پانی کا سیلاب اور قرارادادوں کاسیلاب

پانی کا سیلاب اور قرارادادوں کاسیلاب
 پانی کا سیلاب اور قرارادادوں کاسیلاب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک کے سیاسی منظر نامے میں اب سیلاب کوئی خبر نہیں رہا۔ بلکہ ملک کے سیاسی منظرنامہ پر تو اس وقت قراردادوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ یہ قراردادوں کا سیلاب بھی پانی کی طرح ہے۔ جس طرح سیلاب کا پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے اور با لا آکر سمندر میں پہنچتا ہے۔ اسی طرح قراردادوں کا یہ سیلاب بھی قومی اسمبلی سے بہتا ہوا نیچے صوبائی اسمبلیوں تک پہنچ گیا ہے۔ پہلے اس بات کا خدشہ تھا کہ قراردادوں کا یہ سیلاب اوپر قومی اسمبلی میں کوئی بڑا نقصان نہ کر دے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ریسکیو والوں نے قومی اسمبلی کو قرادادوں کے سیلاب کے بڑے نقصان سے بچا لیا۔

اب قرارداوں کا یہ سیلاب نیچے اتر گیا ہے۔ ساری صوبائی اسمبلیوں میں قائد ایم کیو ایم الطا ف حسین کے خلاف قراردادیں پاس ہو رہی ہیں۔ یہ قرارداد پہلے پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے جمع کروائی۔ مجھے شدید اختلاف تھا کہ پنجاب اسمبلی میں الطا ف حسین کے خلاف قراداد منظور کروائی جائے۔ پہلے پنجاب پر کم الزامات ہیں۔ جو الطاف حسین کے خلاف اس نازک موقع پر قراداد کا ملبہ بھی پنجاب اٹھا لے۔ لیکن چلو شکر ہے کہ قراردا د سندھ اسمبلی اور آزاد کشمیر سے پاس ہو گئی ہیں۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب سے بھی پاس ہو جائے کوئی حرج نہیں ۔ لیکن میری اب بھی رائے یہی ہے کہ پنجاب کو اجتناب ہی کرنا چاہئے۔

قراردادوں کے اس سیلاب میں ہم اصل سیلاب کو بھول ہی گئے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ٹھیک کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ قراردادوں کے سیلاب کے ٹھہر جانے کے بعد اب ارکان عوامی فلاح کے معاملات پر توجہ دیں گے۔سیلاب کے حوالہ سے میرا بھی یہی خیال تھا کہ ملک میں پانی کا سیلاب تھم گیا ہے تبھی تو عوامی نمائندے قرادادوں کا سیلاب لے آئے ہیں۔ ورنہ ان کی توجہ پانی کے سیلاب پر ہی ہو تی۔ میڈیا بھی سیلاب سے توجہ کم کر چکا ہے۔ اس کی توجہ بھی قرادادوں پر ہی نظر آرہی ہے۔ کہیں پانی کے سیلاب کا کوئی شور ہی نہیں تھا۔ عمران خان جن کو پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر شور مچانے پر سب سے زیادہ مہارت حاصل ہے ۔ وہ بھی قرادادوں کے سیلاب میں ہی بہہ چکے تھے۔ پانی کے سیلاب پر وہ بھی کوئی خاس بات نہیں کر رہے تھے۔ بس ایک دن وہ راجن پور کے ایک بڑے جاگیردار کے مہمان تھے ۔ جہاں اس نے اپنی جاگیر میں اپنے مزراعین اکٹھے کئے ہوئے تھے۔ اور عمران خان نے مزاری جاگیرداروں کے ان کمزور مزارعین کے سامنے تبدیلی کی بات کر کے سیلاب میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ کاش کوئی عمران خان کو سمجھا سکتا کہ جب آپ راجن پور میں مزاریوں کے مہمان ہو نگے تو نہ سیلاب رک سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیلی آسکتی ہے۔ اس کے بعد عمران خان پتوکی میں نکئی کے ڈیرہ پر پہنچ گئے۔ نکئی بھی پنجاب کے بڑے جاگیردار ہیں۔ اور جب عمران خان سیلاب کے موسم میں نکئی کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہہ رہے تھے تو قصور میں ان کی پارٹی کے بانی ارکان کو سٹیج پر آنے کی اجازت نہیں تھی۔

بہر حال قراداروں کا سیلاب اپنے جوبن پر ہے۔ لیکن زیادہ دکھ کی بات ہے کہ پانی کا سیلاب بھی اپنے جوبن پر ہے۔ سیلاب پر ویسے تو حکومت سب اچھے کی رپورٹ دے رہی ہے۔ ساری حکومتیں ہی سب اچھے کی رپورٹ دے رہی ہیں۔ لیکن فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبد الرؤف کے ساتھ گفتگو میرے لئے حیرانگی کا باعث تھی۔ وہ آجکل دریا سندھ میں سیلاب پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے ازراہ مذاق کہاکہ پانی اتر گیا ہے ۔ بھائی واپس آجائیں۔ تو وہ مجھ پر برس پڑے۔ کہنے لگے آپ پانی کے اترنے کی بات کر رہے ہیں۔ پچھلے چند روز میں پانی کی سطح میں چار فٹ اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پانچ سو دیہات گیارہ سے تیرہ فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی پچیس کشتیاں لوگوں کو ابھی بھی باہر نکال رہی ہیں۔ جو لوگ پہلے اپنا علاقہ نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اب چھوڑ رہے ہیں کہ پانی بڑھ گیا ہے۔ ہم ابھی بھی روزانہ پانچ ہزار سیلاب متاثرین کو تین وقت کھانا دے رہے ہیں۔ جانوروں کے چارے کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ آپ خود ہی اندازہ لگا لیں جہاں انسان کے لئے کھانا مشکل ہو جائے وہاں جانوروں پر کیا توجہ ہو گی۔ پانی کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ صرف فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اب تک 74ہزار لوگوں کو میڈیکل کی سہولت دے چکی ہے۔

حافظ عبدالرؤف کو گلہ ہے کہ اس بار حکومت تو کام کر رہی ہے لیکن این جی اوز نے سیلاب پر کوئی توجہ نہیں دی۔ صاحب حیثیت لوگ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے نہیں آئے۔ چیمبرز اور تاجر سیلاب زدگان کے لئے نہیں آئے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کوئی کیمپ نہیں لگائے۔ صرف جماعت اسلامی فیلڈ میں نظر آرہی ہے۔

حافظ عبد الرؤف سے بات ختم کرنے کے بعد میں سوچنے لگا کہ واقعی تاجر اور صنعتکار تو ود ہولڈنگ ٹیکس کے چکر میں اتنے مصروف تھے۔ کہ انہیں سیلاب زدگان تو یاد ہی نہیں تھے۔ وہ جو تصویریں اتروا کر ٹرک روانہ کرنے کی رسم تھی ۔ وہ بھی اس سال فوت ہو گئی۔ سیاسی جماعتیں تو قرادادوں کے سیلاب میں مصروف تھیں۔ ن لیگ اس سیلاب کو روک رہی تھی۔ اس لئے مصروف تھی۔ تحریک انصاف کو قراردادوں کے سیلاب سے خطرہ تھا۔ اس لئے وہ تو اسی سے بچاؤ کی تیاری کر رہی تھی۔ کبھی ڈر جاتی تھی۔ اور کبھی ڈراتی تھی کی پالیسی پر عمل کر رہی تھی۔ پیپلزپارٹی سے اس وقت گلہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس کی قیادت تو خود سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے اور ابھی تک کنارے پر نہیں پہنچی ہے جہاں تک الطاف حسین کی بات ہے تو مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں کے مصداق ۔ یہ قراردادوں کا سیلاب شائد ان کے لئے کوئی اتنا سنجیدہ معاملہ نہ ہو ۔ ان کو پتہ ہے یہ قراردادیں سب بے معنی ہیں۔ ایسے ہی ٹائم پاس ہے۔ لوگ شہیدوں میں اپنا نام لکھوا رہے ہیں۔

مزید : کالم