اب لڑائی لندن میں ہو گی!

اب لڑائی لندن میں ہو گی!

  

ایک طرف لندن میں اولمپک گیمز جاری ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں نواز لیگ اور عمران خان کی سیاسی لڑائی اور منہ ماری جاری ہے۔ یہ دوسری لڑائی بھی درحقیقت ”لندن اولمپکس“ ہی ہے کہ دونوں کے الزامات کا خاطر خواہ اور بڑا حصہ لندن (برطانیہ) کے حوالے ہی سے ہے۔

نواز لیگ کے خواجہ محمد آصف نے اپنی پٹاری کھولی اور شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کے حوالے سے جمع کردہ رقوم کو ”سٹہ“ میں لگانے اور فنڈز کو من مرضی کے کھاتوں میں ڈال کر نقصان پہنچانے کا ایک بھیانک الزام لگا دیا۔ اس الزام کی شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے اس حد تک تو تصدیق کی، واقعتاً فنڈز کا ایک بڑا حصہ (تقریباً چار ملین ڈالرز) بیرون ملک سرمایہ کاری میں لگے ہیں، مگر فنڈز کو نقصان پہنچانے کی سختی سے تردید کر دی۔ اس کے ساتھ جناب عمران خان نے ایک بھرپور پریس کانفرنس کرکے میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کئی تیز تلخ سوالات داغ دیئے اور بار بار پوچھتے رہے کہ ”لندن کے مہنگے علاقوں کے فلیٹ کیسے خریدے“ وہاں کا وسیع کاروبار کس طرح شروع کیا، جبکہ آپ کی آمدن تو صرف ڈیڑھ لاکھ تھی؟

عمران خان کی پریس کانفرنس کے بعد ایک نجی ٹی وی پر میاں نواز شریف کے بھتیجے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے سلمان شہباز نے گرما گرم جواب دیا اور کہا کہ اگر منی لانڈرنگ ہوئی ہے تو عمران خان لندن میں جا کر کیس کریں، وہاں تو ہماری حکومت نہیں (بلکہ عمران خان کی خوب واقفیت اور دوستیاں موجود ہیں)۔

اسی دوران چودھری نثار علی خان نے بھی گرما گرم پریس کانفرنس کی اور جناب عمران خان کی سابق بیوی کے حوالے سے تحفہ میں دیئے گئے فلیٹ کے حوالے سے اسلام آباد میں عمران خان کی ملکیتی زمین پر اعتراض و شکوک اٹھائے اور کہا کہ ”عمران خان کہتا ہے کہ یہ جمائما کے فلیٹ کے بدلے جگہ خریدی اور جمائما اس بات سے انکاری ہے کہ میں نے کوئی فلیٹ تحفہ دیا ہے“۔

دونوں طرف سے خوب گرما گرم اور تلخ و ترش حملے جاری ہیں، مگر دونوں کے الزامات کا بڑا حصہ لندن کے حوالے ہی سے رہا تو نظر یہ آتا ہے کہ اب دونوں طرف سے نشانہ بازی کا جو میدان لگے گا وہ لندن ہی ہو گا۔ ایک طرف سے نواز خاندان کی لندن میں ملکیتی جائیداد اور کاروبار کی تفصیلات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں قانونی راہ اپنائی جانے کا امکان ہے تو دوسری طرف شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کی ”سرمایہ کاری“ کی دستاویزات و تفصیلات جناب عمران خان کی سرمایہ کاری ان کے بچوں کی مصروفیات اور خود خان صاحب کی ”سابقہ زندگی“ کی ”رنگین مصروفیات“ کی تفصیلات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ”ایک مخصوص“ خاتون سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جس کے ذریعے لندن کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکے۔ اسی ضمن میں ایک زیر تکمیل فلم کی تیزی سے تکمیل کی بھی کوششیں جاری ہیں۔

اب جو ہو سو ہو، وہ سامنے آہی جائے گا، مگر اب کے جو بھی سامنے آئے گا وہ پاکستانی میڈیا سے زیادہ غیر ملکی میڈیا کے ذریعے سامنے آئے گا بالکل اسی طرح جس طرح ”لندن اولمپکس“ سامنے آرہا ہے! لیکن اس اہم ترین موقع پر دونوں جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے قائدین سے التماس ہے کہ اُن کی یہ لڑائی نہ اُن کے کام آئے گی اور نہ ہی اس لڑائی سے ملک و ملت کا کوئی فائدہ ہوتا نظر آتا ہے، جس طرح کی بیان بازی دونوں جانب سے کی جا رہی ہے یہ کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہے وقت سنجیدگی کا تقاضا کررہا ہے اور دونوں مقبول لیڈر بے ہنگم لڑائی اور الزامات میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ اس سارے قضئے سے فائدہ اٹھانے والے اپنی جگہ خوش و خرم اور مسرور ہیں اگر وقت ملے تو جناب میاں نواز شریف اور جناب عمران خان کو اس جانب ضرور متوجہ ہونا چاہیے کہ وقت اور ملک ان سے کیا چاہتا ہے؟

مزید :

کالم -