ہمدرد نے صحت کی ترقی کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری سمجھا ہے،یاسمین راشد

ہمدرد نے صحت کی ترقی کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری سمجھا ہے،یاسمین راشد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہلک وبا کوویڈ  کے پھیلاو نے پینے کے صاف پانی، حفظان صحت، نکاسی آب اور بقائے صحت کے زریں اصولوں کی اہمیت مزید واضح کر دی ہے۔ آج ہمارا مقصد ایک صحت مند معاشرے کے قیام کو فروغ دینے کے لیے ان ضروریات تک رسائی ہونی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں ان سہولیات کی عدم دستیابی لمحہ فکریہ ہے۔ جس پر پورے معاشرے کو عملی اقدامات لینے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ہمدرد فاونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے ویں بین الاقوامی نونہال صحت کانفرنس کے ابتدائیہ کلمات میں کیا جو ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد فاونڈیشن پاکستان کے مشترکہ تعاون سے عالمی یوم صحت  کے موضوع ایک منصفانہ صحت مند دنیا کی تعمیر کو منانے کے لیے منعقد کی۔ کوویڈ کے پھیلاو کو روکنے کے لیے نافذ العمل حکومتی ایس او پیز کی تعمیل میں کانفرنس کا انعقاد آن لائن بذریعہ روم کیا گیا جس کی میزبانی محترمہ سعدیہ راشد نے ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس سے کی۔مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد  نے ہمدرد پاکستان کے اقدام کے متعلق اپنے ریکارڈشدہ  پیغام میں کہا کہ ہمدرد پاکستان نے ملکی شعبہ صحت کی ترقی کو از خود اپنی ذمہ داری سمجھا ہے جس پر میں ہمدرد فاونڈیشن پاکستان کو  خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ ایسے سیمینار و کانفرنسوں کے انعقاد سے یقینا حفظان صحت کے اصولوں کو اجاگر کرنے میں معاونت ملتی ہے۔ کوویڈ  جیسی وبا کے دور میں انہوں نے نونہال مندوبین سے درخواست کی کہ وہ حکومتی ایس او پیز کی اہمیت و افادیت اجاگر کریں اور کہا کہ ہرایک کی ذاتی کوششوں کے بغیر کوویڈ  کے خلاف کامیابی ممکن نہیں۔عالمی ادارہ صحت کی صوبہ سندھ میں نمائندہ اور کانفرنس کی صدر ڈاکٹر سارہ سلمان نے کہا کہ عالمی ادارہ برائے صحت رجحانات کو مدنظر رکھ کر عالمی یوم صحت کی تھیم تیار کرتا ہے۔۔اپریل کو عالمی ادارہ برائے صحت کے قیام کا دن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کی تھیم کا مقصد دنیا کو منصفانہ صحت مند بنانا ہے جہاں کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ ہوتا ہو اور سب کو صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔ اس موقع پر انہوں نے خوشخبری دی کہ عالمی پوسٹر مقابلے میں ہمدرد ولیج اسکول کی نونہار طالبہ ایشا احمد نے انعام جیتا۔ہمدرد پاکستان کی منیجنگ ڈائریکٹر اینڈ سی ای او فاطمہ منیر احمد نے عالمی ادارہ برائے صحت کے نمائندہ برائے پاکستان ڈاکٹر پلیتا گونارتنا ماہی پالا کا بیان پڑھ کر سنایا جنہوں نے کہا کہ مساوات صحت کا مطلب ہر انسان کو صحت مند زندگی گزارنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -