لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمر!

لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمر!

موسمِ برسات شروع ہونے کے ساتھ ہی برقی رو مہیا کرنے والی کمپنیوں نے دعوے کئے تھے کہ بجلی کی سپلائی بحال رکھنے کے لئے ان کے پاس وافر انتظامات ہیں اور ان میں ٹرانسفارمر بھی شامل ہیں۔ لیسکو کی طرف سے زیادہ بڑا دعویٰ کیا گیا، لیکن عملاً اس کے بالکل برعکس ہوا، ایک طرف لوڈشیڈنگ پریشان کر رہی تھی، تو دوسری طرف ذرا سی تیز ہَوا اور بارش کے زور دار چھینٹے ٹرانسفارمر اور سپلائی لائن کے جمپر اُڑا دیتے۔ وافر ٹرانسفارمر رکھنے والی کمپنیاں ٹرانسفارمروں کی مرمت کے لئے سات سات آٹھ آٹھ گھنٹے لینے لگیں اور جہاں کہیں ٹرانسفارمر کی تبدیلی لازم ٹھہری وہاں دو دو دن بھی بجلی غائب رہی کہ خراب ٹرانسفارمر ہی کو درست کر کے لگوانا ٹھہرا۔محکمہ کے نصیب اچھے یا پھر یہ زیادہ اچھی قسمت لے کر آئے ہیں کہ ان کے خلاف احتجاج بھی مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں، جو جلد ہی ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور میں سڑکیں بند ہوتیں اور توڑ پھوڑ بھی کی جاتی تھی، حتیٰ کہ فیصل آباد میں مل مالکان اور مزدور مل کر احتجاج کرتے اور ان کو پنجاب حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی تھی۔

اب حبس کے دن شروع ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے پنکھے سے ہٹو تو پسینے سے شرابور ہو جاؤ والا معاملہ ہے، لوڈشیڈنگ ہے تو شہروں میں8 سے 10گھنٹے اور دیہات میں12گھنٹے سے شروع ہوتی ہے۔ مقامی ٹرانسمیشن لائنیں اور ٹرانسفارمر بوسیدہ ہو چکے۔ عرصہ سے تبدیلی کے منتظر ہیں، کئی علاقوں کی تزئین نو کی منظوری حتیٰ کہ فنڈز بھی مختص ہوئے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لائنوں کی تبدیلی اور ٹرانسفارمر مہیا نہیں ہو سکے۔ اب تو مرمت مشکل ہو رہی ہے۔ لیسکو کے ایس ڈی او اور ایگزیکٹو انجینئر سرکاری فون ہونے کے باوجود بات کرنا گوارا نہیں کرتے۔ان حالات میں عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے۔ آخر کب تک صبر ہو گا، اب مظاہروں کی نوبت آ رہی ہے، کئی علاقوں میں یہ سلسلہ شروع بھی ہے۔ بہتر ہو گا کہ مرمت اور تزئین کے شعبوں کو بیک وقت کام پر لگایا جائے اور نئے ٹرانسفارمر وعدے کے مطابق مہیا کر دیئے جائیں، عملے کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ شکایت فوراً رفع ہو، ایس ڈی او سے ایکسین تک سب کو فون سننے کا پابند بنایا جائے۔

مزید : اداریہ