انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور بے حس تاجر 

 انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور بے حس تاجر 
 انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور بے حس تاجر 

  

 میرے ایک دوست نے اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ کینیڈا میں گزارا اور زندگی کے بہت سے رمضان بھی کینیڈا میں گزارے ہیں۔ کینیڈا ایک غیر مسلم ریاست ہے اور ہمارے مطابق انہوں نے جنت میں بھی نہیں جانا وہ دوست بتا رہے تھے کہ کینیڈا میں گرین سٹورز کی چین ہے وہاں سے روزمرہ زندگی اور کچن کی  بہت سی اشیاء  دستیاب ہو تی ہیں۔ ان سٹورز کی روزانہ کی سیل لاکھوں ڈالر میں ہے، اس لئے یہ عام دنوں میں بھی بہت کم مار جن پر اشیاء فروخت کرتے ہیں، اسی وجہ سے کینیڈا کے لوگوں کی خریداری کے پسندیدہ ترین سٹور گرین سٹور ہی ہیں، قیمت کا بہت مناسب ہونا اور تمام اشیاء کا ایک ہی چھت تلے ملنا ان کی کامیابی کی اہم وجہ ہے، کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کی بڑی تعداد خریداری کے لئے انہیں سٹورز کا رخ کرتی ہے، اس لئے ان اسٹورز پر حلال کھانوں کی فروخت زیادہ ہے، جیسے ہی رمضان کریم شروع ہوتا ہے ان سٹورز پر زیادہ تر چیزوں پر 40 سے 50فیصد تک رعائتی سیل لگا دی جاتی ہے تاکہ تمام مسلمان آسانی سے روزے رکھ سکیں لوگوں کی بڑی تعداد رمضان سے کچھ پہلے خریداری روک کر رمضان کے شروع ہونے کا انتظار کرتی ہے۔ جیسے ہی رمضان کریم شروع ہوتا ہے تو ان سٹورز کے باہر ایک بڑا بورڈ لگا دیا جاتا ہے کہ رمضان کی خوشی میں تمام اشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی ہے۔

اسی طرح آسٹریلیا سے میرے ایک سورس نے بتایا کہ جس علاقے میں وہ رہائش پذیر ہیں، یہاں پر مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ کہ زیادہ تر سٹورز کے مالک غیر مسلم ہیں۔ جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے تو یہ لوگ بہت سی اشیائے خور و نوش پر40سے 50فیصد تک رعایت کر دیتے ہیں۔ اس کے بقول ان کی مالک کمپنی نے اعلان کر رکھا ہے کہ ہم گیارہ مہینے بہت اچھا منافع کماتے ہیں جو کروڑ ڈالر تک پہنچ جاتا ہے اس لئے رمضان میں بہت سی چیزیں قیمت خرید سے بھی نیچے فروخت کر دیتے ہیں، اسی قسم کی خبریں امریکہ سمیت بہت سے عرب ممالک سے بھی سننے کو ملی ہیں۔اب بات کرتے ہیں وطن عزیز کے تاجروں کی جو ویسے تو سارا سال ہی عوام کو لوٹتے ہیں۔ رمضان کریم میں تو خصوصی پیکیج لگا کر لوٹتے ہیں، ویسے تو حکومتی کرپشن، عدم توجہ، خودپسندی، چور چور، ڈاکو ڈاکو،اور کورو نا نے اشیائے خورونوش جن میں آٹا، گھی،دالوں، چینی،چاول، پھل، سبزیاں، گوشت غرض یہ کہ کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آئے گی، جس کی قیمت میں سو سے چار سو گنا اضافہ نہ ہوا ہو۔

 پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور کا درجہ حاصل ہے۔ آج سے پہلے یہ درجہ پیپلز پارٹی کے پاس تھا۔ ان چار سالوں میں تاجروں نے مہنگائی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ چکن ایک سو پچا س روپے سے چار سو روپے فی کلو،گھی کا ڈبہ آٹھ سو سے چوبیس سو میں فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح تمام اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اگر آپ رزق حلال کماتے ہیں تو پھر بازار کا چکر لگا کر آئیں آپ حواس باختہ ہو جائیں گے۔ اس مہنگائی نے امیر، غریب سفید پوش ہر طرح کے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہے۔ رمضان کریم میں بہت سے سفید پوش دال روٹی کے ساتھ افطاری کرنے پر آگئے ہیں اور بہت سوں کو یہ بھی میسر نہیں، گیس، پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں آئے روز اضافے نے عام آدمی کی زندگی میں بہت سنگین نتائج مرتب کیے ہیں۔تبدیلی کے ان چار سالوں نے ملک کو ایسے بنا دیا ہے، جیسے خدانخواستہ کسی جنگ عظیم سے گزرا ہو۔ برائے کرم ان چار سالوں کو مشکل ترین وقت قرار دے لیں اور اپنے گردو نواح میں نظر دوڑائیں بہت سے سفید پوش آپ کی مدد کے منتظر ہیں۔دنیا میں اس سے بڑی مشکل جنگ عظیم دوئم کے وقت آئی تھی، جب جنگ نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ ہر طرف لاشیں، بھوک، افلاس اور بیماری تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت انسانوں نے ایک دوسرے کی بہت مدد کی تھی،جس کے پاس جو کچھ تھا اس نے اپنے دوستوں اور عزیزو اقارب میں تقسیم کر دیا، جس سے وہ مشکل وقت کٹ گیا،لیکن صد افسوس کہ میرے ملک کے تاجر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ 

میرے دیس کا تاجر میرے لوگوں کو اس طرح لوٹ رہا ہے۔  اتنا بے حس تاجر دنیا کے کسی کونے میں نہیں پایا جاتا جتنا وطن عزیز میں ہے۔ یہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے خدارا لوگوں پر رحم کریں میرے دیس کے لوگ پہلے ہی پسے ہوئے ہیں اس ملک میں حکومت تو ہے ہی نہیں، انتظامیہ بھی نظر نہیں آرہی جو ان تاجروں پر سختی کرے تاکہ یہ شتر بے مہار کی طرح عوام کو نہ لوٹیں۔ انہیں رب کے قہر سے ڈر نہیں لگتا۔ تاجر یونین سے گزارش ہے کہ برائے کرم ان تاجروں کی کونسلنگ کروائیں کسی نہ کسی موٹیویشنل سپیکر کو بلائیں ان کی برین واشنگ کریں، یقین کریں میرا تاجر مردہ ضمیر نہیں صرف بے حس ہے، راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے انہیں واپس لایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں، جنہوں نے 2008ء کے زلز لے   میں ایک عظیم قوم ہونے کا ثبوت دیا تھا، متاثرین کے لئے اپنا سب کچھ حاضر کر دیا تھا، گرم بستر، کپڑے، ضروریات زندگی کی تمام چیزیں ان میں تقسیم کردی تھیں، کھانے پینے کی چیزوں کی کمی نہیں رہی تھی، خدارا اب بھی زلزلے کا دور سمجھ لیں، عمران خان کی حکومت کسی زلزلے سے کم نہیں تھی۔ مَیں اپنے تاجر بھائیوں سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ مناسب منافع رکھ کر چیزیں فروخت کریں تمام خریدار آپ کے مسلمان اور پاکستانی بھائی ہیں، آپ ان کے لئے آسانی پیدا کریں، اللہ کریم آپ کے لئے آسانی پیدا کرے گا ۔

مزید :

رائے -کالم -