حرفِ لطیف

حرفِ لطیف

  

                        ٭....اس کا تعلق اخباری دنیا سے ہے۔ وہ اپنی سر کولیشن بہتر بنانے کے لیے صبح لمبی سیر کرتا ہے ۔

 َہمارا نیابا ورچی کمال کاآدمی ہے ۔مرغ روسٹ ، شامی کباب،کڑاہی گوشت ،سبزی ،دال ،سوپ،مچھلی ،ہر چیزہڑپ کر جاتا ہے ۔

٭....” میں نے سنا ہے کہ تمھارا باورچی ہر قسم کی ڈش تیا ر کر سکتا ہے۔“

” ڈش تو ایک ہی تیار کرتاہے لیکن ہر بار اسے نیا نام دے دےتاہے ۔ “

٭....” تم نے آج لنچ کرتے وقت کیا کھایا تھا؟ “

” ڈاکٹر صاحب میںبیوی سے پوچھ کر بتاسکوںگا۔ “

٭....” میری پہلی بیوی کھانا پکاسکتی تھی لیکن پکاتی نہیںتھی دوسری بیوی پکانہیں سکتی لیکن پکاتی ضرور ہے ۔“

٭....” جج نے مجھے پچھتر سال قید بامشقت کی سزا سنادی ہے ۔“

” شکر کرو عمر قید سے بچ گئے ۔“

٭....” کیک کے نیچے جو کاغدکی پلیٹ تھی وہ کہا ں ہے ؟ “

” وہ کاغد کی پلیٹ تھی؟ میں نے کیک کا نچلا حصہ سمجھ کر کھا لیا۔ “

٭.... میں کچھ نہ کر نے کے جرم میں جیل پہنچ گیا ۔میر امالک مکان کہتا تھا تمہاری طرف چھ ماہ کا کرایہ ہو گیا ہے۔ کچھ کرو۔ لیکن میں نے کچھ نہ کیا ۔

٭....” جب کانسٹیبل نے تمھاری طرف اشارہ کیا،تم کیوں نہ رُکیں؟ “

 ” جج صاحب،میںایسی لڑکی نہیں ہوں “

٭....”میں تمھارے لیے جان بھی دے سکتا ہوں ،،

 ” کب ؟ ‘ ‘

٭.... مجھے پہلی نظرمیں اس سے محبت ہو گئی تھی ، خداکاشکر ہے میںنے دوسری نظر بھی ڈال لی ۔

٭.... اگر تمیںمجھ سے محبت ہوتی تو تم مجھ سے شادی نہ کرتے ۔

٭.... تم دونوں ہر وقت لڑتے رہتے ہو۔تمھارا نکاح کسی مولوی نے پڑھاےا تھا یاکسی وزیر جنگ نے ؟

٭....” کیا تم شادی شدہ ہو ؟ “

” جی نہیں، میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔ “

٭....” کیا تم کسی احمق سے شادی کرنا پسند کرو گی ؟ “

”تم نے اچانک پوچھ لیا ہے۔مجھے سوچنے کا موقع دو ۔ “

٭....” میں جب تک 25 سال کی نہ ہو جاﺅں ، شادی نہیں کروں گی ؟ “

” میں جب تک شادی نہیں کروں گی پچیس سال کی نہیں ہو ں گی “

٭....” اگلے ہفتے میری شادی ہوری ہے ۔ “

” اچھا کس کے خلاف ؟ “

٭....” کسی چیزکو ےاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے بھلانے کی کوشش کرو ۔“

٭....” مجھے ایک ملازمت کی آفر ہوئی ہے ۔دماغ کہتا ہے قبول کر لو دل کہتاہے مت کرو۔“

” تمہارا پیٹ کیا کہتاہے ؟“

٭....جب سے اس سے شادی ہوئی ہے وہ صرف جمائی لیتے وقت منہ کھولتا ہے ۔

٭....میرا خیال ہے برسات کاموسم ختم ہو گیا ہے کیونکہ میرا ہمسایہ میری چھتری واپس کرگیا ہے ۔

٭....میری بیوی نے خوبصورتی کا راز پا لیا ہے ۔اب وہ صرف بدشکل عورتوں سے دوستی کرتی ہے ۔

٭....سمجھدارا ٓدمی اپنی بیوی کے پرانے کپڑوںکا کبھی مذاق نہیں اڑاتا ۔

٭....” ڈاکٹرصاحب نے مجھے کرکٹ کھیلنے سے منع کردےا ہے ۔ “

” اچھاتو اس نے تمھیں کھیلتے ہوئے دیکھا ہے ۔“

٭....” کیا تم نہیں جانتے کہ میںاتوار کے روز مریضوںکو نہیں دیکھتا۔ “

” میں تو جانتا ہوں لیکن جس کتے نے مجھے کاٹا ہے وہ نہیں جانتا “

٭....” عورتوں کی عمرمردوںسے زےادہ کیوں ہوتی ہیں؟ ” اس لئے کہ ان کی بیوےاں نہیںہوتیں “

٭....” کیا تم نے کبھی کھل کر قہقہ لگاےا ہے؟ “

 ” ہاںجب میں نے تمیں پہلی بار دیکھا تھا ۔“

٭.... ” دودھ کو خراب ہونے سے بچانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے گائے کے اندر ہی رہنے دیا جائے“۔

٭.... ” میرا باپ بھی چوری کرے گا تو میں اسے جیل بھیج دوں گا۔“

”میں کیا کہہ سکتا ہوں جج صاحب۔ آپ اپنے خاندان کو بہتر جانتے ہیں۔“

٭....    جج: (بونے وکیل سے) مسٹر ایڈووکیٹ، تم اتنے چھوٹے ہو کہ میرا جی چاہتا ہے تمہیں اپنی جیب میں رکھ لوں۔

وکیل: مائی لارڈ، اس صورت میں آپ کے سر کی نسبت آپ کی جیب میں زیادہ عقل ہو گی۔

٭....کوئی شخص عورت کو نہیں سمجھ سکتا اس لیے کہ صرف وہی چیز سمجھ میں آ سکتی ہے جس کے اندر کوئی سسٹم ہو۔

٭....”یار میرے انتقال کی خبر اخبار میں کس نے چھپوائی ہے؟“

”پتہ نہیں۔ لیکن تم فون کہاں سے کر رہے ہو؟ “

٭....ایک غربت کا مارا ہوا شخض بلڈ بنک میں خون بیچنے گیا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر کہا اگر کبھی ہمیں گرم پانی کی ضرورت ہوئی تو ضرور آپ کو تکلیف دیں گے۔

٭....وہ خاتون بڑی کفایت شعار تھی۔ اس نے اپنی چالیسویں سالگرہ پر صرف پچیس موم بتیاں جلائیں۔

٭....اسے مطالعے کا بہت شوق ہے اکثر اوقات اسے بجلی گیس اور فون کے بلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

٭....میرے پاس تقریباََ 100 کتابیں ہیں لیکن بکس کیس کوئی نہیں کیا کیا جائے لوگ بک کیس ادھار دیتے ہی نہیں۔

٭....بڑھتی ہوئی طلاقوں کی سب سے بڑی وجہ شادی ہے۔

٭....” میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ وقت پر گھر آیا کرو ۔ “

” یہ حساب تم خودکرو میں حساب میں شروع سے کمزور ہوں۔“

٭....وہ لوگ جو کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں مجھے بہت بڑے لگتے ہیں بالخصوص سینما ہال میں جب فلم چل رہی ہو۔

٭....میری ہمسائی بڑی کمینی ہے۔ جب بھی میں اس سے کوئی چیز ادھار لیتی ہوں وہ اگلے روز واپس مانگ لیتی ہے۔

٭....خاوند: ( بیوی سے) شام کوچائے کے ساتھ کیا ہو گا؟

بیوی: بہت کچھ ۔ میرے امّی ابو ۔ تین بہنیں ۔ دو بھائی ۔

٭.... ” ہر وقت خوشی کہاں مل سکتی ہے۔ “

” ڈکشنری میں ۔ “

٭....بھئی یہ لانڈری والا عجیب ہے پہلے اس نے میری قمیض کے بٹن غائب کر دیے اور اس بار کاج بھی غائب ہیں۔

٭....” اس نے تمہیں کس زبان میں گالیاں دیں؟ “

” اشاروں کی زبان میں۔ “

٭....میری یادداشت بہت اچھی ہے میں تو ہاتھیوں کو بھی بھولی ہوئی باتیں یاد دلا دیتا ہوں۔

٭....” یار تم نے سن رکھا ہو گا کہ دوست وہ جو مصیبت میں کا م آئے ۔ “

” سن تو رکھا ہے لیکن آپ ہیں کون؟ “

٭....” کیا آپ سگریٹ پیتے ہیں؟ “

” تو اور کیا سگریٹ کھاتا ہوں۔“

٭....”سرجن میری جان بچانے کے اسی ہزار مانگ رہا ہے۔“

” مہنگا سودا ہے مت ماننا۔“

٭....” امی امی میں باہر جا کر سورج گرہن دیکھنا چاہتا ہوں ۔“

”چلے جاﺅ لیکن زیادہ قریب مت جانا۔“

٭....” جناب عالی آپ نے مجھ پر جو انکم ٹیکس لگایا ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے آیا ہوں۔“

 ” ٹھیک ہے شروع کیجئے جھوٹ بولنا۔“

٭....” سر! ڈاکٹر آیا ہے۔“

” اس وقت میں کسی سے نہیں مل سکتا ۔میری طبیعت خراب ہے۔“

٭....” ڈارلنگ میں تمہیں چھوڑ کرکیسے جاﺅں؟ “

” ٹیکسی لے لو یا بس میں چلے جاﺅ۔“  ٭

مزید :

کالم -