صوابی، آفتاب آفریدی جج قتل کیس میں 2 ملزمان گرفتار

      صوابی، آفتاب آفریدی جج قتل کیس میں 2 ملزمان گرفتار

  

صوابی(بیورورپورٹ) ڈی پی او صوابی محمد شعیب خان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ صوابی پولیس نے آفتاب آفریدی جج قتل کیس میں 3 دن کے اندر 2 ملزمان گرفتارکرکے وقوعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کرلی۔انہوں نے بتایا کہ اتوارکی شام پشاور اسلام آباد موٹر وے پر صوابی انٹرچینج سے کچھ فاصلے پر ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا جس میں  انسداد دہشت گردی سوات عدالت کے جج آفتاب آفریدی کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی۔ جس  کے نتیجے میں جج آفتاب آفریدی، اس کی بیوی، بہو اور بائیس ماہ کے پوتے سمیت خاندان کے4افراد موقع پر جاں بحق ہوئے تھے۔ جب کہ ڈرائیور اور گن مین  شدید زخمی ہوئے تھے۔مقتول جج کے بیٹے عبد الماجد نے وقوعہ کی نسبت 06 معلوم اور 4 دیگرنامعلوم افراد کے خلاف تھانہ لاہور میں مقدمہ درج کی۔جس کے مطابق وجہ عناد سابقہ دشمنی بتلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش کے سلسلے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے ریجنل پولیس آفیسر مردان کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ریجنل پولیس آفیسر مردان کی سربراہی میں ڈی پی او صوابی محمد شعیب خان اور اس کی ٹیم نے سائنٹیفک طریقے سے تفتیش شروع کی جس میں ایک مبینہ ملزم عزیز خان عرف عزیزو ولد اسماعیل سکنہ ڈاگ کلے ورسک اور مبینہ ملزم داؤد ولد مغل شاہ سکنہ ماشو بڈھ بیر کو گرفتار کی۔اور ان سے وقوعہ میں استعمال شدہ ایک گاڑی بھی قبضہ پولیس کی گئی ہے۔ملزمان نے دوران انٹاروگیشن وقوعہ کے متعلق تمام حقائق اگل دیے ہیں۔ سردست بقایا ملزمان کے نام صیغہ راز میں رکھے جا رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لئے سرتوڑکوششیں کی جا رہی ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -