’’جوآقا ؐ کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں‘‘۔۔۔ریاض ندیم نیازی

’’جوآقا ؐ کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں‘‘۔۔۔ریاض ندیم نیازی

ایک تھے یا شاید ابھی ہیں ؟ ندیم نیازی، اور ایک ہیں اپنے ریاض ندیم نیازی اگر یہ خود کو صرف ندیم نیازی لکھیں تو گھپلا ہونے کا امکان واضح ہے مگر اب انہوں نے ریاض ندیم نیازی التزاماً لکھنا شروع کردیا ہے سو کسی کو مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ریاض ندیم نیازی کے بہت سے مُولفانہ اور مرتبانہ کام کے ساتھ ساتھ باقاعدہ شعری مجموعوں کی تعداد بھی خاصی قابل ذکر ہوچکی ہے مگر زیادہ تر شعری مجموعے نعتیہ ہیں۔ ابھی ابھی جو مجموعہ ہم تک پہنچا وہ بھی نعتیہ مجموعہ ہی ہے بعنوان ’’جو آقاؐ کا نقش قدم دیکھتے ہیں ‘‘ یہ سب نعتیں غالب کی زمینوں میں ہیں ، اس مجموعے کے ایک دیباچہ نگار ہم بھی ہیں کہ آج کل کے مصنفین کسی ایک کے دیباچے پر اکتفا نہیں کرتے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر معروف وممتاز شاعر وادیب کی رائے حاصل کرکے کم ازکم آدھی کتاب کا پیٹ نثر سے بھر دیا جائے ۔۔۔!بہرحال بہت سی طلبیدہ و ناطلبیدہ آراء کے ہجوم میں ہم نے لکھا :

’’ہرعہد پر غالب میرزا اسد اللہ خان غالبؔ بلاشبہ زمانوں پر حاوی ہیں ۔ گزشتہ دوصدیوں سے ان کے کلام کی معجزنمائی سخنوروں اور سخن شناسوں کو مبہوت و مسحور کئے ہوئے ہے۔ میرے نزدیک ’’غالب شکنی‘‘ کی کم ازکم سزا پاگل پن ہے، جس نے بھی یہ جسارت کی بچ نہ سکا۔ مرزا یاس یگانہ چنگیزی جیسے یگانۂ روزگار شاعر کو بھی غالب شکنی لے بیٹھی البتہ جنہوں نے غالبؔ کی عقیدت و محبت و مودت سے سرشار ہوکر غالب سے کسب فیض کیا، اس نے حسب خواہش ثمر مراد پایا۔ منشی ہرگوپال تفتہ نے کہا :

غالبؔ وہ شخص تھا ہمہ داں جس کے فیض سے

مجھ سے ہزار ہیچمداں نامور ہوئے

میرزا غالب کے شجر سایہ دار تلے بہت سے شاعروں نے سستا کر تازہ دم ہونے کا اعتراف کیا، ایسے متعدد شاعروں میں کلام غالب کے بہت اہم تغمین کنندہ مرزا سہارنپوری اور سلمان اویسی سے لے کر عہد موجود کے شعراء ایاز صدیقی ، احمد ظفر اور بشیر حسین ناظم تک نے سب سے ہٹ کر غالب کی زمینوں میں نعتیں لکھیں، بشیر حسین ناظم (مرحوم ) کی طرح اب ریاض ندیم نیازی (سبی) نے نے اپنی الگ پہچان بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس اختصاص میں وہ کس حدتک کامیاب ہوئے ہیں؟ اس کا فیصلہ باذوق قارئین ہی بخوبی کرسکتے ہیں۔ مَیں نے کتاب میں شامل تمام نعتیں حرف حرف، لفظ لفظ پورے انہماک اور بھرپور توجہ سے پڑھی ہیں اور مجھے ان میں ریاض ندیم نیازی کی انتہائی مخلصانہ عاجزانہ اور نیازمندانہ شان ابھری ہوئی محسوس ہوئی ہے گویا :

غالب ؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

کتاب’’جو آقاؐ کا نقش قدم دیکھتے ہیں ‘‘ سے کچھ اشعار اپنے کالم کے قارئین کے لئے درج کررہا ہوں۔ پوری طرح شاد کام ہونے اور حضوری وحاضری کے جذبات واحساسات کو محسوس کرنے کے لئے یہ مجموعہ پانچ سو روپے ہدیے کے عوض ماوراء پبلشرز لاہور سے حاصل کیا جاسکتا ہے :

اب ملاحظہ ہوں ریاض ندیم نیازی کے نعتیہ گلہائے عقیدت غالب کی مختلف زمینوں میں :

جس کے دل میں اے آقاؐ آپؐ کی محبت ہے

اس سے کوئی یہ پوچھے کیسا ذائقہ پایا

اشک آگئے میری سوگوار آنکھوں میں

جب کبھی تجھے دل میں یادِ کربلا پایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو درود نبیؐ سے خالی ہو

وہ دعاُ پر اثر نہیں ہوتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مانگ لے پنجتن کے صدقے میں

مدحتِ مصطفیٰؐ کرے کوئی

غالب کے ایک مصرع کو طرح بنا کر دو نعتیں مسلسل کہی گئی ہیں، مصرع ہے : ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا ‘‘ اس کے تحت دونوں نعتوں میں ایک ہی معنی و مفہوم کے دوالگ الگ شعر یوں ہیں :

بصیرت کی نظر سے جس نے مدح مصطفیٰؐ دیکھی

کمالِ فن نظر آیا اسے احمد ؒ رضاخاں کا

اور :

سنا جس نے بھی ہے پورے ادب سے ان کی نعتوں کو

سمجھتا ہے وہی رتبہ جناب احمدؒ رضاخاں کا

اسی زمین میں نعت کا ایک شعر ہے :

گزرہو جب ترا باد صبا دربار عالی سے

تو پھر احوال کہہ دینا مرے حال پریشاں کا

یقیناًفارسی کا یہ مشہور زمانہ شعر ریاض ندیم نیازی کے زیر نظر رہا ہوگا۔

نسیما جانب بطحا گزر کن

زاحوالم محمدؐ را خبر کن

اسی طرح ایک اور نعت کا شعر ہے :

خدا کے بعد بزرگی ہے آپؐ کو حاصل

عروج و اوج پہ کتنا مقام عظمت ہے

اس شعر کے پہلے مصرعے کو پڑھتے ہی فارسی کے مشہور بلکہ ضرب المثل مصرعے کی طرف ذہن جاتا ہے :

بعدازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر

بہرحال شاعر کی تمنا ہے ، آرزو ہے، حسرت ہے کہ :

نعت ہی لکھے جاؤں نعت ہی پڑھے جاؤں

یوں سدا رہے جاری عشق کا بیاں اپنا

اور یہ بھی کہ :

آپ کے پیارے نواسوں کا رہوں میں نوکر

ہے مرے دل کی صدا لب پہ دعا ہوجانا

نعت گوئی کے اعزاز کے سبب ریاض ندیم نیازی کے ایک نعتیہ مجموعے ’’خوشبوتری جوئے کرم ‘‘ کو ’’محسن نقوی ایوارڈ‘‘ بھی مل چکا ہے جس کے پس منظر میں ان کا کہنا ہے :

ملا جو نعت کا انعام مجھ کو

کوئی انعام ہے اس سے بڑا کیا

کتاب کے ابتدائی 30صفحات مختلف مقتدر شعراء کی آراء بشمول ریاض ندیم نیازی کے ’’حرف سپاس ‘‘ کی صورت میں موجود ہیں۔ پہلے چار خوش قسمت وہ ہیں جن کی تحریر کے آخر میں ان کے نام، مقام معہ اسناد و اعزازات درج ہیں۔ ہماری تحریر سے شروع ہونے والے آخری تین ناموں کے بجائے آخر میں لاہور، بہاولپور اور کراچی درج ہے، گویا یہ آراء ان تینوں شہروں نے دی ہیں، شاعروں نے نہیں۔ غنیمت ہے کہ فلیپ کی صورت میں ان طول طویل آراء کا ملخص معہ نام دیا گیا ہے۔ اس طرح کی خامیوں ، کوتاہیوں ، فروگزاشتوں بلکہ فاش غلطیوں سمیت سب سے اہم رائے پبلشر کی اپنی ہے، کہ وہ شاعر بھی ہیں اور ان کے ادارے سے اگر میرزا غالب ؔ بھی آکر اپنا دیوان چھپوائیں تو وہ میرزا غالب ؔ سے پوچھے بغیر اپنی رائے ضرور چھاپیں گے۔ کلام الملوک ، ملوک الکلام یا ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔

مزید : کالم