اسلام آباد شو :کھایا پیا کچھ نہیں،گلاس توڑا ....!

اسلام آباد شو :کھایا پیا کچھ نہیں،گلاس توڑا ....!
اسلام آباد شو :کھایا پیا کچھ نہیں،گلاس توڑا ....!
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سال تھا 1963ء۔ اس وقت اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ انار کلی بازار کے پچھلے حصے میں یونیورسٹی لاءکالج کے ہوسٹل میں ہم رہ رہے تھے۔ ہوسٹل کے کھانے سے تنگ آکر ہفتہ میں ایک روز جب چھٹی ہوتی تھی دس بارہ لڑکے مل کر ہم دلی دروازہ کے باہر شیرانوالہ ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھانے جاتے تھے۔ اس ہوٹل کے کھانے بہت مزے کے تھے اور بے پناہ رش ہوتا تھا، سسٹم یہ تھا کہ جب کھانا کھا کر باہر نکلنے لگتے تھے تو بیرا ہرایک گاہک کے لئے جونہی وہ منشی کے سامنے جاتا آواز لگاتا اس کالی ٹوپی والے سے دس روپے بارہ آنے۔ اس نیلی قمیض والے سے تین روپے۔ سفید چادر والے بابے سے چھ روپے۔ آواز بہت اونچی ہوتی تھی اور ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ آوازیں سنتے رہتے تھے۔ وہاں کا ایک لطیفہ بھی مشہور تھا کہ دو دوست وہاں لڑ پڑے اور پھر کھانا کھائے بغیر باہر جانے لگے تو بیرے نے زور دار آواز لگائی کہ دلیپ کمار بالوں والے ان لڑکوں نے کھایا پیا کچھ نہیں۔ گلاس توڑا۔ بل بارہ آنے۔
اگست 14 کو ہماری کچھ سیاسی پارٹیاں اسلام آباد میں جوکچھ کرنے جارہی ہیں اسے میڈیا نے اس قدر اچھالا ہوا ہے کہ بیرون ممالک پاکستانی بار بار فون کرکے اس صورت حال پر اپنی پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ میں نے بہت سے دوستوں کو بتایا ہے کہ بھئی جس ملک میں سوات جانے والے اور سیر کرنے والے خاندانوں کی حالت یہ ہو کہ 28میل کے ٹریفک جام میں بھی وہ کئی کئی گھنٹے گزاریں اور ہوٹل کا کمرہ نہ ملنے پر کئی کئی سو لوگ مری کی سڑکوں پر اپنی گاڑیوں میں سوئیں اور ہوٹل میں ایک رات رہنے کا کرایہ 15ہزار سے 20ہزار روپے ادا کریں وہاں 14اگست کو ان سیاسی پارٹیوں کا لانگ مارچ بھی ایک تماشہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پاکستان کے عوام نے ابھی گزشتہ برس ہی پارلیمنٹ اور صوبوں میں اسمبلیوں کے لئے اپنے نمائندوں کا چناﺅ کیا ہے اور اسی کے نتیجہ میں ہی اب ہرجگہ حکومتیں اپنا اپنا کام کررہی ہیں لہٰذا نہ تو آئین میں ایسی کوئی شق موجود ہے کہ انہیں دھرنا دے کر ختم کیا جائے اور نہ ہی کسی لانگ مارچ کے نتیجہ میں وزیراعظم یا صوبوں کے وزراءاعلیٰ قوم کو اپنا استعفیٰ جمع کرانے والے ہیں۔
آپ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کی تنظیم اور ان کی پارٹیوں کی ساخت۔ اہم لیڈروں کی تفصیل کا ذراجائزہ لیں تو اس وقت ملک میں دواہم سیاسی جماعتیں بے حد منظم ہیں۔ اول جماعت اسلامی پاکستان اور دوم پاکستان پیپلزپارٹی۔ اس کے علاوہ ایم کیوایم کراچی۔ حیدرآباد اور سکھر تک بااثر ہے، جبکہ ملک کے دوسرے صوبوں میں اپنے دفاتر رکھنے اور کھولنے کے باوجود وہاں پر ان کے ووٹر ہیں۔ ایسی ہی صورت حال خیبرپختونخوا کی اے این پی کی ہے ۔ اس کے تو خیر سے اپنے صوبے کے سوا کہیں پر منظم دفاتر تک نہیں ہیں۔ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے تو جب سے جنرل ایوب خان نے اس کا نام کنوینشن لیگ رکھا تھا ، آج پچاس برس سے بھی زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ جماعت مسلسل فوجی جرنیلوں کی سیاسی مشقوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔ فوج کا جی چاہا تو اسلامی جمہوری اتحاد بنوا کر اس کے لیڈروں کو فیض یاب کرادیا اور فوج نے اس کا نام قائداعظم مسلم لیگ (Q) رکھا تو چاند والے لوگوں کو بھی میاں عامر محمود سے چھین کر اس میں شامل کرالیا۔ غرض مسلم لیگ کے اس قدر حصے بخرے کردیئے کہ کسی حصہ پر پیر صاحب پگاڑا قابض ہیں تو کسی پر حامد ناصر چٹھہ، کسی پر چودھری شجاعت حسین موجود ہیں ، تو کسی حصہ پر میاں نواز شریف۔ اعجاز الحق، شیخ رشید اور جنرل پرویز مشرف کی بھی اپنی اپنی لیگیں ہیں۔ چاروں صوبوں کے اضلاع اور تحصیل یا یونین کونسل کی سطح پر ان میں سے کسی بھی دھڑے کی تنظیم موجود نہیں۔ آپ کو یقین نہ آئے تو میڈیا کے کسی پروگرام میں ان سب کے دھڑوں کے ترجمان بلوا لیں اور ان سے پاکستان کے تمام صوبوں کے اضلاع اور تحصیلوں کی تفصیل ہی مانگ لیں تو اس کمپیوٹر کے زمانہ میں آپ کو یہ لوگ ناموں کی بھی تفصیل فراہم نہیں کرسکیں گے۔
مجھے یاد ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں بھارت کی کانگرس پارٹی نے ہندوستان میں اپنی پارٹی کی تنظیم کے حوالہ سے سارک ممالک کے صحافیوں کو دہلی بلوا کر اپنا صدر دفتر دکھایا تو واپس آکر جو تفصیل اس وفد کے ارکان نے اپنے اخبارات میں لکھی اس نے یہاں کی پارٹیوں کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ کانگریس پارٹی کا دفتر ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ بطور سیکرٹری چلاتا ہے۔ دفتر میں علما، طلبہ ، ڈاکٹرز ، وکلاء،زمیندار ، کاشتکار ، مزدور ، صنعت کار، خواتین، اساتذہ، انجینئرز، سائنس دان، ہرایک طبقہ کے لئے الگ دفتر ہیں اور ہرونگ کو ایک ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ چلاتا ہے۔ پورے ملک کے لئے ممبر شپ فارم ایک جیسے ہیں اور پارٹی عام ممبرز کو شناختی کارڈ اور کمپیوٹر نمبر جاری کرتی ہے۔ پارٹی کا کوئی عام ممبر اپنی رکنیت کے پانچ برس تک کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا اور پانچ برس پورے ہونے پر صرف بلدیاتی انتخاب لڑسکتا ہے۔ دس برس پورے ہونے پرڈسٹرکٹ کونسل یا ضلع کونسل کا الیکشن لڑسکتا ہے اور 15برس پورے ہونے پر صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کے لئے پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست دینے کا اہل ہوتا ہے۔ جہاں تک پارلیمنٹ کے الیکشن کی خاطر درخواست دینے کا تعلق ہے تو وہ صرف ایسے افراد ہی درخواستیں دے سکتے ہیں جو صوبائی اسمبلی کے پانچ برس تک منتخب رکن رہ چکے ہوں۔ اسی سے ہی آپ وہاں کی سیاسی تنظیم کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ کانگریس کے کسی وزیر کو خواہ وہ مرکز میں ہو یا صوبائی حکومت میں ہو درخواستیں لوگوں سے وصول کرنے یا ان پر احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے لوگ اپنے مسائل اپنے ضلع کے پارٹی کے دفتر میں لکھ کر بھیجتے ہیں۔ پھر پارٹی کا صوبائی یا مرکزی دفتر (جیسی بھی صورت ہو) ان پر سمری تیار کرتا ہے اور اپنی سفارشات متعلقہ وزیر کو بھجواتا ہے ، اندازہ کرلیں کہ پارٹی کا یہ نظام آج سے تیس چالیس برس پہلے تھا۔ آج تو زمانہ نے جس قدرترقی کرلی ہے اس نظام کو مزید بہتر بنادیا گیا ہوگا۔
آپ خود یہاں کی سیاسی پارٹیوں اور ان کی تنظیمی حالت کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ رہے ہماری کرکٹ کے کھلاڑی بادشاہ تو انہیں اب یہ اندازہ ہوچلا تھا کہ نوجوان 2013ءمیں بہت مایوس ہوئے ہیں اور یہ مایوسی اب مزید بڑھتی جارہی تھی۔ اس سے قبل کہ ان کے منتخب ارکان کسی ہارس ٹریڈنگ کا شکارہوجائیں انہیں بچانے کے لئے اب اسلام آباد کا میلہ لگوایا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ جو دوسرے ”نگینے “ اپنی اپنی پارٹیوں کی ساکھ بچانے نکلیں گے ان کی بھی وہی حالت ہے لہٰذا آپ یوم آزادی کو ”انجوائے “ کریں کیونکہ شوروغل ختم ہوگا تو شیرانوالہ گیٹ کے اسی ہوٹل کے بیرے کی آواز گونج رہی ہوگی کہ کھایا پیا کچھ نہیں۔ گلاس توڑا۔ بل بارہ آنے۔ عمران خان صاحب تو ابھی اپنی پارٹی کے اندرونی الیکشنوں کے بھی فیصلے نہیں کراسکے ۔ لوگوں نے عدالتوں سے سٹے آرڈر حاصل کررکھے ہیں۔ البتہ ہمارے بھولے بادشاہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف، پرویز بشیر سمیت اپنے لوگوں سے اتنا پتہ تو کرالیں کہ ان کے دوست زرداری صاحب نے جو فنڈز لندن میں اس میلے کے لئے فراہم کرائے ہیں ان کی صداقت اور تفصیل کیا ہے تاکہ انہیں اپنے دوستوں، دشمنوں کی صحیح پہچان تو ہوسکے۔

مزید :

کالم -