پنجاب میں کسانوں سے امتیازی سلوک بند  کیاجائے، ظفر طاہر، محمد یٰسین، محمود الحسن کی  بات چیت،پابندیاں بھی ختم کرنیکا مطالبہ

پنجاب میں کسانوں سے امتیازی سلوک بند  کیاجائے، ظفر طاہر، محمد یٰسین، محمود ...

  

 مظفرگڑھ (نامہ نگار) مرکزی چیئرمین ڈاکٹر محمد رانجھا، مرکزی سیکرٹری جنرل رانا محمد ظفر طاہر، صدر پنجاب میاں محمد (بقیہ نمبر45صفحہ6پر)

یسین سکھیرا، صوبائی سیکرٹری اطلاعات پنجاب رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ،صوبائی سیکرٹری جنرل سید محمود الحسن شاہ اور صدر شمالی پنجاب محمود الحسن چودھری نے کہا ہیکہ سندھ حکومت اپنے کسانوں سے 2 ہزار روپے من کے حساب سے گندم خرید رہی ہے لیکن پنجاب میں خریداری کا عمل ہی شروع نہیں کیا جا سکا، مرکزی دفتر میں کسان  نمائندوں سے ملاقات میں کسان راہنماں نے کہا کہ کسانوں سے برا سلوک کب ختم ہوگا؟ پچھلے سال بھی یوکرین کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا گیا اور ہمارے کسان رل گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائیگا کہ پنجاب کے کسانوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ سندھ حکومت اپنے کسانوں سے 2 ہزار روپے من کے حساب سے گندم خرید رہی ہے لیکن پنجاب میں نہ کسانوں کو باردانہ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان سے گندم خریدی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور، ملتان اور جنوبی پنجاب سمیت تمام اضلاع میں کاشت کار پریشان ہیں، اگر کسانوں سے گندم خریدی ہی نہیں جا رہی تو پھر ضلع وار پابندی کس بات کی ہے۔ یہ انسانی حقوق کے بھی خلاف ہیں، اس موقع پر صدر ضلع لاہور محمد سلیم گجر، صدر ضلع خوشاب راجہ خالق داد، قاضی سرفراز حسین ڈویژنل آرگنائزر ڈیرہ غازی خان، ضلعی صدر مظفرگڑھ حاجی اختر سکھیرا اور دیگر ممبران بھی موجود تھے۔

مطالبہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -