تبدیلی کا ریلہ

تبدیلی کا ریلہ
تبدیلی کا ریلہ

  

اُس نے جب یہ کہا کہ اب سیاست دانوں کی جان صرف مارشل لاء سے ہی چھوٹ سکتی ہے، تو مَیں حیرت سے اُس کی طرف دیکھنے لگا۔ مارشل لاء سے تو سیاست دانوں کی جان شکنجے میں آتی ہے کہ یہ چھوٹنے کی بات کر رہا ہے، مَیں نے سو چا کہ یہ ایک عام سطح کی سوچ رکھنے والا آدمی ہے، اسے کیا معلوم یہ کیا کہہ رہا ہے۔ مَیں اسے کریدنا بھی نہیں چاہتا تھا، مگر یوں لگتا تھا جیسے وہ خود اپنی بھڑاس نکالنا چاہتا ہو۔ اُس نے کہا آپ بلا وجہ حیران ہو رہے ہیں، حالا نکہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ فوج ماضی میں جب مارشل لاء لگاتی رہی ہے، تو سب سے زیادہ فائدہ سیاست دانوں نے ہی اٹھایا ہے۔ مجھے بتائیں کہ کسی مارشل لاء میں کسی سیاست دان کا احتساب ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کوضیاء الحق نے احتساب کی وجہ سے نہیں، خوف کی وجہ سے پھانسی چڑھایا اور پرویز مشرف نے شریف برادران کو اِس لئے پہلے گرفتار ،پھر مُلک بدر کیا کہ وہ اُس کے لئے مسائل پیدا کر سکتے تھے۔ باقی جو چور اور لٹیرے تھے، اُن کا تو بال بھی بیکا نہیں ہوا، بلکہ الٹا انہیں مراعات ملیں، وزارتیں دی گئیں اور انہیں خاموش رکھنے کے لئے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پھر مارشل لاء چونکہ سیاست دانوں کو ایک نئی زندگی بھی دے دیتا ہے، اس لئے موجودہ حالا ت میں وہ جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر دُعا مانگ رہے ہیں کہ مُلک میں مارشل لاء لگ جائے۔ فوج اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لئے ہماری بیساکھیاں استعمال کرے اور وہ سب کچھ بھول جائے، جو اِس و قت ہو رہا ہے یا فوج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کی طویل گفتگو سُن کر مَیں تھوڑا سا بیزار بھی ہوا، لیکن یہ سوچے بغیر بھی نہ رہ سکا کہ اس میں سب کچھ خلا ف منطق اور خلا ف روایت بھی نہیں کہا گیا۔

مَیں خود بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت سیاست دانوں کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ اُس تبدیلی کا حصہ بن جائیں اور اُس کی کھل کر حمایت کریں، جو اس وقت ہر پاکستانی محسوس کر رہا ہے اور جس میں قانون کی حکمرانی اور بے دریغ احتساب کی روایت پروان چڑھ رہی ہے یا پھر اُس کی مخالفت کریں اور فوج کو ناکام بنانے کی کوشش کریں، جو موجودہ حالات میں تقریباً ناممکن سی بات نظر آتی ہے۔ تیسرا راستہ وہی ہے، جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے کہ مُلک میں مارشل لاء لگ جائے اور سیاست دان جمہوریت کا ڈھول گلے میں ڈال کر میدان میں نکل آئیں اور اسے بجانا شروع کر دیں۔ فوج کسی صورت میں بھی یہ کام کرنے کو تیار نہیں، چاہے اُس کے مشن کی راہ میں کتنی ہی رکاوٹیں حائل ہوتی رہیں، سو راستہ صرف ایک ہی بچا ہے کہ اس تبدیلی کا ساتھ دیا جائے۔ فوج ایک مددگار کے طور پر حکومت کے ساتھ موجود رہنا چاہتی ہے ،تاہم اُس کی خواہش اور حکمت عملی یہی ہے کہ سیاسی حکومتیں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ کوئی مفروضوں کی بنیاد پر فوج کے اُس کردار کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرے، جو وہ قومی سلامتی،مُلک میں قانون کی عملداری، کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ادا کر رہی ہے۔ اسے تو پوری قوم کی تائید حاصل ہو چکی ہے۔ اُس کی کامیابی تو اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ بڑے بڑے واقعات بھی معمول کی کارروائی سمجھے جانے لگے ہیں۔

ملک اسحاق کی اپنے دو بیٹوں اور درجن بھر ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد کسی ردعمل کا سامنے نہ آنا بھی ایک بدلی ہوئی فضا کو ظاہر کر رہا ہے، وگرنہ تو ان کی گرفتاری پر بھی وہ ردعمل سامنے آتا تھا کہ جس سے حکومتیں ہمیشہ خائف رہتی تھیں۔ بدلی ہوئی فضا میں عام آدمی کو یقین ہوچکا ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جرنیلوں کواحتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب اسے ممکنات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیروں کے خلا ف مقدمات درج ہو رہے ہیں، بیورو کریٹس جان بچانے کے لئے بھاگ رہے ہیں، ججوں کے اندر خود احتسابی کا نظریہ پروان چڑھ رہا ہے، سندھ کے چیف جسٹس نے ماتحت عدالتوں کے پانچ ججوں کو کرپشن کے الزام میں ملا زمتوں سے برخواست کر دیا ہے۔ نیب میں جان پڑ چکی ہے۔ ایف آئی اے متحرک نظر آ رہی ہے، فوجی و سول قیادت میں اس حوالے سے ہم آہنگی دیکھنے کو مل رہی ہے، سو اب آنکھ والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں، لیکن اگر کوئی دیکھنا ہی نہ چاہے تو یہ اُس کی کوتاہ نظری بھی ہے اور مجرمانہ غفلت بھی، جس کا خمیازہ اُسے ضرور بھگتنا پڑے گا۔

آج بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوج نے پہلے خود ہی معاشرے میں کچھ بیج بوئے تھے، اب انہیں تناور درخت بننے کے بعد کاٹ رہی ہے۔ طالبان ہوں یا کراچی کے حالا ت ، فوج نے اپنے نظریۂ ضرورت کے تحت انہیں پروان چڑھایا، اسی طرح سیاسی لبادہ اوڑھنے والے جرنیلوں نے سیاست دانوں کو کرپٹ کیا، تاکہ وہ اُن کے سامنے سر نہ اُٹھا سکیں، اُن کی فائلیں تیار کروائیں اور اُن کی کمزوریوں کو اپنی طاقت کے لئے استعمال کیا۔ مَیں کہتا ہوں یہ سب باتیں درست ہیں، کیونکہ یہ تاریخ کا حصہ ہیں ۔اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ فوج نے اب قومی مفاد کی خاطر یو ٹرن لیا ہے اور اُن تمام پالیسیوں پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے، جو مُلک و قوم کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہی تھیں۔ جنرل راحیل شریف نے خود کو سیاست میں ملوث کئے بغیر مُلک کے دیرینہ مسائل حل کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے، اُس کی تائید کی جانی چاہئے۔ یہ تائید سب سے پہلے سیاست دان کریں، کیونکہ وہ جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار بنتے ہیں، مگر اس حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ جمہوریت اُسی وقت مضبوط و مستحکم ہوتی ہے، جب عوام مطمئن ہوں۔ عوام میں بے چینی کو جمہوریت کی مضبوطی کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ عوام آج اگر پُرامید ہیں تو اس کی وجہ مُلک میں موجودہ جمہوری نظام نہیں، بلکہ فوج کی طرف سے ایک بڑا اور جرأت مندانہ کردار ہے۔ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل سے عوام کو یہ باور کرائیں کہ اس تبدیلی کے پیچھے جمہوریت کا ہاتھ ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اگر آج یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے21ویں ترمیم کو برقرار اور فوجی عدالتوں کو جائز قرار دینے کا معاملہ پارلیمینٹ کی فتح ہے، تو سیاست دانوں کو یہ کریڈٹ بھی لینا چاہئے کہ مُلک میں جو تبدیلی نظر آ رہی ہے اور قانون کی حکمرانی کا جو یقین پیدا ہو رہا ہے، اُس کی وجہ بھی پارلیمینٹ ہے، کیونکہ پارلیمنٹ نے یہ تہییہ کر لیا ہے کہ جس طرح دہشت گردی کو برداشت نہیں کرنا، اُسی طرح کسی کرپٹ فرد کو بھی نہیں چھوڑنا، اور اس مقصد کے لئے ریاستی ادارے جو بھی پالیسی بنائیں گے، اُس کی بھرپور تائید و حمایت کی جائے گی۔ صرف یہی ایک راستہ ہے، جو سیاست دانوں کو عوام کے غیظ وغضب اور آنے والے دِنوں میں کسی بڑی آفت سے بچاجا سکتا ہے۔قومی تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کہ ریاستی اداروں میں ٹکراؤ کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی، حالا نکہ ماضی میں اس سے کم تر درجے کے واقعات اداروں کے درمیان تصادم کا باعث بن جاتے تھے۔ ریاستی ادارے اب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اسے سامنے رکھ کر فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ جب سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا گیا تو سب سے پہلے یہ افواہ اڑائی گئی کہ فوج اور عدلیہ آمنے سامنے آ گئے ہیں، مگر یہ تاثر اُس وقت جھاگ کی طرح بیٹھ گیا، جب سرپم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو آئین کے مطابق قرار دے دیا۔

اس سے پہلے آپریشن ضربِ عضب کو شروع کرنے کے مسئلے پر یہ سمجھا گیا کہ فوج اور سول قیادت میں شدید اختلا فات پیدا ہو جائیں گے، مگر یہ مرحلہ بغیر کسی رکاوٹ کے عبور ہو گیا۔ رینجرز نے دہشت گردی کے ساتھ کرپٹ مافیا کے خلا ف بھی کارروائیاں شروع کیں، تو کہا گیا کہ وہ حدود سے تجاویز کر رہی ہے، مگر جلد ہی یہ اعتراض بھی ختم ہو گیا۔ یوں ریاست کے تین ستون، یعنی مقننہ، عدلیہ اور فوج مُلک کو درپیش مسائل کے خاتمے کی کوششوں میں یکجا نظر آتے ہیں ۔تاثر یہ ہے کہ مقننہ میں موجود بعض شخصیات اس آپریشن کی زد میں آئیں گی، اس لئے سیاست دانوں کو اب بھی حلیف نہیں سمجھا جا سکتا۔وہ نیشنل ایجنڈے کے خلاف اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کریں گے، یا پھر وہ چاہیں گے کہ ایسے حالا ت پیدا کر دئے جائیں کہ فوج غیر آئینی اقدام پر مجبور ہو جائے اور وہ ایک بار پھر شہید جمہوریت بن جائیں، ایسے لوگوں کی سیاست اور اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ اب ایسے لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی ،جسے استعمال میں لا کر وہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا سکیں۔ وہ اگر تبدیلی کے ریلے کے سامنے رکاوٹ بننے کی کوشش کریں گے تو نشانِ عبرت بن جائیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے کچھ لوگ اب تک نشانِ عبرت بن بھی چکے ہیں۔

مزید : کالم