پنجاب یونیورسٹی کو 100بڑی یونیورسٹیز میں شامل کروانا میراخواب ہے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر

  پنجاب یونیورسٹی کو 100بڑی یونیورسٹیز میں شامل کروانا میراخواب ہے، وائس ...

  

 لاہور(نعیم مصطفےٰ سے،تصاویر:ندیم احمد) پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ اس تاریخ ساز مادر علمی کو دنیا کی 100بڑی یونیورسٹیز میں شامل کروانا میرا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے دن رات جدوجہد کر رہا ہوں۔کورونا کے دوران آن لائن ایجوکیشن ایک مجبوری ہے تاہم فزیکل یا فیس ٹو فیس طریقہ تعلیم کا اس سے کوئی موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔آن لائن کلاسز نے طالبعلموں کے کتاب اور استاد کے ساتھ رشتے کو کمزور کیا ہے لیکن دنیا بھر میں وباء نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ با امر مجبوری ہمیں آن لائن ایجوکیشن پر جانا پڑا ہے اس کے باوجود پنجاب یونیورسٹی نے ایک طرف تو سٹوڈنٹس کو تعلیم و تربیت اور تحقیق کے مکمل مواقع فراہم کئے تو دوسری جانب معیار جانچنے کے لئے فول پروف امتحانی نظام بھی متعارف کروایا۔ان خیالات کا اظہار ایشیاء کی تیسری بڑی درسگاہ کے سربراہ نے ”پاکستان“کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر وقار ملک اور خرم شہزاد بھی موجود تھے۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آج سے تین سال قبل پنجاب یونیورسٹی میں ریسرچ کا معاملہ دم توڑ چکا تھا اور تحقیقی کام زیرو تھا لیکن میں نے چارج سنبھالنے کے فوری بعد ریسرچ کو اولین ترجیح قرار دیا اور اپنے رفقائے کار کو ساتھ بٹھا کر اس پر غور و خوض کیا اور ریسرچ ورک یہ کہتے ہوئے شروع کروایا کہ ہم دنیا سے اس معاملے میں خاصے پیچھے ہیں لیکن دوڑ میں شامل ہونے کے لئے ابتدا ضرور کرنی چاہئے 2019ء میں دو ریسرچ آرٹیکلز سے آغاز کیا، 2020ء میں انٹرنیشنل آرٹیکلز کی تعداد 5ہو گئی اور 2021ء میں انٹرنیشنل رینکنگ میں ہم 13تحقیقی مقالے شامل کروانے میں کامیاب ہو گئے اور اب 2022ء میں یہ تعداد 20تک پہنچ جائے گی۔اگر آپ میرے دل کی بات پوچھیں تو میں چاہتا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی 100 جامعات میں شامل ہو جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا کریڈٹ ہے کہ میں نے 50سال بعد ریسرچ کو اس ادارے میں دوبارہ متعارف کروایا اب میری یہ خواہش ہے کہ میں تحقیق کے میدان میں یونیورسٹی کو صف اول کا ادارہ بنا دوں۔پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے اور میرا ہر شخص کو یہ چیلنج ہے کہ ایک کام بھی میرٹ سے ہٹ کر دکھا دے تو ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔میرٹ کہنا آسان لیکن اس پر عملدرآمد نہایت مشکل ہے جسے میں نے یقینی بنایا کیونکہ ہمارے ہاں ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کے لئے کوئی میرٹ نہ ہو اور ہر دوسرے شخص کے لئے میرٹ کا رونا رویا جائے لیکن ہم نے پنجاب یونیورسٹی میں میرٹ کا بول بالا کیا،اگرچہ مجھے اس کی خاصی قیمت چکانا پڑی، شفافیت، قانون کی عملداری،ٹیم ورک اور ساتھیوں پر اعتماد بنیادی پانچ نکات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر میں نے اس مادر علمی کی درخشندہ روایات کو از سر نو زندہ کیا۔اس دوران مجھے رکاوٹوں کا سامنا ضرور کرنا پڑا لیکن ساتھیوں کے تعاون اور روحانی امداد نے میری مشکلات آسانی میں تبدیل کر دیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ میں نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود کوئی چھوٹا بڑا ایک ملازم بھی تبدیل نہیں کیا جنہیں کام نہ کرنے کی عادت پڑھ چکی تھی ان سے کام لیا اور آج پنجاب یونیورسٹی کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہوں۔وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ میں نے ہر شخص سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ پر کوئی غلط کام نہ کرے اگر کرے گا تو احتساب سے بچ نہیں پائے گا، میں نے اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کیا ہے کیونکہ میں بخوبی سمجھتا ہوں کہ عوام کے ٹیکسز سے تنخواہ لیتا ہوں اس لئے ہر وقت خود احتسابی کو بھی تیار ہوں۔ قوانین کے تحت جو ایمرجنسی کلاز مجھے صوابدیدی اختیارات دیتی ہے اس کا کبھی استعمال نہیں کیا ہر کام سینٹ، سینڈیکٹ اور اکیڈمک کونسل جیسے متعلقہ اداروں میں باقاعدہ بحث اور منظوری کے بعد کیا جاتا ہے۔کورونا کے دوران یونیورسٹی کا کیا کردار رہا کے سوال پر ڈاکٹر نیاز کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑے بابے کا رول ادا کیا ہے آن لائن ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ ہمارے ریسرچرز نے کورونا کٹس اور سینی ٹائیزر بنائے، حکومتی ہدایت پر متاثرین کے ہزاروں فری ٹیسٹ کئے گئے، سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے باغبانی، نفسیات اور ابلاغیات کے شعبہ جات نے گھروں میں بیٹھے افراد کی مصروفیت کے لئے مختلف طریقے اپنائے جبکہ سوشل ورک اور سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے گھروں میں راشن پہنچانے کا اہتمام بھی کیا۔ایک سوال کے جواب میں وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ کی ری سٹرکچرنگ کے لئے ہم نے بڑی محنت کی اور مختلف شعبوں کو ری ڈیزائن کر کے کئی حصو ں میں تقسیم کیا اور بعض کو خودمختار فیکلٹی کا درجہ دے کر ڈین بھی تعینات کئے گئے۔جہاں تک یونیورسٹی کے اخراجات کا تعلق ہے تو ہمارے پاس بجٹ کی کوئی کمی نہیں میں نے تمام شعبوں اور اداروں کے سربراہان سے کہا ہے کہ وہ پروجیکٹ بنا کر لائیں پیسے کی فکر نہ کریں سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کی تعلیم و تربیت اور قابلیت میں اضافے کی تمام کوششوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کیپشن

مزید :

صفحہ اول -