ایم کیو ایم بے بس ،سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کیخلاف قرار داد منظور

ایم کیو ایم بے بس ،سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کیخلاف قرار داد منظور

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک 228سٹاف رپورٹر228آئی این پی) سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی جس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے قائد الطاف حسین کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ الطاف حسین کے خلاف قانونی کارروائی کرے ۔جمعہ کو یہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نند کمار ،پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ثمر علی خان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈ حاجی شفیع جاموٹ نے پیش کی ۔پاکستان پیپلزپارٹی نے اس قرارداد کی حمایت کی ۔ پیپلزپارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب سرکی کے بھی اس قرارداد پر دستخط موجود تھے ۔ایم کیو ایم کے ارکان نے اس قرارداد پر سخت احتجاج کیا ۔وہ نونو ،نعرہ الطاف جئے الطاف اور ہم نہ ہوں ہمارے بعد الطاف الطاف کے نعرے لگارہے تھے ۔ایم کیو ایم کے کے ارکان کی نعرہ بازی اور شور شرابے کے دوران نند کمار ،ثمر علی خان اور حاجی شفیع جاموٹ نے قرارداد پڑھ کر پیش کی ۔شور شرابے میں ہی قرارداد پر رائے شماری ہوئی اور ایوان نے قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ۔قرارداد میں کہا گیا ہے ’’یہ ایوان الطاف حسین کے ان بیانات کی مذمت کرتا ہے ،جن میں انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی اداروں اور غیر ممالک کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔پاک فوج اور سندھ رینجرز کے خلاف بھی الطاف حسین کے بیانات کی یہ ایوان مذمت کرتا ہے ۔ سندھ کو توڑنے سے متعلق ان کے بیانات کی سختی سے یہ ایوان مذمت کرتا ہے ۔یہ ایوان حکومت سندھ سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کرے ،اس سے کہے کہ وہ الطاف حسین کے انتہائی قابل اعتراض بیانات کا نوٹس لے اور ان خلافقانونی کارروائی کرے‘‘ ۔قرارداد کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کردیا ۔اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نند کمار نے مطالبہ کیا کہ ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے ۔پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر سہراب سرکی نے کہا کہ ایم کیو ایم والے ہمارے اتحادی رہے ہیں لیکن پاکستان اور سندھ کے خلاف جو بھی ایسے بیانات دے گا ،ہم اس کی مذمت کریں گے ۔سینئر وزیر اطلاعات اور آبپا شی نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں ،اب کوئی مہاجر نہیں ہے ۔البتہ کوئی اپنے آپ کو اردو بولنے والا کہہ سکتا ہے ۔سندھ میں رہنے والا اگر کوئی بیرونی قوتوں کو سندھ میں مداخلت کی دعوت دے تو یہ قابل برداشت نہیں ،ہم اسے پاکستان کی سا لمیت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول