شام میں امریکہ کو سب سے بڑا دھچکا، جن پر مال لگاتا رہا انہوں نے ہی۔۔۔

شام میں امریکہ کو سب سے بڑا دھچکا، جن پر مال لگاتا رہا انہوں نے ہی۔۔۔
شام میں امریکہ کو سب سے بڑا دھچکا، جن پر مال لگاتا رہا انہوں نے ہی۔۔۔

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں بالخصوص شام میں القاعدہ کی بڑھتی طاقت امریکہ و دیگر مغربی ممالک کے لیے پریشانی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں امریکہ کی پریشانی میں مزید اضافہ اس وقت ہو گیا ہے جب امریکی تربیت یافتہ شامی باغیوں کے ایک گروپ نے شام میں سرگرم القاعدہ کے ایک گروپ النصرہ محاذ کی بڑھتی ہوئی اغوا کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہو کر النصرہ کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے 30 ڈویژن میں شامل ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ڈویژن کو امریکی فوجیوں نے لڑائی کی تربیت دی تھی مگر اب معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے النصرہ محاذ کے خلاف لڑائی سے انکار کر دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ باغیوں کا یہ گروپ النصرہ محاذ پر امریکی فضائی حملوں کی بھی مخالفت کررہا ہے۔

رواں سال جولائی میں النصرہ محاذ نے اس وقت شام میں امریکی اسلحہ کی سپلائی کاٹنے کا اعلان کیا تھا جب امریکا نے 30 ڈویژن پر حملہ کر کے ان کے 5 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔واضح رہے کہ النصرہ محاذ نے باغی گروپ کے کمانڈر کرنل ندیم الحسن کو6 دیگر ساتھیوں سمیت گذشتہ ہفتے اغواء کر لیا تھا جس سے امریکی تربیت یافتہ شامی باغی خوفزدہ ہو گئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی