۔۔۔لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز کیسے ہوں گے؟

۔۔۔لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز کیسے ہوں گے؟

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر تعمیری، مربوط، غیر مشروط اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے، پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی پالیسی رکھتا ہے،آسیان ریجنل فورم کے بائیسویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے اوفا میں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قیام امن اور ترقی کے لئے اپنی مشترکہ ذمے داری پر اتفاق ظاہر کیا تھا، دوسری جانب امکان ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح پر یہ مذاکرات ماہِ رواں کے اخیر میں نئی دہلی میں شروع ہو سکتے ہیں۔

مذاکرات جلد شروع ہوتے ہیں یا بدیر، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات پہلے ہونے والے مذاکرات کے سینکڑوں ادوار کی طرح بے روح، بے نتیجہ اور بے مقصد رہیں گے یا اُن سے کوئی مسئلہ بھی حل ہو گا؟سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لئے تیار ہے، لیکن کیا بھارت بھی نام نہاد جامع مذاکرات کو حقیقی معنوں میں جامع اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے تیار ہے؟ بھارت میں جب سے نریندر مودی برسر اقتدار آئے ہیں پاکستان کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسری سے بڑھ کر پاکستان کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر رکھا تھا،غالباً دونوں کی قیادت یہ سمجھتی تھی کہ پاکستان کی مخالفت کے ذریعے ووٹروں کو رام کر کے ووٹ حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ الیکشن جیت کر مودی نے پاکستان مخالف مہم جاری رکھی، مقبوضہ کشمیر سمیت بعض ریاستوں کے انتخابات اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بھی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ اس میں یہ اضافہ ہوا کہ بعض وزیر اور فوجی افسر بھی اس کورس میں وزیراعظم کی آواز سے آواز ملانے لگے۔ خصوصاً مودی جب بھی مقبوضہ کشمیر جاتے، کسی نہ کسی بہانے پاکستان کے خلاف بیان بازی سے نہ چوکتے، مزید یہ ہوا کہ کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی کو بھارتی فوجوں نے معمول بنا لیا، درجنوں ایسے واقعات ہوئے، جن میں پاکستان اور کشمیریوں کا جانی و مالی نقصان ہوا، لیکن پاکستان نے یہ سب کچھ صبرو تحمل سے برداشت کیا۔ اِس دوران پاکستان میں عسکری قیادت کے اجلاسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات بھی سامنے آئی، یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں، اور پاکستان یہ معاملہ اب اقوام متحدہ میں اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو گا، جس میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت متوقع ہے اور امکان ہے کہ وہ بھارتی مداخلت کا مسئلہ خود عالمی ادارے میں اٹھائیں گے۔

کنٹرول لائن پر کشیدگی اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ بھی تیز تر کر دیا ہے۔ اس دوران ایک جاسوس ڈرون طیارہ بھی پاکستان بھیج دیا، جسے پاکستان میں گرا لیا گیا، تو بھارت صاف مُکر گیا کہ یہ اُس کا طیارہ نہیں ہے۔ پاکستان نے اس طیارے کے کیمرے سے حاصل شدہ تصویریں ریلیز کر دیں، جن میں بھارتی چوکی اور پرچم صاف پہچانے جا رہے ہیں، اس کے بعد بھارت نے گورداس پور واقعے میں پاکستان کو ملوث کر دیا، کئی دن کے بعد جب یہ ڈرامہ فلاپ ہو گیا، تو اب ایک نیا قضیہ شروع کر دیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں ایک نوجوان عثمان کو گرفتارکرکے پاکستانی ثابت کرنے کے لئے زور لگایا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کے ’’نادرا‘‘ کاکہنا ہے کہ اس کا کوئی ریکارڈ پاکستان میں نہیں ۔ اس سے پہلے ایک پاکستانی خاتون کو گرفتار کر کے اسے’’جاسوس‘‘ ظاہر کیا گیا، یہاں تک کہ ایک کبوتر کو بھی جاسوس سمجھ کر پکڑا گیا تھا اور کئی دن بعد چھوڑا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاں بداعتمادی کا یہ عالم ہو اور جہاں بھارتی وزراء روزانہ یہ بیان دینا بھی ضروری سمجھتے ہوں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، وہاں کشمیر پر کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں اور اگر کسی نہ کسی طرح شروع بھی ہو جائیں تو کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ امکان یہی ہے کہ سب کچھ ایک بے کار مشق ثابت ہو گا۔

دونوں مُلکوں میں بداعتمادی کا جو عالم ہے اس کو پیشِ نظر رکھیں تو مذاکرات کی گاڑی آگے چلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اگر مذاکراتی میز بچھا بھی دی جائے تو بھارت کی کوشش ہوتی ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ نان ایشوز کے گرد گھومتا رہے، یا پھر تجارت وغیرہ کی بات ہوتی رہے۔ جونہی کشمیر کا ذکر آتا ہے، مذاکرات حیلے بہانوں سے روک دئے جاتے ہیں، یا پھر لمبی تاریخیں ڈال دی جاتی ہیں کیا اس بار بھی ایسا ہی ہو گا؟ فریقین ملیں گے، مصافحہ ہو گا، میز پر بیٹھیں گے،بات چیت شروع ہو گی، چائے کھانے کے دور چلیں گے، اگلا دور اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تاریخیں طے ہو جائیں گی اور فریقین دامن جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوں گے۔اگر واقعتا اِسی طرح ہی مذاکرات ہونے ہیں تو ان کا نتیجہ ابھی سے معلوم ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتی نیتا دِل سے چاہیں کہ وہ واقعی پاکستان کے ساتھ پُر امن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں اور کشمیر سمیت جو مسائل اس راہ میں حائل ہوتے ہیں، اُن کا حل نکالنے کی تدبیر کریں، جہاں طے شدہ مذاکرات محض اس وجہ سے ملتوی کر دئے جاتے ہوں کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت رہنماؤں سے ملاقات کیوں کر لی، وہاں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل کام نظر آتا ہے۔ ان حالات میں اگر سرتاج عزیز بھارت جاتے ہیں تو امکان تو یہی ہے کہ خالی ہاتھ ہی واپس آئیں گے، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اب کی بار مذاکرات کے موضوعات شارٹ لسٹ کر لئے جائیں، جن میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رکھا جائے اور بات چیت کا آغاز اس مسئلے سے ہو، اگر اس پر بات آگے بڑھے تو ایجنڈے کے دوسرے موضوعات زیر بحث آئیں، مسئلے حل کرنے کے لئے ٹائم فریم بھی طے کر لیا جائے ،ورنہ مذاکرات کے نام پر تضیع اوقات کا یہ شغلِ فضول ترک کرنا ہو گا، اور دُنیا کو بتانا ہو گا کہ بھارت مذاکرات میں قطعاً سنجیدہ نہیں۔ یہ جو کبھی کبھار ملاقاتیں ہو جاتی ہیں ان کا مقصد محض یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ بھارت تو مذاکرات چاہتا ہے پاکستان ہی ایسا نہیں کرنا چاہتا۔

مزید : اداریہ