ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن انتخابی مباحثے میں چھا گیا

ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن انتخابی مباحثے میں چھا گیا
ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن انتخابی مباحثے میں چھا گیا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) 2016ء میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کے مباحثے میں بلاشبہ ڈونلڈ ٹرمپ چھا گیا جو انتخابی جائزوں کے مطابق بھی اس وقت سب سے آگے ہے۔ ’’فوکس نیوز‘‘ نے کل سترہ امیدواروں میں سے دس کا انتخاب کرکے ان کے درمیان دو گھنٹے کے مباحثے کا امریکی ریاست اوہائیو کے صدر مقام کلیولینڈ میں جمعرات کی رات اہتمام کیا تھا جسے تمام قومی ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ انتخابی معرکے کی اس پہلی اہم تقریب میں ری پبلکن پارٹی کے دوسرے معتبر امیدوار جیب بش نے بھی امیگریشن اور تعلیم کے حوالے سے اپنے متنازعہ موقف کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا۔ امریکی انتخابی سیاست میں مباحثوں کی روایت تعلقات عامہ کا ایک عمل ہے۔ یہ یقیناً سیاسی جماعتوں کے ارکان کو متاثر کرتا ہے جو پرائمری انتخابات میں اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنی پارٹی کے حتمی امیدوار کا چناؤ کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور جیب بش کے علاوہ جن دوسرے امیدواروں نے اس مباحثے میں حصہ لیا ان میں وسکونسن کے گورنر سکاٹ واکر، ارکنساس کے سابق گورنر مائیک ہکابی، ریٹائرڈ نیورو سرجن سیاہ فام بن کارسن، ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈکروز، فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو، کنٹکی کے سینیٹر رنیڈ پال، نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی اور اوہائیو کے گورنر جان کاسچ شامل تھے۔

رئیل اسٹیٹ کے ارب پتی مغل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی تقریروں میں بلند آہنگ انداز خطابت اور جرأت مندانہ تنقید کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، انہوں نے اس مباحثے میں بھی اسے جاری رکھا۔ جب کمپیئر نے پوچھا کہ پارٹی کی طرف سے آخری انتخاب ہونے کے بعد کیا وہ پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا عہد کرتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کا کھرا کھرا جواب یہ تھا کہ اگر وہ خود منتخب ہوئے تو وہ ایسا کریں گے ورنہ نہیں۔ مارکو روبیو اور سکاٹ واکر جیسے درمیانی سطح کے امیدواروں نے کسی بڑی غلطی سے احتراز کرتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان تمام امیدواروں میں سے کون سا ایک امیدوار اپنی پارٹی کے ارکان کو متاثر کرکے آئندہ پرائمری انتخابات میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

مزید : صفحہ اول