صوبائی خودمختاری کے باوجود بچوں کی بہتری کیلئے کام نہ ہو سکا

صوبائی خودمختاری کے باوجود بچوں کی بہتری کیلئے کام نہ ہو سکا

لاہور(لیڈی رپورٹر)چائلد رائٹس موومنٹ پنجاب کے زیرا ہتمام گزشتہ روز مقا می ہوٹل میں بجٹ تجزیہ رپورٹ پیش کر نے کی تقریب رکھی گئی تقریب میں میڈیا، ماہر معاشیات ، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔رپورٹ لانچ کے موقع پر بات کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ اور ترجمان چائلڈ رائٹس موومنٹ پنجاب تنویر جہاں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کوخود مختاری کیساتھ ساتھ مزید فنڈز بھی مہیا کئے گئے ، مگر صوبائی حکومت بچوں کی بہتری کے لئے موثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس نے شرکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بچوں پر خرچ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے جس کی بڑی وجہ ذمہ داران کی مجرمانہ غفلت ہے جس پر ان کا محاسبہ ہونا چاہیے سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انشیٹوز سے فیاض یٰسین نے شرکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو سالانہ بجٹ2013-14اور2014-15میں مختص کی گئی رقوم کو بنیاد بناتے ہوئے یہ رپورٹ تعلیم، صحت اور سماجی بہبودکے شعبوں میں خرچ کی جانے والی رقوم کا جائزہ پیش کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبے نے اپنے بچوں کی تعلیم پر 2013 میں جی ڈی پی کا 0.322 فیصد خرچ کیا 2014-15میں جی ڈی پی کا 0.388 فیصد تعلیم پر خرچ کیا گیاجبکہ صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں پر بالترتیب 0.14%اور0.04%خرچ کیا۔لاہور ، جو صوبائی دارالحکومت اور پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے، میں تقریباً 11 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔داخل ہونے والے بچوں کی کم تعداد کے علاوہ صوبائی دارالحکومت کے تقریباً گیارہ فیصد سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات، جیسا کہ ٹوائلٹ اور پینے کے پانی کی کمی ہے، جبکہ بائیس فیصد پرائمری سکولوں میں کھیل کے میدان نہیں ہیں۔باقی پنجاب میں چودہ فیصد پرائمری سکولوں میں ٹائلٹ کی سہولت میسر نہیں2012 میں یہ تعداد 13فیصد تھی اس کا مطلب ہے کہ اس عرصے میں صرف ایک فیصد اضافہ ممکن ہوپایا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1