”ناصرمرحوم“

”ناصرمرحوم“

  

 یہ کسی مشہور زمانہ صدرِ مملکت،شاعر، ادیب، ڈرامہ نگار،فلم ساز، ایکسٹرا کریکٹر کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ایک عام انسان کا ذکر ہے،جس کو اس دنیا سے گزرے ہوئے پچاس سال ہوچکے ہیں،لہٰذا اب پچاس سال سے ہم اس کو ناصر مرحوم کے نام سے ہی یاد کرتے ہیں، اس کی حیات میں ہم نے کبھی یہ جرات نہیں کی،حالانکہ لغت کے اعتبار سے مرحوم کہنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں، اللہ ہم سب کو مرحوم کرے۔ناصر مرحوم ہمارے ہاں بھائی صاحب کے سسرال سے آئے تھے،جوان آدمی تھے۔محنتی، ایماندار، جفاکش اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے تیار،رنگ پختہ سیاہ، تندرست اعضاءاور سفید براق دانت، جو بچوں کو طرح طرح کے لطیفے اور چٹکلے سناتے وقت نمایاں ہو جاتے تھے۔

بھائی صاحب نے اس کو اپنے آفس میں ملازم رکھ لیا تھا اور آفس کے ہی ایک کمرے میں دفتر بند ہو جانے کے بعد ان کا کمرئہ استراحت سج جاتا تھا۔اکثر وہ بھائی صاحب کا کھانا لینے گھر سائیکل پر آتے ۔خود کھاتے اور پھر گرمی ہویا سردی ،ٹفن کیرئیر لے کر چلے جاتے۔جون جولائی کے مہینوں میں ہم ان سے پوچھتے کہ موسم کیسا ہے تو عموماً وہ ایک ہی جواب دیتے:”سخت سردی پڑ رہی ہے، ہے مہینہ جون کا“....یا پھر یہ کہتے کہ ”باہر شبنم پڑرہی ہے، میری پیشانی دیکھئے“۔

ناصر مرحوم بہت ہی خوش لباس تھے، کسی نے کبھی بھی انہیں غیر استری شدہ کپڑوں میں نہیں دیکھا اور سفید لباس ان کو زیادہ پسند تھا۔ناصر مرحوم اونچا سنتے تھے، مگر جب ہم لوگ ان سے زور سے بات کرتے تو کہتے کہ آہستہ بولیں میں بہرہ نہیں ہوں!میرے چھوٹے بھائی اعجاز کو جب ان کے استاد نے،جو گھر پر آکر پڑھایا کرتے تھے،ایک دن نہ صرف یہ کہ ڈانٹا ، بلکہ ان سے ہاتھا پائی پر اتر آئے کہ آپ بچے کو پڑھانے آتے ہیں یااسے مار پیٹ کرنے۔

میری شادی ہونے والی تھی۔ناصر مرحوم نے پیشکش کی کہ مَیں آپ کی روزانہ مالش کیا کروں گا اور یقین کیجئے کہ جس طرح انہوں نے مالش کی،ویسی مالش تو ترکی میں ترکش باتھ میں بھی نہیں ہوتی، نہ ان ایورو یدک سنٹروں پر جو آج کل برطانیہ میں جگہ جگہ کھل گئے ہیں۔

شادی کے چھ ماہ بعد میں نے الگ گھر لے لیا تو میری ان سے ملاقات کم ہونے لگی، مگر اس اثناءمیں ناصر مرحوم نے بھی شادی کرلی، لیکن چند ماہ بعد ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ناصر مرحوم کا کہنا تھا کہ ان کی سسرال والے ان کی ساری جمع پونجی ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان کی بیوی کا بھائی جو نت نئے بہانوں سے اس کا مال اُڑانے کی کوشش میں لگا رہتا۔

ناصر مرحوم کی شادی نہ چل سکی ،پھر انہوں نے نقل مکانی کرلی، بھائی صاحب کا گھر چھوڑ کر ان کی سالی کے پاس چٹاگانگ چلے گئے۔جب کبھی وہ ڈھاکہ آتے تو ملاقات ہو جاتی اور ہم سارے بھائی بہنوں کے لئے یہ ایک دلچسپ وقت ہوتا۔

پھر سنا کہ ناصر مرحوم واقعی مرحوم ہوگئے۔ اللہ ان پر رحمت کرے،ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ حج کرلیں اور اس کے لئے وہ ہر ماہ جمع بھی کرتے تھے۔اس زمانے کے حساب سے اتنی رقم تھی کہ تھوڑی اور پڑتی اور حیات مہلت دیتی تو وہ حج بھی کرلیتے۔برسوں بعد جب مےں نے اسد محمد خان کی ”باسودے کی مریم“ پڑھی تھی تو ناصر مرحوم بہت یاد آئے۔

”باسودے کی مریم“اسد محمد خان نے بتایا کہ سچا قصہ ہے، کیامماثلت ہے!ہمارے معاشرے کے کمترین افراد بھی کتنے اعلیٰ مرتبہ والے ہوتے ہیں۔کاش ہم اس کا صحیح ادراک کرلیں تو بھلا ہوگا۔

مزید :

کالم -