ا ے سی سی اے اورورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان یوم ارض کے عنوان سے ویبی نار منعقد کریں گے

  ا ے سی سی اے اورورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان یوم ارض کے عنوان سے ویبی نار ...

  

لاہور)ّ پ ر) دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) اور ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر-پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف- پاکستان)مشترکہ طور پریوم ارض 2021 منائیں گے اور اس موقع پر ایک ویبی نار منعقد کریں گے جس کا مقصد موسمی تبدیلی سے پیش آنے والے خطرات سے آگاہی کو فروغ دینا، ماحول سے تعلق رکھنے والے اہم مسائل اور اندیشوں پر روشنی ڈالنا اور اْن دشواریوں سے نمٹنے کی غرض سے شہریوں کوباہمی تعاون سے کیے جانے والے اقدامات کے لیے تیار کرنا ہے۔اس بات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہ پیشہ ور اکاؤنٹنٹس کس طرح قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں اوراْنھیں اِس بات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے اور دیکھ بھال کرنے میں مدد کرسکتے ہیں کہ قدرتی سرمائے کے تحفظ سے اْس کی قدر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اِسی کے ساتھ اداروں کی بھی مدد کرسکتے ہیں۔

 کہ وہ زیادہ ماحول سے آگاہی رکھنے والا اور مستحکم ادارہ بنیں،اِن مقاصد کے حصول کے لیے اے سی سی اے اور ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان مشترکہ طور پر ایک ویبی نار منعقد کر رہے ہیں جس کی خاص بات مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اہم راہنماؤں کی شرکت ہے۔اِن راہنماؤں میں اے سی سی اے کے ہیڈ آف سسٹین ایبلٹی جمی گریئر، ڈبلیو ڈبلیو ایف- پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان اور سینئر کنزرویشن سائنٹسٹ ڈاکٹر ایرک  وِکرمانائیکے شامل ہیں۔  سسٹین ایبل کاروباری طریقوں کے فروغ میں ایک پیشے کے طور پر فنانس کے کردار پر زور دیتے ہوئے  اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا:”کسی بھی ادارے کے سسٹین ایبلٹی کی جانب سفر میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اْن کے لیے اِس بات کی فوری ضرورت ہے کہ وہ مالی سرمائے اور قدرتی سرمائے کے درمیان تعلق کو پوری طرح سمجھیں اور اِس بات کا احساس کریں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اْن کے اداروں کو ساکھ،طبعی اور تبدیلی سے تعلق رکھنے والے خطرات میں اضافہ  ہو سکتا ہے۔“اِس کے علاوہ، اے سی سی اے کے ساتھ تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئیڈبلیو ڈبلیو ایف -پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل، حماد نقی خان نے کہا:”ڈبلیو ڈبلیو ایف- پاکستان اور اے سی سی اے پاکستان پہلے بھی پاکستان انوائرنمنٹل رپورٹنگ ایوارڈز (PERA) کے لیے مل کر کام کر چکے ہیں جس کا نتیجہ ملکی کارپوریٹ سیکٹر میں سسٹین ایبل رپورٹنگ اختیار کرنے میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اْن کے ساتھ ایک مرتبہ پھر،علاقائی سطح پر،تعاون کر رہے ہیں تاکہ اپنی کمیونٹیز اور معتوں ں کو درپیش موسم اور ماحول کے سنگین خطرات کے بارے میں مذاکرات کا آغاز کر سکیں۔“عالمی سطح پر، اے سی سی اے سسٹین ایبلٹی کے شعبے میں 1990 کی دہائی کے اوائل سے کام کر رہی ہے اور، اس کے پاس سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کو فروغ دینے کا 20 سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ  سسٹین ایبل کارکردگی میں اضافے لیے کاروباری ادارے بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کے اثرات کے بارے میں شفافیت اور مؤثر طریقے اختیار کریں۔ایسو سی ایشن کے ریجنل ہیڈ برائے پالیسی –مڈل ایسٹ ساؤتھ ایشیا (MESA)عارف مسعود مرزا ایف سی سی اے نے کہا:”سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز (SDG)سے تعلق رکھنے والے مواقع کے حصول اور جانچ، زیادہ پیچیدہ مارکیٹوں میں کام کرنے کے حوالے سے تفہیم – جہاں قدر کی تخلیق کے مرکز میں سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ کے مسائل پائے جاتے ہیں –پیشہ ور اکاؤنٹنٹس کی شمولیت میں بتدریج اضافہ ہو گا۔ لہٰذا، یہ بات قطعی اہم ہے کہ فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو شامل کیا جائے اور اْنھیں تمام ٹولز اور مدد فراہم کیے جائیں۔“یوم ارض 2021ء کے موقع پراے سی سی اے ایک سسٹین ایبلٹی ہب کا آغاز کر رہا ہے تاکہ  دنیا بھر میں موجود فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو انتہائی اہم وسائل اور معلومات تک رسائی فراہم کی جائے اور اْنھیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کھڑے ہوں اور فرق پیدا کریں۔گزشتہ برس، اے سی سی اے نے اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز (SDGs) کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا۔باہمی طور پر منسلک 17 سسٹین ایبل گولز کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے، اے سی سی اے کہتی ہے کہ اِس کا عزم یہ ثابت کرنا ہے کہ اے سی سی اے اور اس کی کمیونٹی، ان میں سے 9 اہم گولز کے حصول میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔اِن 9 اہم گولز میں فنانس اور اکاؤنٹنسی کی معیاری تعلیم تک رسائی بھی شامل ہے جو مصنوعی رکاوٹوں سے پاک ہو، سنہ 2030ء ’نیٹ زیرو‘ کاربن کا اخراج اور عالمی شمولیتی پیشے کی تعمیر کے لیے شراکتی عمل جو اخلاقی، سسٹین ایبل اور کامیاب کاروبار اور معیشتوں کی ترقی میں مدد فراہم کر سکے۔ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ انتہائی غیر محفوظ خطوں میں سے ہیں جہاں پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک دریائی، ساحلی اور شہری سیلابوں کی صورت میں غیر معمولی قیمت ادا کر رہے ہیں اور اِس میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا سیارہ زیادہ گرم ہو رہا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ صرف بنگلہ دیش  میں، ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو سمندری سطح میں اضافے کی وجہ سے منتقلی کا سامنا ہے۔ سری لنکا میں COP-21 پیرس ایگریمنٹ پر سختی سے عمل درآمد، پاکستان میں بلین ٹری سونامی جیسے اقدامات اور سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیے گئے ’مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو‘ وہ چند مثالیں ہیں جوظاہر کرتی ہیں کہ یہ خطہ اس عالمی جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ ایسوسی ایشن اور ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے درمیان تعاون سے خطے میں موجود حکومتوں کو  کارپوریٹ سیکٹر سے زیادہ اعانت کے حصول میں مدد ملے گی کیوں کہ وہ موسمی خطرات سے زیادہ واقف ہوں گے اور ان کی کوششتوں کا زیادہ ادراک کر سکیں گے۔ویبی نار میں شرکت کی غرض سے رجسٹر کرانے کے لیے براہ مہربانی https://bit.ly/EarthDay2021-ACCA-WWF کا وزٹ کیجیے۔

مزید :

کامرس -