قصور وارآزاد، سی ای او ہیلتھ ملتان کی پہلی قربانی: ناقص کارکردگی سستی کا الزام 

قصور وارآزاد، سی ای او ہیلتھ ملتان کی پہلی قربانی: ناقص کارکردگی سستی کا ...

  

ملتان (وقا ئع نگار)  پرائیوٹ ہسپتال میں غلط آپریشن کے نتیجے میں 16 افراد کی ضائع ہونے والی بینائی سی ای او ہیلتھ کو لے ڈوبی۔متاثرین کی بروقت داد رسی نا کرنے پر چیف ایگزیکٹو آفسیر محکمہ صحت ملتان کو او ایس ڈی بنادیا گیا۔تفصیل کے مطابق محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے ناقص کارکردگی اور ملتان میں واقع لائیق رفیق ہسپتال میں 16 افراد کی غلط سرجری کے ذریعے بینائی ضائع ہونے پر متاثرین کی بروقت داد رسی کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کیا۔جس پر حکومت نے محکمہ صحت ملتان کے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ارشد ملک کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے او ایس ڈی بنا دیا ہے۔جبکہ سی ای او ہیلتھ کے عہدے کا اضافی چارج ڈاکٹر علی مہدی کے سپرد کردیا گیا۔ واضح رہے لئیق رفیق ہسپتال میں غلط سرجری سے 16 افراد کہ بینائی ضائع ہونے کے واقعہ پر   وزیراعلی پنجاب نے نوٹس لیا۔اور کمشنر ملتان کو حکم مذکورہ واقعہ کہ تحقیقات کا حکم دیا۔کمشنر ملتان نے اس واقعہ کی انکوائری کیلئے محکمہ صحت کے افسران پر مشتمل پانچ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔کمیٹی میں ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق۔ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالھادی۔ڈرگ کنٹرولر شیر شاہ ٹان  عبدالطیف وغیرہ شامل تھے۔جہنوں نے احکامات ملتے ہی لئیق رفیق ہسپتال کا دورہ کیا۔مگر وہاں پہلے سے پنجاب  ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیمیں موجود تھیں۔جہنوں نے مذکورہ ہسپتال کا تمام ریکارڈ قبضے میں لیکر آپریشن تھیٹر کو سیل کردیا۔مگر محکمہ صحت کی ٹیمیں واپس کارروائی کیئے واپس آگئیں۔اور سی ای او ہیلتھ یہ کہتے رہے کہ یہ محکمہ صحت ملتان کی ذمے داری میں شامل نہیں ہے۔لئیق رفیق ہسپتال ہمارا متعلقہ نہیں ہے۔اس کے علاہ محکمہ صحت انتظامیہ نے سرجری کے ذریعے بینائی سے محروم ہونے والے متاثرین کی طبی امداد کیلئے بروقت کوئی تحرک بھی نہیں کیا تھا ادھر لیئق رفیق ہسپتال میں 16 افراد کی سرجری کے ذریعے بینائی محروم ہونے کا معاملہ۔انکھوں سے ہاتھ دھونے والے متاثرین علاج کرانے کیلئے حکومت کیجانب سے مالی امداد ملنے کے منتظر۔جبکہ دوسری جانب ملتان کے انڈسٹریل سمیت بڑے نام معاملہ دبانے کیلئے میدان میں کود پڑے۔ہسپتال کی ساکھ بچانے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کرنے لگے۔معلوم ہوا ہے ملتان کے علاقے میں واقع لیئق رفیق ہسپتال میں 20 مارچ کو ڈاکٹر مشتاق نے ایک ہی روز میں 16 افراد کے آنکھوں کے آپریشن کیئے۔جس کی وجہ سے مذکورہ سولہ افراد اپنی ایک ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگئے۔انکھوں کے غلط آپریشن کرنے اور بینائی سے محروم ہونے پر لیئق رفیق ہسپتال سمیت کسی بھی سرکاری ادارے نے کوئی تعاون نہیں کیا۔جسکی وجہ سے وہ دربدر کے دھکے کھا رہے ہیں۔اور وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔متاثرین اور انکے لواحقین نے کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ انکی مالی طور پر امداد کریں۔وزیر اعلی پنجاب نے جانب سے صرف نوٹس لیا۔اگے کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہمارے گھروں میں حالات خراب ہیں۔علاج کروائیں یا کھائیں۔ذرائع کے مطابق دوسری جانب لیئق رفیق ہسپتال کی ساکھ بچانے کیلئے انڈسٹریل و سیاسی افراد نے بھی اپنا اپنا زور لگانا شروع کردیا ہے۔اور ہیلتھ کیئر کمیشن انتظامیہ پر پریشر دیا جارہا ہے کہ رپورٹ کو گول مول کریں۔ہسپتال کی جگہ تمام تر ملبہ ڈاکٹر و نچلے عملے پر ڈالا جائے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ہسپتال کے سفارشیوں نے لاہور میں ڈیرے ڈالے ہوئے پیں۔اور وہ ہر طرح کا حربہ استعمال کر رہے ہیں۔جس کے ذریعے لیئق رفیق ہسپتال کی ساکھ کو بچایا جاسکے۔

لئیق رفیق

مزید :

صفحہ اول -