پنجاب کے خواص نے مان لیا

پنجاب کے خواص نے مان لیا
پنجاب کے خواص نے مان لیا

  

پنجاب کے خواص نے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم پاکستا ن مان لیا ہے، جیوڈیشل کمیشن کے فیصلے نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں اور میاں نواز شریف کے مینڈیٹ پر وہ مہر تصدیق ثبت کردی ہے جو ڈیڑھ کروڑ ووٹ مل کر بھی نہ کر سکے تھے ۔ان خواص میں سردار ذوالفقار کھوسہ جیسے جاگیردار، صمصام بخاری جیسے ایک حلقے کے سیاستدان ، طاہرالقادری جنوبی پنجاب کے میڈیا گرو اور بڑے بڑے صنعتکار شامل تھے ۔ یہ خواص کہیں پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کرنے کے لئے پر تولے بیٹھے تھے ،کہیں پنجاب حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی دھجیاں اڑا رہے تھے تو کہیں دھرنے کی کامیابی کے لئے لاکھوں کروڑوں کے فنڈ مہیا کر رہے تھے۔جبکہ پنجاب کے عوام میاں نواز شریف کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے چوروں کی طرح گھوم رہے تھے کیونکہ پنجاب کے خواص نے ان کا مینڈیٹ ماننے سے انکار کردیا تھا اور جنرل پاشا کی ہدائت پر پی ٹی آئی کے پیچھے یکجا ہو گئے تھے !

پنجاب کے خواص نے مئی 2013کے انتخابات سے جیوڈیشل کمیشن کے فیصلے تک میاں نواز شریف کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا تھا ، لیکن جیوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد سے ان کو خاصا آرام ہے، اب انہوں نے میاں نواز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم سمجھنا اور ماننا شروع کردیا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اب پیپلز پارٹی کی وہ قطار تتر بتر ہو گئی ہے جو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے لئے لگی ہوئی تھی ، یہی نہیں بلکہ گوہر اعجاز نے بھی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے تگ و دو شروع کردی ہے اوردھمکی دی ہے کہ اگر میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم ان سے ملاقات نہ کی تو وہ پوری انڈسٹری بند کروادیں گے۔

جب پاکسان تحریک انصاف نے اچانک سونامی مارچ کا اعلان کیا جو بعد میں ملین مارچ اور پھر آزادی مارچ میں تبدیل ہوا تو لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور بہاولپور میں ہونے والے بہت سے جلسوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی قیادتوں نے چپکے سے اپنے چیلے چانٹوں کو تحریک انصاف کے جلسے بھرنے کا مشن سونپا ہوا تھا۔ یہ وہی صورت حال تھی جو مئی 2013کے انتخابات کے دن تھی کہ جیالوں نے سینوں پر سٹیکر تو پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لگائے ہوئے تھے مگر وہ ٹھپے تحریک انصاف کے امیدواروں کو لگا رہے تھے ۔ بعد میں جب آزادی مارچ چل پڑا تو قمر زمان کائرہ صاحب پاکستان تحریک انصاف کی وکالت میں کائیں کائیں کرتے رہے ، دھرنے کی ناکامی کے بعد جب جیوڈیشل کمیشن بیٹھ گیا تو کمیشن کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کے لئے اشرف سوہنا اور صمصام بخاری نے میڈیا کے شوروغوغا کے ساتھ تحریک انصاف کو جوائن کیا، ادھر افضل چن کو بھی بتایا جا رہا تھا کہ میں تمھارا منتظر ہوں، افضل چن کی فیملی بھی نیم دروں نیم بروں کے مصداق صاف چھپتی بھی نہین تھی اور سامنے آتی بھی نہیں تھی۔ لیکن جیوڈیشل کمیشن کے دوٹوک فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کی سازشیں دم توڑ گئی ہیں اور میاں منظور وٹو کو ایسے بیانات دینے کی ضرورت نہیں پڑ رہی ہے کہ آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی پنجاب متحد ہے، اب پیپلز پارٹی پنجاب متحد ہو یا منتشر یہ بات طے ہے کہ وہ حشر بپا نہیں کر سکی ہے جس کا تانا بانا جناب آصف زرداری صاحب اگلی باری پھر زرداری کے نعرے کے وقت سے بن رہے تھے!

ادھر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ جیسے جاگیردار بھی ایک گروپ کی صورت میں پی ٹی آئی یا پھر پرویز مشرف کو جوائن کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے لیکن جب سے پی ٹی آئی کا دھرنا پٹ گیا ہے تب سے میڈیا ان کی بھی کوئی خبر نہیں دے رہا ہے ، کچھ ایسا ہی حال علامہ طاہرالقادری اور جماعت اسلامی کے سراج الحق کا ہے، اب ان کے نکتہ آفریں بیانات بھی دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں مل رہے ہیں۔پنجاب کے صنعتکاروں کا ایک بڑا گروہ بھی اپنے آپ کو پڑھے لکھوں میں شمار کروانے کے لئے مئی 2013کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو نوٹ بھی دے رہا تھا اور ووٹ بھی، بعد میں جب دھرنا شروع ہوا تو بھی یہ حضرات بزنس مین بنے رہنے کی بجائے بجرنگی بھائی جان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اب جب کہ پی ٹی آئی پٹ گئی ہے تو یہ صنعتکار بھی بیبے بچوں کی طرح حکومت سے کاروباری مراعات کی بھیک مانگنا شروع ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے جملہ خواص اس وقت بے یارومددگار ہیں ، ان کے لئے جائے ماندن ہے نہ پائے رفتن، وہ کبھی عمران کو اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں، پنجاب کے عوام جیت گئے ہیں، ان کو یہ جیت مبارک ہو!

مزید : کالم