جہانگیر ترین 12ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، 3مشیروں کیساتھ بینکنگ کورٹ پیش، منی لانڈرنگ کیس میں بیٹے علی ترین سمیت ضمانت میں 10اپریل تک توسیع

  جہانگیر ترین 12ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، 3مشیروں کیساتھ بینکنگ کورٹ پیش، ...

  

 لاہور (نامہ نگار،نمائندہ خصوصی،نیوز ایجنسیاں)بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 10اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔ بدھ کو بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی جس میں جہانگیر ترین،ان کے بیٹے علی ترین کے علاوہ عامر وارث،رانا نسیم عدالت میں پیش ہوئے۔ بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین،عامر وارث اور رانا نسیم کی عبوری ضمانت میں 10اپریل تک توسیع کر دی۔بینکنگ کورٹ کے جج امیر محمد خان کے رخصت پر ہونے کے باعث کیس میں مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر 3اراکین قومی اسمبلی، 9اراکین صوبائی اسمبلی اور تین مشیر جہانگیر خان ترین کے ہمراہ اظہار یکجہتی کیلئے آئے۔ ارا کین قومی و صوبائی اسمبلی کا تعلق فیصل آباد، جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، لیہ، سرگودھا اور خوشاب سے ہے، ان میں ایم این اے غلام بی بی بھروانہ، غلام احمد لالی، راجہ ریاض، صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال بھی جہانگیرترین کیساتھ تھے۔ اراکین صوبائی اسمبلی میں زوار وڑائچ، نذیر بلوچ، اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا، چوہدری افتخار گوندل، غلام رسول سنگھا، سلمان نعیم او ر ٹکٹ ہولڈر جاد وڑائچ شامل تھے،اظہار یکجہتی کیلئے آنیوالوں میں تین مشیر عبدالحئی دستی، امیر محمد خان اور سابق مشیر خرم لغاری شامل تھے۔ عدالت کے باہر کارکنان نے جہانگیر ترین کے حق میں نعرے بازی اور گل پاشی کی، جہانگیر ترین کی پیشی سے پہلے ان کی رہائشگاہ پراراکین اسمبلی اوررہنماں کی بیٹھک بھی ہوئی۔

ترین پیشی 

 لاہور (نمائندہ خصوصی،نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے میری وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے، میں تو دوست تھا دشمنی کی جا نب کیوں دھکیل رہے ہیں، سب شوگر ملز میں صرف جہانگیر ترین نظر آیا ہے، میرے اور بیٹے کے اکانٹ منجمد کر دیے گئے ہیں، افسوس کا مقام ہے ہم تحریک انصاف سے انصاف ما نگ رہے ہیں، ظلم بڑھتا جا رہا ہے، جو بھی انتقامی کارروائی کر رہا ہے وقت آ گیا ہے اسے بے نقاب کیا جائے، عمران خان انتقامی کارروائی کرنیوالوں کو بے نقاب کریں،میری راہیں تحریک انصاف سے جدا نہیں ہوئیں، 10سال پی ٹی آئی کیلئے خون پسینہ ایک کیا، تحریک انصاف میں شامل تھا اور شامل رہوں گا۔ بینکنگ کورٹ لاہور میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں، مجھ پر ایک یا 2 نہیں 3،3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، ایک سال سے انکوائری چل رہی ہے، میں خاموش بیٹھا ہوں، ملک کی 80 شوگر ملوں میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا،م میرے اور میرے بیٹے کے اکاونٹ منجمد کردیے گئے ہیں، اکاونٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ ہورہا ہے اور یہ کون کررہا ہے؟ میں پوچھتا ہوں آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے، وجہ کیا ہے؟ کون لوگ ہیں جنھوں نے مجھے خان صاحب سے دور کردیا ہے۔ مجھے دور کرنے سے پی ٹی آئی کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، جو بھی یہ سب کررہا ہے، وقت آگیا ہے انہیں بے نقاب کیا جائے۔ آصف زرداری سے ملنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا پی ٹی آئی سے راہیں جدا نہیں ہوئیں، 10 سال سے پارٹی کا حصہ ہوں، میں تو دوست تھا، دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو،  میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے، ظلم بڑھتا جارہا ہے، ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل آباد سے تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے کہا عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں سب سے زیادہ کردار جہانگیر ترین کا تھا، عمران خان نے جہانگیر ترین کی وجہ سے ہی اعتماد کا ووٹ لیا، وزیراعظم کے اردگر بیٹھے لوگ خرابیاں پیدا کر رہے ہیں، وزیراعظم اپنے اچھے دوست کو نہ کھوئیں۔ عمران خان کے ارد گرد کے لوگ جہانگیر ترین کیخلاف سازش کر رہے ہیں جس کا وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر وزیر اعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں جہانگیر ترین پیش پیش تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا جہانگیر ترین جیسے وفادار پارٹی رہنما کیساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اسے فورا بند کیا جائے۔ جہانگیر ترین کیساتھ روا رکھا جانیوالا رویہ دراصل پارٹی کی مجموعی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔

ترین شکوہ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے جہانگیرترین کی حمایت کرنیوالے ارکان کی فہرست تیارکرلی ہے، جہانگیرترین سے رابطے میں رہنے والے ارکین سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے جہانگیر ترین سے رابطے کرنے اور ان کی حمایت کرنیوالوں کی فہرست تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی ارکان اسمبلی کے جہانگیر ترین سے رابطے ہیں اور اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب آج اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے جس میں وہ پنجاب حکومت کی فہرست وزیرا عظم کو پیش کریں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جہانگیر ترین سے رابطے رکھنے والے ارکان اسمبلی سے متعلق فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

فہرست تیار

مزید :

صفحہ اول -