اقبال مسیح:ننھا پاکستانی ہیرو جسے پاکستانیوں کے سوا ساری ہی دنیا جانتی ہے

اقبال مسیح:ننھا پاکستانی ہیرو جسے پاکستانیوں کے سوا ساری ہی دنیا جانتی ہے
اقبال مسیح:ننھا پاکستانی ہیرو جسے پاکستانیوں کے سوا ساری ہی دنیا جانتی ہے

  

پاکستان کیلئے یہ بات پریشانی سے خالی نہیں ہے کہ گزشتہ سال ملک کی شرح خواندگی میں اضافے کی بجائے دو فیصدکمی دیکھنے میں آئی اور یوں ریاست پاکستان میںخواندہ افراد کی تعداد ساٹھ فیصد سے کم ہو کر صرف اٹھاون فیصد رہ گئی ہے۔اس سے قبل اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے بچوں میں سے محض ستر فیصدبچے ہی سکول کا رخ کرتے ہیں جن میں صرف پچاس فیصد بچے ہی پرائمری سکول سے مڈل سکول کی تعلیم تک پہنچ پاتے ہیںاور باقی بچاس فیصد کسی نہ کسی صورتحال کے سبب سکول جانا ترک کر دیتے ہیں۔ یوں یہ کروڑوں بچے یا تو ایک دن کیلئے بھی سکول کا رخ نہیں کرتے (تیس فیصد)یا پرائمری تعلیم کے دوران ہی ان کی مالی ضروریات انہیں مزید سکول جانے کی اجازت نہیں دیتی۔

سوچنے کے قابل امر یہ ہے کہ سکول میں پڑھنے نہ جانے والے یہ بچے پھر آخر کہاں جاتے ہیں؟ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے مطابق یہ بچے مجبوراً مزدوری کرتے ہیں جو نہ صرف بلکہ مقامی طور پر بھی غیر قانونی ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ان لاکھوں بچوں میں سے بیشتر صرف چالیس روپے یومیہ کماتے ہیںاور یوں نہ تو پیٹ کا ایندھن بجھ پاتا ہے اور نہ ہی ان کی حالت سنورتی ہے۔ ایسی ہی ایک سچی داستان ©’اقبال مسیح‘ کی ہے جس کا تذکرہ اطالوی مصنف فرانسسکو ڈی اڈامو کے ناول میں موجود ہے۔ ناول میں ایک فاطمہ نامی بچی کے افسانوی کردار کی زبانی اقبال کی داستان کچھ یوں بیان ہوئی ہے ’ ہم سب بچے اپنے بچپن کے دنوں میں ہی سب کچھ بھولتے جا رہے تھے اور ہمارے ذہنوں میں قالین بنانے کے سوا کچھ باقی نہ رہا تھا کہ چارسالہ اقبال ہماری زندگی میں شامل ہوا اور پھر سب کچھ بدل گیا‘۔این لیوری نے اسی ناول کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کر رکھا ہے۔

دیگر حقائق کے مطابق اقبال مسیح 1983 میں ضلع گوجرانوالہ کے نواحی شہر مرید کے میں پیدا ہوا۔ اقبال کے والدنے اس کے بڑے بھائی کی شادی کیلئے چند سو روپے کا قرض ارشد نامی ایک مقامی تاجر سے لے رکھا مگر ادھار چکانے کی استطاعت نہ تھی ۔ یوں چار سال کی عمر میں ہی اقبال کو اپنے باپ کے لئے ہوئے قرض کے سبب مزدوری کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔چھ سال تک کیلئے اقبال دن میں چودہ گھنٹے تک کام کرتا رہا مگر قرض تھا کہ جوں کا توں موجود رہا۔ جب وہ دس سال کا ہوا تو اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کیلئے بھاگ کھڑا ہوا مگر پولیس کے مقامی افسران نے اس کو پکڑ کر دوبارہ اسی تاجر کے حوالے کر دیا۔ اب کی بار کام کا بوجھ مزید بڑھا دیا گیا مگر ایک ہی سال بعد اقبال پھر سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس دفعہ خوش قسمتی سے وہ ’چائلڈ لیبر‘ کیخلاف سرگرم تنظیم کے پاس جا پہنچا جنہوں نے پاکستانی قانون کی روشنی میں اسی غلامی کے طوق سے بچایا۔

بعد ازاں اقبال مسیح اپنے ہی جیسے تقریباً تین ہزار ننھے مزدوروں کی رہائی کا سبب بنا۔ دنیا کو خبر ہوئی تو اقبال، جو کہ گیا رہ سال کی عمر میں بھی چار فٹ سے کم قد کا تھا، کی دھوم مچ گئی۔اسے عالمی ری بک یوتھ ان ایکشن ایوارڈ سے نوازا گیا جس کے تحت سالانہ پندرہ ہزار امریکی ڈالر کی تعلیمی سکالرشپ دی گئی جبکہ برینڈیز یونیورسٹی نے اقبال کو کالج کی عمر تک پہنچنے پر مفت تعلیم دینے کا اعلان کیا۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے اس مجاہد کو پہلے سویڈن اور اس کے بعد امریکہ میں سکول کے بچوں سے بات چیت کرنے کیلئے بلایا جہاں مقامی سکولوں کے طالبعلموں نے اپنے جیب خرچ سے ایک فنڈ قائم کیا جو آج بھی پاکستان میں بچوں کے بیس سکول چلا رہا ہے۔ اسی دوران اقبال نے دو سالوں میں چار سال کے برابر تعلیم حاصل کی حالانکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سے بہت ہی چھوٹا دکھائی دیتا تھا مگر اس کا عزم بہت بڑا تھا۔

سال 1995 میں جب اقبال امریکہ سے واپس اپنے گاو¿ں’رکھ باو¿لی‘ پہنچا تو 16 اپریل کوجب کو سائیکل چلا رہا تھا تو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے اس معصوم فرشتے کی زندگی ختم کر ڈالی۔یہ گناہ کن ظالموں کے ہاتھوں سرزدہوا کوئی نہیں جانتا ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قبال کو اسی تاجر نے مار ڈالا تھا جس کے پاس وہ بچپن میں کام کرتا تھا جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ کسی مقامی کسان کو اقبال مسیح کی نیک نامی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔ پاکستانی پولیس تواقبال کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی مگر دنیا اقبال مسیح نامی ننھے پاکستانی کو آج تک نہیںبھول پائی۔ اقبال کی موت کے بعد مقامی نوجوانوں نے کینیڈا میں ’فری دی چلڈرن‘نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی جبکہ اقبال مسیح شہید چلڈرن فاو¿نڈیشن کا بھی آغاز کیا گیا جو جبری مزدوری کرنے والے بچوں کو علم کی روشنی کی طرف لانے کیلئے کام کرتی ہے۔

سال 2009 میں امریکی کانگرس نے سالانہ اقبال مسیح ایوارڈ کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد میں سے ہر سال کسی ایک کو دیا جاتا ہے۔ سال 2014میں جب بھارتی شہری کیلاش ستیارتھی کو عالمی نوبل امن ایوارڈ سے نوازا گیا تو انہوںنے بھی اپنی تقریر میں اقبال مسیح کو خراج عقیدت پیش کیامگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اقبال کو ساری ہی دنیا جانتی ہے مگر اسے پاکستانی نہیں جانتے ۔ اور نہ ہی کسی کے علم میںاقبال کی موت کی خبر پرمعروف امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی لکھی گئی لائن ہے کہ ’آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کتنا بہادر تھا‘۔

مزید : بلاگ