روزگار چھیننے کے مسائل

روزگار چھیننے کے مسائل
روزگار چھیننے کے مسائل

  

تمام سیاسی جماعتیں انتخابی اور سیاسی عمل کے لئے اپنا پروگرام ایک منشور کی صورت میں دیتی ہیں یہ کتابچہ عوام کے ساتھ یکطرفہ معاہدہ ہوتا ہے اس سے متاثر ہو کر بھی بہت لوگ اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔ 1970ء میں جو انتخابات ہوئے اور جن کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ قطعی غیر جانبدارانہ تھے، ان انتخابات کے موقع پر بھی انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے منشور مرتب کر کے دیئے تھے،پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی منشور دیا، جسے بعد میں روٹی، کپڑا اور مکان کے نعروں میں تبدیل کر دیا گیا، حالانکہ یہ بہت مکمل اور مستقبل کا اچھا خاکہ تھا۔ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ سوشلزم کو بعد میں مساوات اور پھر اسلامی سوشلزم میں بھی تبدیل کیا گیا۔ بہرحال بنیادی نعرے یہی چار تھے۔ یہ منشور ترقی پسند دانشور احباب کا تیار کردہ تھا۔ آج بھی بعض جیالوں یا پڑھے لکھے لوگوں کے پاس یہ ہو گا۔ اگر اسے غور سے پڑھیں تو اس میں ایک جگہ مُلک کے مستقبل اور اس کے معاشی استحکام کا ایک فلسفہ عملی شکل میں بیان کیا گیا تھا،وہ یہ کہ پیپلزپارٹی اقتدار میں آ کر مُلک کے دو سو بڑے قصبوں کو مکمل شہر بنائے گی۔ ان میں صنعت و تجارت اور عوامی سہولیات کے تمام مراکز ہوں گے اور روزگار سمیت تعلیم اور صحت تک کی تمام سہولتیں دستیاب ہوں گی، مقصد یہ بیان ہوا کہ ایسے شہر بنانے سے دیہات سے شہروں کی طرف انتقال آبادی کا عمل رُک جائے گا اور اردگرد کے دیہات کے مرد و وزن بھی روزگار صحت اور تعلیم کے لئے یہاں آ کر روزانہ گھروں کو واپس جا سکیں گے۔

یہ ایک بہت اچھا نظریہ تھا، اسے اسلام کی رو سے بھی پرکھا جاسکتا اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق بھی معاشی استحکام کی علامت بنتا تھا، لیکن حالات کچھ سے کچھ ہوتے چلے گئے اور بالآخر ایک سے دو مُلک بننے کے بعد پیپلزپارٹی کو مغربی بازو کا پاکستان کی حیثیت سے اقتدار ملا، تو نئے نئے مسائل سامنے آتے رہے، منشور کے بہت سے حصوں پر عمل نہ ہوا تو یہ وعدہ بھی گول ہی ہو گیا۔ یہ خیال اس لئے آیا کہ حال ہی میں محکمہ شماریات کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے پچیس بڑے شہروں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ دیہات سے شہروں کی طرف منتقلی کے سبب ہے۔ دس سال میں ان پچیس شہروں کی آبادی73فیصد بڑھی، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس سے خیال آیا کہ پیپلزپارٹی اگر اپنے منشور کے اس حصے پر عمل کر گئی ہوتی ہے، آج مسائل کی موجودہ شدت نہ ہوتی۔ بہرحال پیپلزپارٹی والوں کے تحفظات اور وجوہات اپنی اور ان کے پاس دلائل ہیں۔

یہ خیال دو اور واقعات کی وجہ سے بھی آیا، ایک یہ کہ اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سیکٹر11میں ایک افغان بستی گرا کر قبضہ کر لیا۔اس پر پاکستان ورکرز پارٹی کے محترم عابد حسن منٹو نے احتجاج کیا ہے اور مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس پر ہمیں حیرت ہے کہ وہ خود بہت بڑے ماہر قانون ہیں، اس سلسلے میں بات کرنے سے قبل ایک دوسری خبر کا بھی ذکر کر دیں کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے چنگ چی (چاند گاڑی) رکشے ممنوع قرار دے دیئے ہیں اور اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ رکشا موٹر وہیکلز کی صفت میں نہیں آتا اور اس سے ٹریفک کی روانی بھی بہت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

ہمارے نظریے کے مطابق ان ہر دو امور میں ان سرکاری محکموں کو معاف یا نظر انداز کر دیا گیا ہے، جن کی کرپشن، غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے اور یہ صرف اسلام آباد اور کراچی کے نہیں ہیں، پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر متاثر ہے، جہاں تک اسلام آباد سیکٹر11کی اراضی کا تعلق ہے تو یہ بات بالکل درست ہے کہ کسی بھی خالی جگہ پر جو کسی اور کی ملکیت ہو۔ یہ کس کو حق پہنچتا ہے کہ وہ وہاں آ کر اپنا کچا پکا گھر بنا کر رہنے لگے، متعلقہ محکمے نظر انداز کریں اور پھر آبادی بڑھ جائے،اور جب یہ قبضہ واگزار کرایا جائے تو اسے انسانی مسئلہ بنا لیا جائے۔ پہلی بات تو یہ کہ افغان مہاجرین کے لئے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر قواعد و قوانین موجود ہیں، جن کی بنا پر ان کو رجسٹریشن کرا کے مقررہ کیمپوں تک محدود رہنا چاہئے، سب جانتے ہیں کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ یہ حضرات پورے مُلک میں پھیل گئے اور افغان بستیاں بھی بنائیں، ان کی بستی بنتے وقت یا کسی ایک علاقے میں ان مہاجرین کے اجتماع کو نظر انداز کیا گیا، جس کی وجوہات بہرحال، کرپشن، نااہلی، کام چوری اور لاپرواہی ہیں، اور اب جب خود سی ڈی اے کو ضرورت پڑی تو پوری قوت کے ساتھ کارروائی کر کے زمین کا قبضہ واگزار کرا لیا گیا، اور وہ افغان مہاجر جو یہاں بس کر روزگار بھی کمانے لگ گئے تھے۔ پھر سے بے گھر ہو گئے، زمین کا قبضہ تو لے لیا گیا، لیکن ابھی تک یہ اطلاع نہیں کہ غفلت ، لاپرواہی اور نااہلیت کے مرتکب سی ڈی اے کے ملازمین (اہلکار اور افسر )کو تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائی ہوئی کہ نہیں، حالانکہ یہ سب لوگ برابر ہی نہیں، بلکہ اس سے زیادہ قصور وار ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے۔

اِسی طرح کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر موٹر سائیکل رکشا پر پابندی لگا دی گئی اور یوں ہزاروں رکشا بند ہو گئے اور روزگار کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہ بھی اِسی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہے کہ جب شروع ہوا تو نہ صرف یہ کہ روکا نہیں گیا، بلکہ اضافہ ہوتا چلا گیا تو وہ بھی برداشت کر لیا گیا۔ یہاں بھی غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب اہل کاروں کا کوئی ذکر نہیں، جن کی وجہ سے اتنے لوگ بے روزگار ہو گئے۔یہ مسائل صرف اسلام آباد اور کراچی کے نہیں، لاہور میں سکیموں کے پلاٹوں پر خانہ بدوشوں کی جھگیاں، گدھا گاڑیاں، موٹر سائیکل رکشا اور غیر منظور شدہ کچی آبادیاں مسائل پیدا کر رہے ہیں اور جو کچھ اسلام آباد اور کراچی میں ہوا، یہاں بھی کرنا ہو گا، پھر سوال یہی ہے کہ روزگار کا کیا ہو گا، جو لوگ متعلقہ محکموں کے اہلکاروں کی حرام خوری کے باعث مسائل پیدا کرتے ہیں، وہ اپنے لئے روزگار بھی تو پیدا کر رہے ہیں۔ یہ سب امور سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی ہونا چاہئے۔ سندھ اور اسلام آباد کی مثال پر عمل تو ہونا چاہئے تاہم اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان سب کے لئے نئے روزگار کے وسائل بھی پیدا کرے۔ بات گر بہ گشتن روزِ اول والی ہے۔ نہ ہوئی تو یہ سب ہو رہا ہے۔

مزید : کالم