34کروڑ 77لاکھ26ہزار سے زائد مالیت کا مال مسروقہ مالکان کے سپرد ہو چکا ،سی سی پی او

34کروڑ 77لاکھ26ہزار سے زائد مالیت کا مال مسروقہ مالکان کے سپرد ہو چکا ،سی سی پی ...

لاہور(سٹی رپورٹر)سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے کہا ہے کہ لاہور پولیس رواں سال کے دوران اب تک ڈاکوؤں ، راہزنوں اور چوروں کے 899گینگز کے2841ملزموں کو گرفتار کر کے ان سے 34کروڑ 77 لاکھ 26 ہزار 645 روپے (347726645) مالیت کامال مسروقہ اور نقدی ان کے حقیقی مالکان کے سپرد کر چکی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز الحمراء ہال میں ڈکیتی، راہزنی اور چوری کے درجنوں مقدمات کے مدعیوں سے لوٹے گئے سات کروڑ روپے مالیت کی نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء ان کے حقیقی مالکان میں تقسیم کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری، ایس ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔ سی سی پی او نے کہا کہ عوام کے جان، مال اور عزت کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور لاہور پولیس اس فرض کی ادائیگی کے لیے شب و روز کوشاں ہے یہی وجہ ہے کہ اگر ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں ہو رہی ہے تو پولیس ان وارداتوں میں ملوث ملزموں کو نہ صرف گرفتار کر رہی ہے بلکہ ان کی نشاندہی پر شہریوں سے لوٹا ہوا مال برآمد کر کے اصل ورثاتک پہنچا بھی رہی ہے۔برآمدگی کی رقم وصول کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کی رہائشی خاتون راحیلہ یاسمین نے کہا کہ میرا پولیس سے کسی بھی مسئلے کے سلسلے میں پہلی دفعہ رابطہ ہوا ہے اور مجھے انتہائی خوشی ہے کہ اُنہوں نے میرے ساتھ ہونیوالی ڈکیتی کی واردات کے بعد نہ صرف تھانے جانے پر فوری میریFIRدرج کی بلکہ تفتیش کے دوران بھی مجھے کسی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور میری چھینی ہوئی رقم آج مجھے واپس مل رہی ہے۔اقبال ٹاؤن کے رہائشی شہزاد احمد نے برآمد گی وصول کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی زیادہ خوشی اس وقت ہوئی تھی جب واردات کے بعد ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک خود جائے وقوعہ پر آئے اور مجھے اس طرح تسلی دی جیسے گھر کے فرد ہوں۔ بابا عمر دین نے برآمدگی وصول کرتے ہوئے فرطِ جذبات سے لبریز ہوکر کہا کہ میری بڑی حق حلال کی کمائی تھی اور جس طرح پولیس نے میری عمر بھر کی کمائی 30لاکھ روپے مجھے واپس دلائے ہیں میرے نزدیک تو پولیس خدائی خدمت گار کا کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر کیپٹن محمد امین وینس نے کہا کہ ایس ایچ اوز کا لاء اینڈ آرڈر ڈیوٹی اور عدالتوں یا فیلڈ میں ہونے کے باعث تھانے میں موجود نہ ہونے سے شہریوں میں یہ تاثر جاتا تھا کہ کام کرانا تو دور کی بات پولیس والے تو ملتے ہی نہیں ہے اور اسی تاثر کو ختم کرنے اور پولیس و شہریوں کے درمیان حائل خلیج کو پُر کرنے کے لیے تھانوں میں ایڈمن افسروں کی تعیناتی کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے تا کہ پریشانی کی حالت میں تھانے آنے والے افراد کو ایسا فورم مہیا ہو جہاں نہ صرف ان کی بات تسلی سے سنی جائے بلکہ ایڈمن افسران انہیں یہ اطمینان دلائیں کہ ہم ان کا مسئلہ ذاتی سمجھ کر حل کریں گے۔ اور مجھے یہ کہتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے اس پراجیکٹ کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث تھانہ کلچر تبدیلی کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔

مزید : علاقائی