قتل کیس میں عمر قید پانیوالے مجرم کی لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہائی

قتل کیس میں عمر قید پانیوالے مجرم کی لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہائی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے شہری کو کلہاڑی کے وار سے ٹکڑے کر کے قتل کرنے کے مقدمہ میں عمر قید پانے والے مجرم کو ایک لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ، مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری اور مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مجرم پہلوان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گڑھ مہاراجہ پولیس نے عبدالشکور کی درخواست پر نومبر 2011ء میں خادم حسین کو کلہاڑی کے وار کر کے قتل کرنے کے الزام میں 3افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کیا، ٹرائل کورٹ نے قتل کے مقدمہ میں اکتوبر 2012ء میں درخواست گزار سمیت 2ملزموں کو عمر قید جبکہ ایک ملزم کو سزائے موت کا حکم سنایا ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے مطابق خادم حسین درخواست گزار کے وار سے ہلاک نہیں ہوا تھا،اپیل کے حتمی فیصلے تک درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے، ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نے بنچ کو بتایا کہ مجرم نے 2 ساتھیوں سمیت خادم حسین کو پرانی دشمنی کی بنیاد پر کلہاڑی کے وار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا ،ٹرائل کورٹ نے مجرم کو میرٹ پر عمر قید کی سزا سنائی ہے اور مجرم کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا گیا لہٰذا ضمانت کی درخواست خارج کی جائے، بنچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد شہری کو کلہاڑی کے وار سے ٹکڑے کر کے قتل کرنے کے مقدمہ میں عمر قید پانے والے مجرم کو ایک لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

رہائی

مزید : صفحہ آخر