دورحاضر اور سی ایس آر

دورحاضر اور سی ایس آر
 دورحاضر اور سی ایس آر
کیپشن: 1

  


اگرچہ پاکستان بہت سی چیزوں میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے،لیکن یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ پاکستان کا شمارانفرادی چیر ٹی میں دنیا کے سر فہر ست ممالک میں ہو تا ہے ہمارے ہاں ایک طرف تو انفرادی طور پر صدقہ وخیرات دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کیونکہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لوگ خیرات کرنا اپنا دینی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں،مگر دوسری طرف کاروباری اداروں کی جانب سے مر بوط معاشی ذمہ داریوں کے تحت فلاح وبہبودکے مختلف پراجیکٹس دوسر ے ممالک سے بہت پیچھے ہیں،جبکہ اس حوالے سے امر یکہ اور یورپ پہلے نمبرپر آتے ہیں۔ وہاں کے کاروباری ادارے اپنی اس ذمہ داری کو بخو بی سر انجام دے رہے ہیں اور اب چائنہ اور انڈیاکے بزنس گروپس اس دوڑمیں پیچھے نہیں ہیں۔

مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس اور ان کی اہلیہ، ملنڈا گیٹس اب تک 15بلین ڈالر انفرادی طور پر گلوبل ہیلتھ کے مسا ئل پر خر چ کر چکے ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑی پرائیویٹ فاؤنڈیشن بِل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے تقریباً 30بلین ڈالرCSR کی مد میں دیئے ہیں۔ اب پاکستان میں بھی رئیل اسٹیٹ ، آئل اینڈ گیس سیکٹر ، بنک اور ملٹی نیشنل کمپنیاںCSR کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے میدان میں آئی ہیں اور اپنے منافع میں سے ایک دو فیصد حصہ غریبوں میں تقسیم کر نے کا عزم ظاہر کیا ہے یہ نہایت حوصلہ افزا اقدام ہیں،لیکن میڈیا پر اس ذمہ داری کو نبھانے کا اعلان کر دینے سے ہی بات نہیں بنتی، بلکہ ایسے پروگرام تشکیل دیں اور مسلسل ان کی سرپر ستی کرنے سے ہی اچھے اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں نیشنل بینک آف پاکستان کی خدمات کو سرہاتے ہوئے گورنمنٹ آف پاکستان نے 2012ء میں CSRگولڈ میڈل بھی دیا ہے۔ بعض کاروباری ادارے صرف ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کے لئے چیرٹی دیتے ہیں۔

حکومت سے میر ی در خواست ہے کہ FBR ٹیکس لیتے وقت اداروں کو اس وقت تک NOC جاری نہ کر ے جب تک CSRکے تحت چلنے والے پراجیکٹس کی مکمل چھان بین نہ کر لے، کیونکہ محض ٹیکس چھوٹ کے لئے بھرے گئے گوشواروں سے لاوارث اور ضرورت مند لوگوں کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا، اسلام کے معاشی نظام کا مقصد ہی معاشرے کے مستحق اور لاوارث افراد کی کفالت کرنا ہے زکوٰۃ، خیرات، صدقات کے تمام تر اصول اسی لئے ہی وضع کئے گئے ہیں کہ معاشرے میں کوئی غریب نہ رہے اور سب کی بنیادی ضرویات زندگی یکساں پوری ہوں۔

پاکستان میں کم و بیش اس وقت300سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور منافع بخش کاروبار چلانے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ ایسے منصوبوں کی سرپرستی کریں جن سے کسی غریب آدمی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور بغیر ہاتھ پھیلائے اُس کی ضروریات پوری ہوتی رہیں تا کہ ایسے لوگ سماج کے کار آمد افراد بن کر ملک کی اجتماعی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ہماری دینی تعلیمات کے مطابق خیرات کرنے سے رزق کم نہیں ہوتا، بلکہ کئی گُنا بڑ ھتا ہے، لہٰذا اِسی میں دونوں جہاں کی بھلائی ہے کہ صاحب ثروت حضرات دل کھول کر خیرات کریں اور غریبوں کی مشکل میں ان کے کام آئیں۔

’’سخی دوست رب دا بھانویں جاہل ہووئے‘‘

مزید :

کالم -