خیبر پختونخوا پولیس جرائم کے ساتھ ففتھ جنریشن وار سے بھی نبرد آزما ہے: ڈاکٹر ثنا ء اللہ 

خیبر پختونخوا پولیس جرائم کے ساتھ ففتھ جنریشن وار سے بھی نبرد آزما ہے: ڈاکٹر ...

  

 پشاور(کرائمز رپورٹر)انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے آج ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں بچوں، عورتوں، خواجہ سراں اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ورکشاپ کا اہتمام پشاور پولیس نے غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے کیا ہے۔ جس میں پشاور پولیس کے اہلکاروں کو بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔ ایس ایس پی پشاور یاسر آفریدی نے خطبہ استقبالیہ میں ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور اس کے مختلف سیشن پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ آئی جی پی ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے ورکشاپ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بنیادی انسانی بالخصوص بچوں، عورتوں، خواجہ سراں اور اقلیتوں کے حقوق کی ضامن ہے اور اس فرض کی کماحقہ ادائیگی کا اندازہ معاشرے کے لوگوں کی مجموعی رسپانس سے لگایا جاسکتا ہے۔آئی جی پی نے کہا کہ صوبے میں بچوں کے تشدد کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ان تمام کیسز میں ملزمان کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ گرفتاریاں ان علاقوں سے ہوئی ہیں جہاں پولیس پہلے جابھی نہیں سکتی تھی۔ آئی جی پی نے کہا کہ ہم مقابلے کے دور میں رہ رہے ہیں۔ جس میں آج کا مقابلہ کل سے کیا جاسکتا ہے اور میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا پولیس اور خیبر پختونخوا کا معاشرہ ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن پر کھڑا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ بچوں پر تشدد کے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے تاہم اب میڈیا کے انقلاب کی وجہ سے رپورٹنگ زیادہ ہورہی ہے، جو پولیس کے لیے رہنمائی کا کام دیتی ہے۔ آئی جی پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پوسٹ ٹرتھ ایرا (Post Truth Era) میں رہ رہے ہیں جہاں دس دس سال پرانی ویڈیوز اور خبریں قصدا چلا کر کنفوریشن پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور کہا کہ پولیس پر مثبت تنقید کا خیر مقدم کرکے اصلاح کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔ آئی جی پی نے کہا کہ وسائل کی کمی اور دیگر مشکلات کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھر پور انداز میں نبھا رہی ہے جسکا اندازہ 42ہزار سے زائد تنازعات کا پر امن تصفیہ، دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب کاروائیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ محکمے میں جزا و سزا کا عمل برابر جاری ہے۔ اور اب تک ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کو مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں، جس کی مثال کسی اور پبلک سیکٹر میں نہیں ملتی۔ آئی جی پی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وہاں پر بالخصوص بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق بحال کردیئے گئے ہیں۔ 29 ہزار اہلکاروں کی تربیت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ صوبے کے مختلف تھانوں میں عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے لیے خصوصی ڈسک قائم کئے گئے ہیں۔ آئی جی پی نے کہا کہ رائٹ مین فار دی رائٹ جاب کے تحت پولیس کی پروفائلنگ کیجارہی ہے اور امید ظاہر کی کہ اس عمل سے پولیسنگ کا معیار مزید بہتر ہو کر عوام کے مسائل کے حل میں مدد فراہم کرے گی۔ آئی جی پی نے کہا کہ تربیت ایک جاری عمل ہے اور پیش آنے والے جدید چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے پولیس کی تربیت بھی جدید اور سائنسی خطوط پر استوار رکھی جائیگی۔ آئی جی پی نے ورکشاپ کے انعقاد پرسی سی پی او،  ایس ایس پی پشاور اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس قسم کے ورکشاپ اور سمینار کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -