ادب اور زندگی

ادب اور زندگی
ادب اور زندگی

  

’’ادب برائے ادب‘‘ اور’’ ادب برائے زندگی‘‘ کی بحث ہرگز نئی نہیں ہے۔خا ص طور پر 1917ء میں روس میں بالشویک(سوشلسٹ) انقلاب نے ایشیا کے ممالک کی سیا سی تحریکوں پر اثر ڈالا تو وہیں دوسری طرف نہ صرف ایشیا ئی ممالک بلکہ یورپ میں بھی ’’ادب برائے مقصد‘‘کے نظریے کو بھرپور پذیرائی ملنا شروع ہوئی۔بر صغیر کے ادبی حلقے بھی’’ ادب برائے ادب ‘‘یا ’’ادب برائے مقصد ‘‘کی نظریا تی بحث سے متا ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اور پھر اسی ادبی بحث کے تنا ظر میں بر صغیر میں با قاعد ہ طور پر ترقی پسند تحریک کا بھی آغاز ہوا، جس نے برصغیر کی بڑی اور کئی چھوٹی زبا نوں کے ادب پر اپنے نقوش مرتب کئے۔ اس ترقی پسند تحریک نے ’’ادب برائے مقصد ‘‘ کے تصور کو بھر پور طریقے سے اجا گر کیا۔برصغیر کے ہی تنا ظر میں جن ادیبوں اور دانشوروں نے ’’ادب برائے مقصد‘‘ کے تصور کو بھر پور نظریاتی جہد دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ان میں اختر حسین رائے پوری(1912-1992ء) کا نام سر فہرست ہے۔اردو ادب کا ایک عام قاری بھی اختر حسین رائے پوری کے نام اور ادبی کا رناموں سے واقف تو ضرور ہو گا، مگر اس حوالے سے ایک بڑا مسئلہ یہی رہا کہ اختر حسین رائے پوری کی اکثر تحریریں، ادبی مقالے،تراجم اور افسانے تازہ طور پر شا ئع نہ ہو نے کے با عث کتا بوں کی دکا نوں میں نا پید ہو نے لگے تھے۔اب اردو ادب کے قارئین کے لئے خوشی کی ایک بڑی خبر ہے کہ ’’ادب اور زندگی اور دیگر تحریریں‘‘کے نا م سے کتاب مارکیٹ میں منظر عام پر آچکی ہے جس میں اختر حسین کی اہم تحر یریں موجود ہیں۔ادب اور زندگی،ادبی ترقی پسندی کا مفہوم،سوویت روس کا ادب،بنگال کا با غی شاعر ۔نذر الاسلام ، اُردو شاعری میں عورت کا تخیل،اُردو زبا ن کا مستقبل،جنگ اور ادب جیسے اہم مقالوں کے ساتھ ساتھ پتھر کی مورت، موت، مجھے جانے دو، وہ دونوں اور مر گھٹ جیسے منتخب افسانوں کے ساتھ ساتھ آخری مغل شہنشاہ رنگون میں، یورپ پہلی نظر میں اور یو رپ سے واپسی پر ہندوستان پہلی نظر میں جیسے انتہا ئی فکر انگیز منتخب مضامین بھی شامل کئے گئے ہیں۔

اختر حسین رائے پو ری کی دیگر تحریروں کی اہمیت اپنی جگہ مگر ان کے مقالہ ’’ادب اور زندگی‘‘کو اس بنیا د پر ایک خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس مقالے نے برصغیر میں ترقی پسند ادب کی تحریک کو نکتہ آغاز فراہم کیا۔ 1935ء میں لکھے گئے اس انتہا ئی اہم مقالے کی حیثیت آج بھی مسلمہ تسلیم کی جا تی ہے۔ اگر کسی کو اس با ت میں رتی برابر بھی شک ہو تو وہ خود اس مقالے ’’ادب اور زندگی‘‘ کا مطا لعہ کر کے دیکھ لے۔یہ مقالہ آج بھی تازہ دکھائی دیتا ہے، کیو نکہ21ویں صدی میں بھی بے شک ادب کی شکل، موضو عات، اور اسلوب تبدیل ہو چکے ہوں، مگر ’’ادب اور زندگی ‘‘میں اٹھا ئے جا نے والے سوالات آج کے دور میں بھی اہمیت کے حامل ہیں۔کیا آج بھی یہ سوال اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ آرٹ انسان کے لئے ہے یا انسان آرٹ کے لئے؟اختر حسین کی اپنے دور کے ادیبوں پر کی جانے والی یہ تنقید آج بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اکثر ادیب صرف Form،یعنی ہیت کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور وہ اس با ت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ کسی ادیب نے کس ما حول میں پر ورش پا ئی ہے۔

اختر حسین رائے پوری کے مطا بق ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے اور زندگی اور ادب کا مقصد ایک ہی ہے۔ اس مقالے میں علمی اعتبا ر سے قدیم اور عہد وسطی کے ادب کا جا ئز ہ لینے کے بعد اختر حسین یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ان دونوں ادوار میں ادب کودو طبقات ہی تخلیق کرتے تھے ایک بیراگی (صوفی) اور دوسرا اشرا فیہ کا طبقہ۔ اختر حسین کی رائے میں ان دونوں طبقات کا زندگی کو دیکھنے، اس کو سمجھنے اور اس کو پر کھنے کا تجربہ با لکل محدود تھا اسلئے ادب کا معیا ر بھی محدود ہی رہا۔

اختر حسین رائے پو ری اپنے عہد کے ادیبوں کے بارے میں لکھتے ہیں’’آج ادیبوں کی حالت کیا ہے، جو پیشہ ور ہیں وہ فلم کمپنیوں، جا ہل کتب فروشوں اور تن آسان نا ظروں کے ہا تھ خود کو بیچ دیتے ہیں،جو شوقیہ لکھتے ہیں وہ زندگی کو سمجھتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ زندگی کھیتوں اور کا ر خانوں میں ہے نہ کہ آرام کر سیوں اور آراستہ ایوانوں میں۔ پھر جب کبھی ان سے کہا جا تا ہے کہ تمہا رے فرائض و مقاصدکم از کم معمولی انسان جیسے ہیں تو یہ بندہ گان خدا’ادب برائے ادب ‘کی دہا ئی دینے لگتے ہیں‘‘

کیا کو ئی شخص اپنے سینے پر ہا تھ رکھ کر اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ ادیبوں کے با رے میں عشروں پہلے لکھے گئے ان جملوں میں چند جزویات کو چھوڑ کر صداقت نہیں ہے؟اختر حسین رائے پو ری کے نزدیک ادب کا درست معیا ر ہی یہ ہے کہ وہ انسا نیت کا ترجما ن ہو۔ادیب پر لا زم ہے کہ وہ زندگی کی تگ و دو میں شامل ہو کر اس کے رموز سے آگا ہی حاصل کرے۔انسانیت کو وحدت کا پیغام سنا نا ، شاونزم پر مبنی قومیت اور وطنیت کے جذ با ت کی مخالفت کرنا اور اخوت و مساوات کے پیغام کو عام کرنا ادیب کے بنیادی مقاصد ہونے چاہیں۔ سوویت انقلاب سے متا ثر ہو نے کے با عث اختر حسین ادب کو معا شی قدروں کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی کوشش کرتے رہے،اور اس حوالے سے ان کا مقالہ ’’قدیم ادب ہند کا معا شی تجز یہ ‘‘ بھی اہمیت کا حامل ہے۔بر صغیر کے قدیم ادب پر بجا طور پر تنقید کر تے ہو ئے اختر حسین یہ رائے دیتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں برصغیر کی واضح اکثریت غریب کسا نوں، کاشت کا روں ، مفلوک الحال شودروں اور مظلوم عورتوں پر مشتمل تھی اس کے با وجود سنسکرت جیسی بڑی اور قدیم زبان کے ادب میں ایسے محروم طبقات کے لئے کو ئی جگہ نہیں رہی۔ سنسکرت میں زمانہ قدیم کے دوران ،جو ادب تخلیق ہو تا رہا اس کے موضوعات کا بڑ ا حصہ تن آسان با دشاہوں، راس لیلا رچاتے را جا وں اور رقص و سرود کی محفلوں میں غرق رہنے والے طبقہ اشرا فہ پر ہی مبنی ہو تا تھا۔اختر حسین سنسکرت میں تخلیق کئے گئے ایسے ادب کو سنسکرت ہی نہیں، بلکہ پورے بر صغیر کے قدیم ادب کا ایک سنگین المیہ قرار دیتے ہیں۔اختر حسین رائے پوری ادب کے مقا صد اور فرائض کو بیان کر نے کے بعد یہ ثابت کرتے ہیں کہ بر صغیر میں جن چند ادیبوں یا شا عروں نے ادب کے حقیقی مقاصد کو سمجھا اور عوام کو ان کی خستہ حالی کے اسباب اور ان سے نجات کا راستہ دکھایا ان میں بنگال کے انقلابی شاعر نذرالاسلام سر فہرست ہیں۔بلکہ وہ نذر الاسلام کو ر وسی ادیب میکسم گورکی کی کسوٹی پر پو را اترنے ولا فرد قرار دیتے ہیں۔

سوویت یو نین کے انقلاب سے متا ثر ہو نے کے باوجود اختر حسین رائے پو ری ان سکہ بند سوشلسٹ یا سوویت نواز ادیبوں میں سے ہر گز نہیں تھے جو سوویت نظام کو کامل ترین نظام کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔اپنے ادبی نظریا ت کے لئے بھی وہ کسی ایک مخصوص نظریے پر اندھا عقیدہ رکھنے والوں میں سے نہیں تھے۔شاہد یہی وجہ ہے کہ کئی عشرے گز جانے اور سوویت یونین کے انہدام کے با وجود اختر حسین رائے پوری کی تحریروں کی افادیت آج بھی قائم ہے۔

مزید : کالم