جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (1)

جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (1)
جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جنگ اور امن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ غاروں کے زمانے سے لے کر جوہری دور تک دنیا کبھی جنگ سے مبّرا نہیں رہی۔ جنگ کا سکیل، ہتھیار اور طور طریقے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ وار ٹیکنالوجی نِت نئی ایجادیں سامنے لاتی رہی ہے۔ زمینی، بحری اور فضائی جنگوں کی ایک مبسوط تاریخ ہے۔ آج تک کوئی بھی قوم جنگ کے بغیر عظیم قوم نہیں بن سکی۔

پاکستان نے اگر کبھی مستقبل میں عظیم قوم بننے کا خواب دیکھنا ہے تو اسے اپنے دور کی وار ٹیکنالوجی کا ساتھ دینا پڑے گا۔ پاک فوج کا موجودہ دور اگر کبھی تاریخ کا حصہ بنا تو اسے ”خاموش خانہ جنگی“ کا دور کہا جائے گا۔ یہ ایک نیا طرزِ جنگ ہے جو قومی فوج کو اندرونی مسائل میں الجھا کر اپنے اصل رول سے بھٹکا دیتا ہے۔ لیکن اس کو آخر تو ختم ہونا ہے۔ اگر ہماری موجودہ ’بزرگ نسل‘ اس دور کا خاتمہ نہ دیکھ سکی تو آنے والی نوجوان نسل (یا نسلیں) جب تک اس الجھاوے سے باہر نہیں نکلیں گی، تاریخِ عالم میں ہماری قوم یا ہمارا ملک وہ شوکت و عظمت حاصل نہیں کر سکے گا جس کی آرزو ابتدائے آفرنیش سے لے کر اب تک ہر قوم کرتی رہی ہے۔

ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ یہ ’عبوری دور‘ جلد گزر جائے اور قوم کو وہ رفعت نصیب ہو جو عظیم  قوموں کا ورثہ رہی ہے۔ مسلم امہ کا عظیم ورثہ ہمارے سامنے ہے لیکن ہم اس کی بازآفرینی (Reproduction) کی صرف تمنا ہی کر سکتے ہیں۔

عظیم قوم، عظیم جنگوں کی تخلیق ہوتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں بہت سی چھوٹی موٹی جنگیں لڑی گئیں۔ آج بھی غزہ اور یوکرین میں ان جنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ رکے گا نہیں۔امریکہ، روس، چین اور یورپی ممالک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس تاریخ میں جنگ و جدال کا تذکرہ ایک لازمی اور لابدی تذکرہ ہوگا۔ پاکستان نے اگر کسی عظمتِ رفتہ کو تلاش کرنا ہے (میری مراد مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ ہے)تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کو جنگ و جدال کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ یہ سوال ہنوز الجھا ہوا ہے کہ معاشی خوشحالی کی کوکھ سے جنگ کی تخلیق ہوتی ہے یا جنگ کی کوکھ سے معاشی خوشحالی پھوٹتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورتِ حال اندرونی خلفشاروں سے نکلتی ہے یا نہیں، اس کا دارومدار بھی ہماری فوج پر ہے۔ فوج کا مزاج ایک عالمگیر مزاج ہوتا ہے۔یہ مزاج انتظامی، عدلیاتی اور اقتصادی بدحالی یا خوشحالی کی تخلیق کا ذمہ دار ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہم پاکستانی اپنے جنگی ورثے کو بھول چکے ہیں۔ اس میں جنگی ہتھیار اور ٹیکٹکس وغیرہ کا عمل دخل ایک مادی عنصر ہے لیکن ایک دوسرا عنصر جو غیر مادی ہوتا ہے وہ مادی عنصر (یا عناصر) سے کہیں بڑا اور کہیں اہم ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی ہوگی۔ اگر آج نہیں تو ہمیں کل اس کی ضرورت پڑے گی اور میں پھر یہی عرض کروں گا کہ یہ ضرورت صرف اور صرف ہماری فوج ہی پوری کر سکتی ہے۔ دنیا کی عظیم تہذیبیں، ان کی افواجِ قاہرہ کی رہینِ احسان رہی ہیں۔مسلم قوم بھی عظیم مسلم فوج کی کوکھ سے نکلی تھی۔مادرِ گیتی ہمیشہ طاقت ور اور نئی اقوام سے حاملہ رہی ہے۔ یہی اس کی شہرت کی اساس ہے۔ اقبال نے  درست کہا تھا:

ہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نو

مادرِ گیتی رہی، آبستنِ اقوامِ نو

ہمارے دانشور اگر تاریخِ جنگ کا مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ ہر قوم اور ہر مذہب کی آن بان اور شان و شوکت ازل سے لے کر آج تک عظیم جنگوں کی مرہونِ منت رہی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی قوم میں ہمیشہ انتظامی اشرافیہ ہی ملک اور قوم کو ترقی کے اوج پر لے جاتا ہے۔ البتہ قوم کا وہ طبقہ جو انتظامی اشرافیہ سے الگ ہو کر عسکری اشرافیہ کا روپ دھارتا ہے، وہی ملک یا قوم کو عالمی عروج کی طرف لے جاتا ہے۔ سینکڑوں برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف وہی اقوام دنیا کی حکمران رہی ہیں جن کی عسکری قوت باقی تمام معاشرتی اور سماجی قوتوں سے برتر اور اعلیٰ تر تھی۔ اس میں مالی امارت یا غربت وغیرہ کو کوئی دخل نہیں۔ عسکری قوت جس عنصر سے حاصل ہوتی ہے وہ مادی نہیں، اخلاقی قوت ہوتی ہے۔ اخلاقی قوت کی اساس بھی معاشی قوت پر انحصار رکھتی ہے…… دوسری جنگ عظیم میں پانچ اقوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں جرمن، برطانوی، امریکی، روسی اور جاپانی اقوام شامل ہیں۔ ان کے وارہیروز کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی عظمت کا دارومدار محض اخلاقی قوت پر تھا۔

دوسری جنگ عظیم میں جرمن جرنیلوں میں گڈیرین اور رومیل، امریکی جرنیلوں میں آئزن ہاور اور میکارتھر، برٹش جرنیلوں میں آکنلک اور منٹگمری، روسی جرنیلوں میں زوکوف اور کونیف اور جاپانی جرنیلوں میں یاماموتو اور یاماشیتا کے نام اس جنگ کے تاریخ کے اوراق میں ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں۔

لیکن یہ سب جرنیل، حکمران سیاسی اشرافیہ کے اراکین نہیں تھے۔ یہ متوسط طبقے کے لوگ تھے۔ ان میں کوئی سکول ماسٹر کا بیٹا تھا، کوئی پرچون فروش کا، کوئی غریب ماہی گیر تھا اور کوئی اتنا مفلس تھا کہ اس کی سوانح پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ کس طرح یکایک اوجِ شہرت کی بلندیوں تک جا پہنچا۔

ان عالمی جرنیلوں میں عظیم ترین جرنیل ایک روسی باشندہ تھا جس کا باپ موچی (Cobbler) تھا۔وہ خود بھی باپ کے ساتھ لوگوں کی جوتیاں گانٹھ کر گزارا کیا کرتا تھا۔ اس کا نام زدکوف تھا اور وہ دوسری جنگ عظیم کے عظیم جرنیلوں میں سب سے زیادہ دلیر اور بے باک سولجر شمار کیا جاتا ہے۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ وہ نہ صرف ٹیکٹیکل سطح پر عسکری رموز و اسرار کا واقف تھا بلکہ سٹرٹیجک سطح پر بھی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ مارشل سٹالن، خروشچیف اور برزنیف سب کے سب اس کے مداح تھے۔

اس نے 1941ء میں آپریشن ”بار بروسہ“ میں جرمن یلغار کا سامنا کیا اور ماسکو کو بچایا، اس نے سٹالن گراڈ اور کرسک کی مشہور و معروف لڑائیوں (Battles) میں جرمن افواج کو شکستِ فاش دی اور پھر اسی کی زیرِ قیادت، سوویت افواج 1945ء میں مغربی ممالک کی افواج سے پہلے ہٹلر کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہوئیں اور برلن پر قبضہ کر لیا۔

مارشل زوکوف کی عسکری کامیابیوں کا سکیل اتنا ہمہ گیر اور وسیع الاطراف ہے کہ پہلے سٹالن اور پھر خروشچیف اس کے مدح خواں رہے اور بعد میں اس کے اثر اور اس کی شہرت سے خوفزدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد دونوں نے باری باری زوکوف کو ناموری کے سنگھاسن پر بٹھایا۔ اس نے آخری ایام گوشہء گمنامی میں گزارے اور اپنی وہ خودنوشت تحریر کی جس نے مشرق و مغرب میں اس کے بدترین دشمنوں سے بھی خراجِ عقیدت وصول کیا۔(اس کا کچھ تذکرہ اگلی قسط میں)۔

کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی قوم کا انتظامی یا سیاسی اشرافیہ اس قوم کو عظمت و سطوت سے ہمکنار نہیں کرتا بلکہ اس کے عسکری کمانڈر اس کی سرافرازی کا باعث بنتے ہیں۔ اسلامی تاریخ ایسے عظیم جرنیلوں سے بھری پڑی ہے لیکن جدید جنگوں میں کسی مسلم جرنیل کا ذکر تک نہیں ملتا۔1915ء میں پہلی عالمی جنگ میں ترکی کے جنرل مصطفی کمال کا نام وہ واحد نام ہے جو دنیا کی جدید جنگوں میں عسکری تواریخ کی زینت ہے…… بعد میں تو شاید مسلم امہ ایسی سوئی کہ بیداری  کے نام سے ہنوز ناآشنا ہے۔

(باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -