توہین رسالت مقدمہ ،ملزمہ کی ذہنی معذوری ظاہر کرکے پھر ضمانت کی درخواست دائر

توہین رسالت مقدمہ ،ملزمہ کی ذہنی معذوری ظاہر کرکے پھر ضمانت کی درخواست دائر

لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج نعیم عباس کی عدالت میں توہین رسالت کے مقدمہ میں ملوث ملزمہ نے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد خود کو ذہنی معذوری ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر ضمانت کی درخواست دائر کردی گئی ۔۔مقدمہ مدعی کے وکلاء کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر اعتراضات داخل کرنے پر فاضل جج نے ڈائر یکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب سمیت 8ڈاکٹرز کوآج 8اگست کوسرٹیفکیٹ ودیگرریکا رڈ سمیت طلب کر لیاہے۔استغاثہ کے مطابق ملزمہ سلمیٰ تنویر کے خلاف مقدمہ نمبر861/13بجرم 295-Cتھانہ نشتر کالونی میں قاری محمد افتخار ی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ۔ملزمہ نے اپنے وکلاء کی وساطت سے عدالت میں دائردرخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ شیزو فیکٹو ڈس آرڈر(ذہنی بیماری ) میں مبتلا ہے تاہم اسے ضمانت پر رہا کیا جائے جس پر مقدمہ مدعی کے وکلاء غلام مصطفےٰ چودھری طاہر سلطان کھوکھر نے اعتراضات داخل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ سرٹیفیکٹ پر اعتراضات داخل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ کی جانب سے مختلف درخواستیں عدالت میں دائر کی گئی ہیں اب بیماری کا بہانہ کر کے ڈاکٹری سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورڈاکٹروں نے مختلف اوقات میں مختلف سرٹیفیکیٹ جاری کئے ہیں۔

،مذکورہ بیماری کا یہ سرٹیفیکٹ بھی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ،ملزمہ ایک صحت مند اور پڑھی لکھی خاتون ہے جو اپنے علاقہ میں پرائیوٹ سکول چلاتی ہے لہذا عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کی جائے ،عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ڈائر یکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب سمیت 8ڈاکٹروں کوآج 8اگست ریکا رڈ سمیت طلب کر لیاہے۔واضح رہے کہ مذکورہ ملزمہ کی 2اپریل 2015کو عدالت نے درخواست ضمانت خارج کردی تھی جس میں مقدمہ مدعی کے وکلاء نے موقف اختیار کیا تھا کہ ملزمہ پر الزام ہے کہ اس نے تحریر اور تقریری طور پر توہین آمیز الفاظ استعمال کرکے تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ہیں ،مقدمہ کی تفتیش SPرینک کے آفیسر نے کی ہے جنہوں نے دوران تفتیش ملزمہ و گنہگار ٹھہرایا ہے جس پر اس کی ضمانت عدالت نے خارج کی تھی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4