مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکریٹریٹ کی منظوری، مردم شماری کے نتائج سے متعلق پیر کو پھر اجلاس ہو گا

مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکریٹریٹ کی منظوری، مردم شماری کے نتائج سے ...

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کونسل کے مستقل سیکریٹریٹ کی منظوری دیتے ہوئے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر پیر کو دوبارہ ورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا۔ چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت وفاقی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔پنجاب اور خیبر پختونخواکا مردم شماری کے نتائج جاری کرنے، وزیراعلی سندھ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے کو نئی مردم شماری سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مردم شماری کے نتائج سے متعلق وقت مانگنے پرمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیرکو دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں نیپرا کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے صوبے کو 3800 میگاواٹ اضافی بجلی دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بلوچستان میں بجلی کی ایک اور تقسیم کار کمپنی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔مشترکہ مفادات کونسل نے درآمد شدہ ایل این جی کی قیمت طے کرنے سے متعلق تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے معاملات، صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور پی ایس کیو سی اے کے کو بھی وفاق ہی طے کریگا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں نیپراکی رپورٹ 2019-20، اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2020 کی منظوری دی گئی۔اعلامیے میں کہا گیاکہ اجلاس میں پیٹرولیم ریسرچ اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012 میں ترمیم کی منظوری دی گئی جبکہ مشترکہ مفادات کونسل کے پہلے لیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ایل این جی درآمد اور آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 (3) کے نفاذ کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جبکہ کمیٹی وزیر منصوبہ بندی، وزیر توانائی اور معاون خصوصی پیٹرولیم پر مشتمل ہوگی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ کمیٹی صوبوں کی مشاورت سے گھریلوگیس ضروریات کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے اتفاق رائے پیداکریگی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن ملک میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے واحد معیاری ترتیب دینے والا قومی ادارہ ہوگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے اپنے معیارات کالعدم قراردیکرپاکستان سٹینڈرڈ اینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے طے شدہ ہم آہنگی کے معیاراپنائیں گے، معیاری لیبلنگ اور سرٹیفیکیشن مارکس (لوگو) پی ایس کیو سی اے کا خصوصی ڈومین رہے گا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں زکوۃفنڈ کی صوبوں کو منتقلی کے معاملے پر بھی بحث کی گئی اور سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد زکوۃ فنڈ کا حصہ خیبرپختونخوا کو دینے پر اتفاق کیا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل

مزید :

صفحہ اول -