جعلی اور بغیر لائسنس ادویات تیار کرنیوالی فیکٹریاں قتل گاہیں ہیں ،ہر صورت بند کراؤں گا ،شہباز شریف

جعلی اور بغیر لائسنس ادویات تیار کرنیوالی فیکٹریاں قتل گاہیں ہیں ،ہر صورت ...

لاہور ( این این آئی)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جعلی، غیر معیاری اور بغیر لائسنس ادویات کی فروخت بہت بڑا جرم ہے،جعلی، غیر معیاری اور بغیرلائسنس ادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف پنجاب بھر میں بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا، جعلی اور بغیرلائسنس ادویات تیار کرنے والی فیکٹریاں قتل گاہیں ہیں جنہیں ہر صورت بند کراؤں گا، جعلی ادویات کا دھندہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پنجاب حکومت نے جعلی ادویات کے خاتمے کیلئے ڈرگ ایکٹ 1976 میں ترامیم کر دی ہیں اوراس ضمن میں آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت جعلی ،غیر معیاری اور بغیر لائسنس ادویات تیار کرنے والوں کے خلاف سزاؤں میں اضافہ کیاگیا ہے اورجعلی ،غیر معیاری اور بغیر لائسنس ادویات تیارکرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار سول سیکرٹریٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کے دوران صوبے میں جعلی،غیر معیاری اوربغیر لائسنس ادویات کی تیاری و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف جاری کاروائی پر پیش رفت کا جائزہ لیاگیا اور مستقبل میں صوبے سے اس مکرو ہ دھندے کے مکمل خاتمے کیلئے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے مجوزہ پنجاب ڈرگ اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب ڈرگ اتھارٹی مکمل بااختیار ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اتھارٹی کے قیام کا حتمی مسودہ اور تنظیمی ڈھانچہ تیار کرکے14 روز میں پیش کیا جائے اور احتساب کا کڑا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پنجاب کو جعلی ادویات سے پاک کرکے دم لیں گے اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کی جگہ صرف اور صرف جیل ہے۔بغیر لائسنس ادویات تیار کرنے والے یونٹس کے مالکان کڑی سے کڑی سزا کے حقدار ہیں اورایسے عناصر قانون کے تحت سخت سزا سے نہیں بچ پائیں گے اورسخت سزاؤں او رکڑے اقدامات کے ذریعے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اورجعلی ادویات تیارو فروخت کرنے والے مافیا کا ناپاک گٹھ جوڑ توڑکردم لیں گے۔انہوں نے کہاکہ پولیس،قانون نافذ کرنے والے متعلقہ ادارے اورانتظامیہ مل کر بغیرلائسنس ادویات کی تیاری میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کاروائی کریں۔انہوں نے کہا کہ کوالٹی اور سٹینڈرڈزکو پورا کرنے والے مینوفیکچررز کی ہر تین ماہ بعد حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں جعلی و غیر معیاری ادویات کے خاتمے کیلئے 4 ٹاسک فورسز تشکیل دی جا چکی ہیں اورچاروں ٹاسک فورسز تندہی اورمحنت سے موت کے سوداگروں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں ۔انہوں نے ہدایت کی کہ لائسنس یافتہ ڈرگ مینوفیکچرنگ یونٹس کی آزادانہ انسپکشن کی جائے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے جبکہ بغیرلائسنس ادویات کی تیاری کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے ۔وزیراعلیٰ نے صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے اسے فوری طورپربہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ سیکرٹری پراسیکیوشن صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کی سابقہ کارکردگی کا فرانزک آڈٹ کرکے رپورٹ پیش کریں جبکہ صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے خطے کے بہترین ماڈلز کا بھی جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کا نظام آؤٹ سورس ہونے تک ادویات کے نمونوں کو چیکنگ کیلئے بیرون ملک بھجوانے کا فول پروف میکانزم تیار کیا جائے جبکہ ڈرگ انسپکشن مانیٹرنگ ایولیوشن نظام کا دائرہ کار تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بڑھایا جائے تاکہ مانیٹرنگ کے موثر نظام سے چیک اینڈ بیلنس قائم کیاجاسکے۔وزیراعلیٰ نے جعلی ادویات کے مکروہ کاروبار کے خلاف موثر کارروائی کرنے پر خواجہ عمران نذیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ دیگر ٹاسک فورسز کو بھی فعال اورمتحرک کردارادا کر کے اس ناسور کا خاتمہ کرنا ہے۔ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، پارلیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر، اراکین اسمبلی قاضی عدنان فرید، عبدالعلیم شاہ، ڈاکٹر نادیہ عزیز، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، متعلقہ سیکرٹریز، کمشنر لاہور ڈویژن اور اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے سو ل سیکرٹریٹ سے اجلاس میں شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول