ہیکرز چپکے سے وائرس انسٹال کرکے آپ کے فون کا کنٹرول کیسے حاصل کرتے ہیں؟ حقیقت سامنے آگئی، جانئے اور محفوظ رہیے

ہیکرز چپکے سے وائرس انسٹال کرکے آپ کے فون کا کنٹرول کیسے حاصل کرتے ہیں؟ حقیقت ...
ہیکرز چپکے سے وائرس انسٹال کرکے آپ کے فون کا کنٹرول کیسے حاصل کرتے ہیں؟ حقیقت سامنے آگئی، جانئے اور محفوظ رہیے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایپل آئی فون صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی، ہیکرز نے آئی فون کی سکیورٹی توڑ کر اس میں اپنی من پسند ہیکنگ ایپلی کیشنز انسٹال کرنے کا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ آئی فون صارفین نادانستہ طور پر جب کسی ویب لنک پر کلک کرتے ہیں تو یہ ایپلی کیشنز ازخود ڈاؤن لوڈ ہو کر فون میں انسٹال ہو جاتی ہیں اور بالکل اصلی دکھائی دیتی ہیں اور کام بھی دیگر ایپلی کیشنز کی طرح کرتی ہیں۔ صارفین کو کسی بھی طرح شک نہیں ہوتا کہ یہ ایپلی کیشن ان کے فون کی جاسوسی کر رہی ہے یاکسی مقصد میں ہیکرز کی مدد کر رہی ہے۔یہاں ہم آئی فون صارفین کی سہولت کے لیے بتاتے چلیں کہ یہ ایپلی کیشنز ٹوئٹر، فیس بک ، واٹس ایپ یا دیگر ایسی ہی ایپلی کیشنز کے روپ میں ظاہر ہوتی ہیں اور کام بھی بالکل انہی کی طرح کرتی ہیں لیکن اصل میںیہ آئی فون کو نقصان پہنچانے والے سافٹ ویئر ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:دو ہیکرز ہزاروں خواتین سے قابل اعتراض تصاویر کس طرح لے اڑے ؟جان کر آپ بھی چکرا جائیں گے

ہیکرز کی اس چالاکی کا انکشاف فائیر آئی گلوبل(FireEye global) کے سربراہ سائمن ملز نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں ہیکرز کے اس حملے کو ’’ماسک اٹیک‘‘ کا نام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ماسک اٹیک کی تازہ وارداتوں میں ہیکرز نے یو آر ایل سکیم ہائی جیکنگ(URL Scheme Hijacking) کی تکنیک استعمال کی۔ ہائی جیکرز ایپلی کیشنز کی انسٹالیشن کے دوران صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں اور اصلی ایپلی کیشن کی جگہ بالکل اس سے ملتی جلتی ایپلی کیشن ان کے فون میں انسٹال کر دیتے ہیں جس کا صارفین کو علم بھی نہیں ہوتا لیکن ہیکرز اس جعلی ایپلی کیشن کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ صارف کی نگرانی کرتے ہوئے سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ صارف اس ایپلی کیشن پر کیا کر رہا ہے۔

ایک ہی بات ہے جس کے ذریعے صارفین ان جعلی ایپلی کیشنز کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ وہ یہ کہ جب بھی کسی ویب سائٹ پر لنک کو کلک کرتے ہیں تو یہ جعلی ایپ ڈاؤن لوڈ اور انسٹال ہوتی ہے، لیکن جب یہ انسٹال ہوتی ہے تو یہ پہلے سے موجود کسی نہ کسی ایپلی کیشن کو ختم کرکے اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ صارفین اپنی پہلے سے موجود ایپلی کیشنز پر نظر رکھیں، جیسے ہی ان میں سے کوئی غائب ہو تو سمجھ لیں کہ کوئی جعلی ایپلی کیشن ان کے فون میں انسٹال ہو چکی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی