سماجی ہم آہنگی کیلئے مناظرے کی نہیں مکالمے کوفروغ دینا ہوگا،ڈاکٹر قبلہ ایاز

سماجی ہم آہنگی کیلئے مناظرے کی نہیں مکالمے کوفروغ دینا ہوگا،ڈاکٹر قبلہ ایاز

لاہور( نمائندہ خصوصی)پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ سماجی ہم آہنگی کیلئے مناظرے کی نہیں مکالمے کوفروغ دینا ہوگا۔ قوم اختلاف کے آداب سیکھے۔ معاشرے میں فرقہ واریت نے سماجی ہم آہنگی کومتاثر کیا ہے۔ قیام پاکستان کی تاریخ کو مسخ نہ کیا جاتا تو سماجی ہم آہنگی کی صور تحال خراب نہ ہو تی ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پاک انسٹیٹیوٹ فارپیس سڈیز کے زیر اہتمام مختلف مذاہب و مسالک کے نوجوان دینی سکالرز کی مشترکہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شرکاء میں مختلف مذاہب و مسالک کے پچاس سے زائد نوجوان سکالرز نے شرکت کی ۔مقررین میں پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رومانہ بشیر ، کالم نگار اور اینکر خورشید احمد ندیم ، جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے وائس پرنسپل مفتی محمد زاہد ، الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے چیئرمین عمار خان ، ادارہ فکر جدید لاہور کے پرنسپل صاحبزادہ امانت رسول ، پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا شامل تھے۔ ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رومانہ بشیر نے کہا کہ پاکستانکی تاریخ مرتب کرتے وقت غیر جانبداری نہیں برتی گئی ۔

آج ریاست ایک اپنی بیانیہ رکھتی ہے جس میں بین المذاہب ہم آہنگی تو درکنار بین المسالک ہم آہنگی بہت بڑا چیلنج ہے۔ خورشید احمد نے کہاکہ پاکستانی معاشرہ میں سماجی ہم آہنگی شدید متاثر ہے۔ دور جدید میں سماج کی تشکیل مذہب کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی ۔ مفتی محمد زاہد نے کہاکہ جنو نی انتہا پسندوں کے بجائے اہل علم اور امن پسندوں کو ہیرو بنایا جائے ۔موجودہ دور میں نفرتوں اور دہشتگردی کے عمل میں اربوں ڈالر کا کارو بار کیا جارہا ہے۔ صاحبزادہ امانت رسول نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ میثاق مدینہ کو بنیاد بنایا جائے تو اقلیتوں کی شکایات کا خاتمہ اور مذہبی ہم آہنگی کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ جرمن سفارتخانے کے ڈاکٹر ڈین تائیڈن نے کہا کہ جرمن معاشرہ بھی تفرقہ بازی سے گزرچکا ہے۔ اگر آج وہاں مذہبی ہم آہنگی ہے تو وہاں کو ئی مذہب نہیں ریاست ہے۔ ریاست نے تمام چیزوں کیلئے حدود کا تعین کیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4