خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (تیسری وآخری قسط)

خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (تیسری وآخری قسط)
خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (تیسری وآخری قسط)

  

محصولات کی وصولی میں عدم تشدد:جہاں تک نظام محاصل (ٹیکس)میں حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی کے طریقِ کار کا تعلق ہے اس میں سختی اور جبر وتشدّد کے بجائے حسنِ سلوک اورنرمی کا برتاؤ کیا جاتا تھا جیسا کہ قاضی ابویوسفؒ نے کتاب الخراج کے باب الجزیہ میں حضرت عمرفاروقؓ کے دَور کاایک واقعہ لکھا ہے کہ:’’ ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظمؓ شام سے واپس آرہے تھے تو راستے میں چند آدمیوں کا مجمع دیکھا جن کے سروں پر تیل ڈالا جارہا تھا لوگوں سے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے؟تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے جزیہ ادا نہیں کیا ہے؛ اس لئے انہیں سزا دی جارہی ہے، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے پوچھا، آخر انہوں نے جزیہ کس وجہ سے ادا نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ ’’ناداری اور مفلسی ‘‘ کی وجہ سے ادائیگی نہ ہوسکی۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو، میں نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ:۔۔۔’’لاتعذب الناس فان الذین یعذبون الناس فی الدنیا یعذبھم اللّٰہ یوم القیامۃ۔‘‘۔۔۔ لوگوں کو عذاب وسزا نہ دو! کیونکہ جو لوگ دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

معذروں کیلئے وظائف:حضرات خلفائے راشدینؓ کے دَور میں معذروں، محتاجوں، بچوں اور بوڑھوں کے لئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے تھے، اور اس قسم کی رعایت ذِمّیوں کے ساتھ بھی رکھی جاتی تھی، اس نظام کی ابتداء امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دَورِ خلافت میں ہوئی تھی؛ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے جب حیرہ فتح کیا تو معاہدے کی یہ شرائط لکھی گئی تھیں:’’اگر کوئی شخص کام کرنے سے معذور ہوجائے، وہ ضعیف العمر ہو اور کام کی اہلیت نہ رہے، یا کسی مصیبت اور ناگہانی تکلیف میں مبتلا ہوجائے، یا وہ دولتمند تھا کہ غریب ومحتاج ہوگیا، اور اس کے ہم مذہب اسے خیرات دینے لگیں تو اس کا جزیہ موقوف کردیا جائے گا، اور اس کی وہ اولاد جو مسلمانوں کی مملکت میں رہائش پذیر ہو ،وہ بھی اس رعایت کی مستحق ہوگی، لیکن اگر کوئی غیر ملک میں چلا جائے تو مسلمانوں کے ذِمے ان کے اخراجات اور نفقہ وغیرہ نہیں ہوگا‘‘۔

یہ قاعدہ حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظمؓ کے زمانے میں بھی رائج رہا؛ چنانچہ ان کے دَور میں ایک مرتبہ کسی ضعیف العمر (عیسائی یا یہودی) کو بھیک مانگتے دیکھا تو دریافت کیا کہ بھیک کیوں مانگتا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے اور مجھ میں ادا کرنے کی سَکت نہیں، حضرت عمر فاروق اعظمؓ اسے اپنے ساتھ گھر لائے اور کچھ نقد دے کر بیت المال کے داروغہ سے کہلا بھیجا کہ اس قسم کے معذوروں کیلئے بیت المال سے وظیفہ مقرر کردیا جائے، اور فرمایا: واللہ! یہ انصاف کی بات نہیں کہ ان لوگوں کی جوانی سے توہم نفع اٹھائیں اور بڑھاپے میں ان کو نکال باہر کریں کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائیں۔۔۔ذِمیوں کی عزت وآبرو کو اسی طرح تحفّظ حاصل ہے ،جس طرح مسلمانوں کی عزّت وناموس کا، اور ان لوگوں کی بابت کسی قسم کے تحقیر کے الفاظ استعمال کرنے ممنوع تھے۔

اسلام کا فلاحی نظام:خلفائے راشدین کے نظامِ ٹیکس اور نظامِ مالیات کی چند نمایاں اور انقلابی اقدامات کا تذکرہ نہایت اختصار اور اشارے کی صورت میں کیاگیا ہے ، اس دَور کے تمام محاصل اور ٹیکسوں کا مقصود ایک فلاحی ریاست کا قیام تھا، جس میں ہر فرد کو اس کی ضرورت کے مطابق مادّی وسائل فراہم کئے جاتے تھے، صرف ایک اہم واقعہ کا تذکرہ کرکے معروضات ختم کئے دیتا ہوں۔۔۔ کتاب اعلام الموقعین جلد 2 صفحہ 33 کے حوالے سے چراغِ راہ کے اسلامی قانون نمبر24میں لکھاہے کہ :’’ قبیلہ مزنیہ کے ایک شخص کی اونٹنی چوری ہوگئی جو حاطب بن ابی بلتعہؓ کے غلاموں نے چوری کی تھی وہ پکڑے گئے، اونٹنی کا مالک حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں فریادی ہوا، غلاموں نے حضرت عمرؓ کے سامنے چوری کا اقرار کرلیا، انہوں نے کثیربن ابی صلتؓ کو بلا کر ان چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا کہ اس دوران حضرت فاروق اعظمؓ کو علم ہوگیا کہ غلاموں نے فقروفاقہ سے مجبور ہوکر اونٹنی چرائی تھی۔ حضرت عمرؓنے اونٹنی کے مالک کو بلایا اور ان سب کے سامنے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر مجھے اس کا علم نہ ہوتا کہ تم جن لوگوں سے کام لیتے ہو اور انہیں اس قدر فاقہ مست ومحتاج رکھتے ہو کہ ان میں سے کوئی حرام کھالے تو ان کے لئے حلال ہوجائے تو میں ان کے ہاتھ ضرور کٹوادیتا مگر اب ان کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے تمہیں سزا دوں گا،چنانچہ مالک سے اونٹنی کی قیمت پوچھ کر ان غلاموں کو دلوادی گئی تھی۔‘‘۔۔۔(اس سلسلے میں قرآنِ حکیم کی وہ آیت بھی پیش نظر رکھنی چاہیئے جس میں مردار ، خنزیر اور خون وغیرہ کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے:۔۔۔(فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلاَ اِثْمَ عَلَیْہِ(البقرۃ))۔۔۔یعنی جو شخص حرام کھانے پر مجبور ہو اور وہ اپنی ضرورت سے زائد نہ کھائے تو اضطراری حالت میں جائز ہے)

یہ تاریخی واقعہ دَور حاضر کی معاشی ناہمواری اور ایک طبقے میں دولت وسرمایہ مرکوز ہونے یعنی امیروں کے امیر تر اورغریبوں کے غریب تر ہونے کے ماحول میں اہلِ بصیرت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔بہر نوع ان معروضات کا مقصد یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا نظام ٹیکس محض بھاری ٹیکس عائد کرکے خزانہ بھرنے کیلئے نہیں تھا، بلکہ اس دَور میں شرفِ انسانیت ملحوظ رکھا جاتا اور مخلوقِ خدا کی خدمت وفلاح وبہبود کو فوقیت دی جاتی تھی وہ نظام اس کرّہ ارض پراسلام کے نظامِ عدل ومساوات کے قیام کے لئے تھا۔ عصرِ حاضر کے تمام مسلم ممالک کے اربابِ اقتدار جب تک اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں قائم نظامِ خلافت راشدہ کا نفاذ نہیں ہوتا تو اس ناگفتنی صورت کی دلدل سے کبھی نہیں نکل سکتے، وہی پاکیزہ نظام ہی ہمارے مسائل اور ہماری پریشانیوں کا حل ہے :

وہی چراغ جلاؤگے تو روشنی ہوگی

مزید : کالم