سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی تفتیش کیلئے کم بجٹ مختص کرنے کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی تفتیش کیلئے کم بجٹ مختص کرنے کا نوٹس لے لیا

اسلام آبا(اے این این) سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کو تفتیش اور پراسیکیوشن کے لئے کم بجٹ مختص کرنے کا نوٹس لے لیا۔جمعہ کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اسمگلنگ کیس میں ملوث ملزم اظہرکی ضمانت منسوخی کے لئے ایف آئی اے کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ایف آئی اے کو ایک سال کے دوران تفتیش کے لئے صرف 15 لاکھ روپے فراہم کئے گئے جب کہ ایف آئی اے نے 11 کروڑ روپے طلب کئے تھے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایف آئی اے کو تفتیش کے لئے فراہم کردہ کم بجٹ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص تفتیش کے باعث ملزم رہا ہوتے ہیں اس لئے اگر آئندہ سماعت پر عدالت کومطمئن نہ کیا گیا تو سیکرٹری داخلہ کوطلب کیا جائے گا۔جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے کہ گیارہ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا صرف پندرہ لاکھ روپے ملے،گیارہ ارب روپے مانگے جاتے تو گیارہ کروڑ روپے ملتے، حکومت کے پاس وسائل نہیں تو تفتیش کا کام ٹھیکے پردے دے،جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا دنیا جہاں کے اللوں تللوں پرحکومت خرچ کرتی ہے،مگراس اہم کام کیلئے حکومت کے پاس پیسے نہیں،تفتیش ناقص ہوتوعدالت کیسے سزادے سکتی ہے،عدالت نے سماعت گیارہ اگست تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر