں تعلیم واحد سیکٹر ہے جہاں پر کرونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے مگر ہم پھر بھی تعلیمی اداروں کو بند کرنے پر بضد ہیں جس سے تعلیمی خسارہ پورا کرنے میں شاید کئی سال لگ جائے۔

دوسری طرف اگر سکول کھول دیے جائیں تو اس سے والدین کے انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کی مشکلات کم، والدہ کا بچوں کو سارا دن مصروف رکھنے کی مشکل کے علاوہ بچوں کی نفسیاتی اور جسمانیمسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تمام سکول کلاس سائز کو کم کرنے کے ساتھ بچوں کو احتیاطی تدابیر کی پیروی، ماسک کا استعمال، پانی اور سینی ٹائزر کے علاوہ تمام سہولیات کے بارے میں آگاہی دیں۔ اس کے علاوہ سکول کو صبح، دن اور شام کی تین شفٹوں میں چلایا جا سکتا ہے جس سے بچوں میں فاصلہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر کلاس کے کچھ مخصوص دن یا گھنٹے رکھ دیے جاہیں جس میں وہ استاد اور سکول کے ساتھ رہ سکے۔ اس طرح کے مواقعوں پر بچوں اور والدین کو تربیت دی جاے کہ اس طرح کی مصیبت میں اپنا فرض کس طرح انجام دے کر ذمہ دار شہری کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان جیسے غریب ممالک میں لوگوں کی اوسط سالانہ آمدنی صرف 1400 ڈالر کے برابر اور کرونا سے 1کڑور لوگوں کی نوکری خطرے میں ہے اور اس صورتحال میں ماسک، دستانے، سینی ٹائزر، اچھی خوراک وغیرہ کے اخراجات برداشت کرنا کافی مشکل ہونے کی وجہ سے لوگ احتیاطی تدابیر کو پس پشت کر کے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس معاشی صورتحال میں حکومت کو عاجزانہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ لوگوں سے معاشی تعاون کو یقینی بنائے۔ حکومت اگر کرونا کے خاتمے تک تمام بنیادی ضرورت کی اشیا پر ٹیکس ختم کر کے لوگوں کو ترغیب دے کہ اس تھوڑی رقم کو احتیاطی تدابیر کے لیے استعمال کریں تو اس سے صورتحال میں یقینی بہتری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس چھوٹے قدم سے ہر چیز کی قیمت کم ہونے کے ساتھ ساتھ طلب میں اضافے سے معیشت کے پہیے چلنے شروع ہو جائیں گے جس سے روزگار اور حکومتی آمدنی میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس وقتکرونا کی صورتحال میں اگر پاکستان اپنے بچوں کی تعلیم کو محفوظ کر لیتا ہے تو اس سے ملک کے تمام امراض سے چھٹکارا آسانی سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

اس سلسلے میں فیصلہ سازی بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کرونا کو قابو کرتے ہوئے ہم تعلیم کا پس پشت ڈال دیں تو شاید اس کا نتیجہ کرونا سے زیادہ خطرناک ہو جو ہمارے معاشی اور سماجی مسائل ہمیں عدم استحکام کی طرف لے جائیں۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -