منظم دھاندلی!ہرچند کہیں کہ ہے،نہیں ہے

منظم دھاندلی!ہرچند کہیں کہ ہے،نہیں ہے
منظم دھاندلی!ہرچند کہیں کہ ہے،نہیں ہے

  

پاکستان کا ایک مشہور پہلوان ہے جس کا اسمِ گرامی ہے بھولا بھالا، لیکن وُہ اتنا بھولا بھالا بھی نہیں۔ لگتا ہے مخالف پہلوان کو چکر دینے کے لئے اُس نے اپنا نام بھولا بھالا رکھ چھوڑا ہے تاکہ وُہ اُسے بھولا بھالا سمجھ کر آسان لے اور مشکل میں پھنس جائے۔ نیک بخت کُشتی کے دوران ایسی ’’اندر لی‘‘اور ’’باہر لی‘‘مارتا ہے کہ مخالف چاروں شانے چت گر جاتا ہے۔ اگر ’’اندر لی‘‘اور ’’باہر لی‘‘کام نہ دکھا سکیں تو ایسا دھوبی پٹرا مارتا ہے کہ مخالف زمین پر لیٹ کر دن کو نظر آنے والے تارے گننے لگتاہے۔

اب ذرا سیاست کے بھولے بھالے پہلوان عمران خان کی بات ہو جائے ۔ ان کانام بھولا بھالا نہیں ہے، لیکن بعض اوقات وُہ ایسا کام کر جاتے ہیں کہ جی چاہتا ہے وُہ اپنا نام عمران خان بھولا بھالا رکھ لیں۔ فرماتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری میں دھاندلی کے ساتھ منظم کا لفظ ڈال کر ہمیں دھوکا دیا گیا اور یہ کام مسلم لیگ (ن) نے کیا۔ گویا انہوں نے منظم کا لفظ ڈال کر سارا معاملہ یوں خراب کر دیا جیسے گرما گرم حلیم کی دیگ میں چھپکلی پھینک کر دیگ کا بیڑہ غرق کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ کمیشن کو بجاطور پر یہ فیصلہ دینا پڑا کہ منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے۔

ویسے تو میاں نوازشریف بھی ایک بھولے بھالے اور شریف النفس انسان ہیں۔ ان کے والد جناب میاں محمد شریف (مرحوم )نے ، جو میرے بزرگ دوست اور ہمسائے تھے،ایک بار باتوں باتوں میں اُن کے بارے میں کہا کہ میرا یہ بیٹا بہت سیدھا ہے۔ (انہوں نے جلیبی کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا)۔ بھولا بھالا ہونے کے باوجود میاں نواز شریف میں یہ خوبی ہے کہ وُہ خود کو عقلِ کُل نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے اپنے دائیں بائیں، کچن ایریا میں، چند نہایت معاملہ فہم اور دور اندیش لوگ جمع کر رکھے ہیں جو انہیں نہایت صائب مشورہ دیتے ہیں، جس پر میاں صاحب عمل کر کے ممکنہ بحران سے بچ جاتے ہیں۔اب میں ذرا تفصیل سے عرض کروں گا کہ لفظ منظم نے کیا ستم ڈھایا اور یہ لفظ ڈالنے والے دھاندلی کے الزام سے کیوں صاف بچ گئے۔ قصّہ یہ ہے کہ منظم دھاندلی کی ترکیب (Phrase)کے اندر تضاد موجود ہے۔ لفظِ منظم کی Connotation مثبت ، جبکہ دھاندلی کی منفی ہے۔ یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں اور الگ الگ با معنی ہونے کے باوجود مل کر بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جیسے پلس ون اور مائنس ون مل جائیں تو صفر ہو جاتے ہیں۔ اب میں منظم دھاندلی جیسی چند ترکیبیں آپ کے گوش گزار کرتا ہوں : ٹھنڈی آگ ، سفید کوّا ، فضول خرچ کنجوس ، رحمدل قاتل ، تنگ دل سخی،تجربہ کار بچہ، اندھا رہنما، خشک بادل، دو خاموش عورتیں وغیرہ۔

منظم کام مخصوص ضابطوں اور طے شدہ اُصولوں کے تحت ہوتا ہے۔ دھاندلی تما م اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کی جاتی ہے۔ منظم کام کے لئے نیک نیتی، ایمانداری اور ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔دھاندلی کے لئے مکاری، بے ایمانی اور بد نیتی کی ضرورت ہوتی ہے۔منظم کام سب کے سامنے، اچھے لوگوں کے تعاون سے کیا جاتا ہے، دھاندلی چھپ کر کرپٹ لوگوں کی ملی بھگت سے کی جاتی ہے۔ منظم کام معاشرتی بہتری کے لئے کیا جاتا ہے، جبکہ دھاندلی ذاتی مفاد کے لئے کی جاتی ہے۔ منظم کام ترقی کا باعث بنتاہے، دھاندلی تنزل کا سبب بنتی ہے۔ منظم کام پسندیدہ اور دھاندلی انتہائی نا پسندیدہ چیز ہے، چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ منظم دھاندلی ایک بے معنی اور گمراہ کن بات ہے۔ اِس کا وجود ہی نہیں ہوتا لہٰذا اِسے ثابت کرنے کی کوشش کرنا سعی رائیگاں ہے۔اللہ جانے عمران خان صاحب کو یہ امید کیوں تھی کہ کمیشن کا فیصلہ منظم دھاندلی کے حق میں آئے گا۔

تحریک انصاف میں یقیناًایسی شخصیا ت بھی ہیں، جن سے اگر مشورہ کیا جاتا تو منظم دھاندلی کے پھندے سے بچا جا سکتا تھا۔ یوں لگتا ہے خان صاحب نے اس مسئلے پر کسی سے سنجیدہ صلاح مشورہ نہیں کیا اور مخالفین کے ہوشیاری سے پھیلائے گئے جال میں پھنس گئے۔ بہرحال کمیشن کے قیام کا کریڈٹ خان صاحب ہی کو جاتا ہے۔ مذکورہ بالا ہلکی سی لغزش سے تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ آخری عدالت عوام کی ہوتی ہے جس کا فیصلہ خانصاحب کے حق میں ہے۔ تاہم خانصاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ آئندہ کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے چودھری سرور سے ون ٹو ون ملاقات ضرور کر لیا کریں۔ چودھری صاحب تحریک کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ خان صاحب بلا خوف و خطر ان پر انحصار کر سکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی خانصاحب کئی بار نا تجربہ کاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ مثلا جب خانصاحب نے جاوید ہاشمی کو تحریک میں شامل کیا تھا ، میرا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا ۔ ہاشمی صاحب کو بغاوت کی obsession ہے۔ ان سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جنت میں پہنچ کر وہاں بھی عَلمِ بغاوت بلند کردیں، جس شخص کو اپنے باغی ہونے پر فخر ہو ، وہ جہاں بھی ہوگا بغاوت کی گنجائش نکال کر اپنا شوق پورا کر لے گا،کیونکہ ’’شوق دا کوئی مُل نئیں ہُندا‘‘۔سنا ہے اب وہ پھرمسلم لیگ (ن) میں شامل ہو رہے ہیں۔ اگر میاں صاحب نے جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) میں شامل کر لیا تو اُنہیں ہاشمی صاحب کی ذات سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچے گا۔ اگر میاں صاحب نے انہیں داخل کرنا ہی ہے، تومسلم لیگ کے بجائے اتفاق ہسپتا ل کے Psychiatry کے شعبے میں داخل کر لیں۔ آخر میں میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہاشمی صاحب کو جسمانی اور ذہنی تکالیف سے شفا عطا فرمائے (آمین!)

مزید : کالم